عمران خان 8ماہ سے قید تنہائی میں ہیں:علیمہ،نورین نیازی
جی بی الیکشن میں جو ہوا اچھا نہیں،آزاد کشمیر کی صورتحال پر ٹھنڈے دماغ سےسوچیں:سلمان اکرم،بیرسٹر گوہر

راولپنڈی:(ویب ڈیسک)بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ عمران خان 8ماہ سے قید تنہائی میں ہیں، جاوید ہاشمی اور اعتزاز احسن نے کہا جو ظلم عمران خان نے برداشت کیا آج تک کسی سیاسی قیدی نے برداشت نہیں کیا۔
اڈیالہ روڈ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا بانی نے بیرون ملک جانے کے بجائے عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کرنے کا کہا، اٹک جیل میں بانی کو انتہائی برے حالات میں رکھا گیا، بانی کے خلاف پاکستان کا مہنگا ترین سائفر کیس چلایا گیا جو جھوٹا ثابت ہوا، بانی کے خلاف توشہ خانہ کیس بھی جھوٹا ثابت ہوا ۔
بانی کو سزا ملی مگر جج کو کوئی سزا نہیں دی گئی، 26ویں ترمیم کے تحت ججوں کو اپنا ماتحت بنایا گیا، جسٹس ڈوگر کو عہدے پر بٹھاتے ہی بانی کو 190ملین پائونڈ ریفرنس میں سزا سنائی گئی، جج ڈوگر نے بانی کی اپیل ڈیڑھ سال سے سننے سے انکار کردیا، جج ڈوگر کا نام تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔
نورین نیازی کو حکومت، محسن نقوی، اسٹیبلشمنٹ نے ملاقات سے روکاجیل سپرنٹنڈنٹ نے نہیں۔بانی کو 18لوگ مل سکتے ہیں لیکن یہ ملاقاتیں ختم کرنا چاہ رہے ہیں ،کہا گیا بانی سے ملاقات کے بعد باہر آکرمیڈیا سے بات نہیں کرسکتے، ہم نے کہا ہمیں یہ قبول نہیں، آپ بانی سے ملاقات سے قبل ان کا علاج کرائیں، بشری بی بی کی فیملی سے دو مرتبہ ملاقات کرائی گی لیکن انہوں نے کوئی بات نہیں کی ،اب ان کی ملاقات بھی بند کردی۔
یہ سب کچھ جان بوجھ کرکررہے ہیں، یہ لوگ ایک ملاقات اس لئے کروانا چاہ رہے ہیں تاکہ پریشر ختم ہوسکے، عدالتی حکم کے مطابق ہمارے ساتھ ایم او یو سائن کیا جائے، ہمارے ساتھ ایک گارنٹر ہونا چاہیے جو گارنٹی کرے گا کہ ایم او یو کی پاس داری کرائے گا، اگر یہ ہمیں گارنٹی نہیں دیں گے تو پھر آئندہ کا لائحہ عمل کارکنوں کی چاہت کے مطابق ہوگا، جب ہم مل کر اڈیالہ جیل آئیں گے تو صرف بانی کے حقوق بحال نہیں ہوں گے بلکہ ہم بانی کو رہا کرائیں گے۔
سیاسی معاملات کو محمود اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس ہینڈل کرلیں گے، وزیراعظم بے چارے سے کیا بات کریں گے وہ تو خود کہتے ہیں ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں۔بیرسٹر گوہر کو محسن نقوی نے فون کیا تھا، بانی کے لیے پوری قوم ایک پیج پر ہے جو کہتی ہے ان کو رہا کیا جائے، پاکستان کو ان کی ضرورت ہے،آپ پہلے ملک میں دیکھیں کیا کررہے ہیں، پاکستان کے منتخب وزیراعظم ہیں یہاں پر آپ دیکھیں کیا کررہے ہیں، پہلے اپنے ملک کا خیال رکھیں۔
یہاں پر آپ ظلم کررہے ہیں،کشمیر کے اندر آپ نے کربلا بنادیا، پانی خوراک بند کردی، ماہ رنگ بلوچ کو عمر قید دے دی ، کس چیز کےلئے؟ آپ ملک میں ظلم کررہے ہیں ،کیا آپ دنیا میں ایسے نام روشن کریں گے؟۔
نورین نیازی نے کہا بانی سے ملاقات کےلئے مجھ سے کسی نے رابطہ نہیں کیا، مجھے ملاقات کا ادھر ادھر سے پتا چل رہا ہے،میں کیوں درخواست دوں؟ درخواست ان کو دی جاتی جو اس کے قابل ہوں، 26ویں اور 27ویں ترامیم ختم ہوں گی تو بانی کے آنے کے بعد یہ جیلیں ان سے بھری ہوں گی،یہاں ایک تماشا ہوگا، یہ جھوٹ بولتے ہیں جو بانی کے ساتھ کر رہے ہیں ان کا عبرت ناک انجام ہوگا۔
آپ کشمیر کے راستے بند کرکے لوگوں کو بھوکا مار رہے ہیں، ان کو شکریہ اس بات کا کہیں کہ یہ پاکستان کے مقبول ترین لیڈر پر ظلم کررہے ہیں، شکریہ کوئی بھی نہیں کرے گا، اﷲ تعالی ان کو عبرت کا نشان بنائے۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد فیصلہ ہوگا صوبے نے وفاق کو رقم ادا کرنی ہے یا نہیں۔ وفاق نے قرضوں پر جو سود ادا کرنا ہے اس مد میں صوبوں سے پیسے مانگے جا رہے ہیں،وزیر خزانہ سے ہمارے دوستوں کی ملاقات فاٹا سے متعلق تھی، فاٹا سے متعلق معاہدوں کے بر خلاف ٹیکسز عائد کئے جا رہے ہیں، سینیٹر اورنگزیب سے اور کسی موضوع پر بات نہیں ہوئی،کچھ دوستوں کا خیال تھا اگر کے پی میں بجٹ پاس نہیں ہوگا تو وفاق پر بوجھ بڑھے گا، مجھے اس بات کا نہیں پتہ بجٹ پاس نہ کرنے سے وفاق پر کیسے بوجھ بڑھے گا۔
یہ حقیقت ہے اگر ہم بجٹ پاس نہ کرتے تو صوبہ نہیں چل سکتا تھا، بجٹ پاس نہ کرنے کا مطلب تھا آپ نے اپنی حکومت کا خاتمہ کردیا، گلگت بلتستان کے الیکشن میں جو ہوا اچھی مثال نہیں، جی بی میں جو لوگ دوسری طرف چلے گئے ان کو پارٹی سے نکال دیں گے، پی ٹی آئی کے نام پر ووٹ لیکر وفاداری تبدیل کرنا دھوکا دہی ہے، آزاد کشمیر میں الیکشن سے متعلق مشاورت جاری ہے، آزاد کشمیر کی صورتحال پر ٹھنڈے دماغ سے غور ہونا چاہیے۔
اڈیالہ روڈ پر میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر نے کہا صوبوں کا وفاق کی مالی معاونت کرنا آئینی معاملہ ہے۔ بانی سے 35ہفتوں سے ملاقاتیں بند ہیں، ہم مسلسل مطالبہ کر رہے ذاتی معالجین اور فیملی کو رسائی دی جائے۔
بانی پی ٹی آئی کی آنکھ متاثر ہے، 5انجکشن لگائے گئے، بشریٰ بی بی کی آنکھ کی بھی سرجری کی گئی، بجٹ وہ ہوتا ہے جس میں عوام کو گیسں، بجلی غذائی اشیا سستی ملیں، ہم نے کچھ تجاویز دیں لیکن حکومت کے پاس اکثریت ہے اس لیے ہماری تجاویز معنی نہیں رکھتیں،این ایف اسی ایوارڈ کے مطابق صوبوں کو ان کا شیئر ملنا چاہئے، وفاق شاہ خرچیاں ختم کرے، صوبوں سے پیسے مانگنا ناجائز مطالبہ ہے، سیاسی مسائل کا حل سیاسی طریقے سے ہی نکلنا چاہیے۔



