انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاکاروبار

بحریہ ٹاؤن کے ملک ریاض کی اعلی پاکستانی شخصیات سے مدد کی اپیل

اسلام آباد (ویب ڈیسک )بحریہ ٹاؤن کے ملک ریاض کی "پاکستان کی اعلی شخصیات سے مدد کی اپیل، دھمکیاں دینے کا ملزم ایف آئی آر اور ہائیکورٹ مداخلت کے باوجود آزاد، اثاثے قانونی طریقہ کار کے بغیر نیلام کیے جا رہے ہیں، بحریہ ٹاؤن کے بانی ملک ریاض حسین نے "پاکستان کی اعلی شخصیات سے براہِ راست مداخلت کی اپیل کی ہے۔

 

اپیل میں بحریہ ٹاؤن کے خلاف کیے جانے والے اقدامات کے مالی اثرات پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ تقریباً 238.6 ارب روپے کی کم از کم تخمینی مارکیٹ مالیت کے اثاثے پہلے ہی نیلام کیے جا چکے ہیں، قبضے میں لیے جا چکے ہیں یا اس وقت نیلامی اور فروخت کی کارروائیوں کی زد میں ہیں، اپیل میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ تقریباً 372 ارب روپے مالیت کے ترقیاتی کام اس وقت معطل ہیں،انہوں نے بحریہ ٹاؤن کے اثاثوں کو مبینہ طور پر جبری طور پر قبضے میں لینے اور نیلام کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ملک ریاض حسین اور ان کے خاندان کو سنگین نتائج اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کے الزام میں نامزد شخص، ایف آئی آر کے اندراج اور بعد ازاں ہائی کورٹ کی مداخلت کے باوجود تاحال آزاد ہے۔

 

ایک تفصیلی اپیل میں ملک ریاض حسین نے "پاکستان کی اعلی شخصیات  کی توجہ بحریہ ٹاؤن اور اپنے خاندان کے افراد کے ساتھ کیے جانے والے سلوک کی جانب مبذول کرائی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ کمپنی کی جائیدادوں کو مسلسل منجمد کرنا، قبضے میں لینا اور نیلام کرنا وسیع پیمانے پر اقتصادی اثرات کا باعث بن سکتا ہے۔

 

اپیل میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ متعدد مقدمات اور متعلقہ جائیدادوں و اقدامات سے متعلق عدالتی کارروائیاں مجاز فورمز کے سامنے زیرِ التوا ہونے کے باوجود بحریہ ٹاؤن کے اثاثوں کو جبری طور پر قبضے سے نکال کر انتہائی کم اور غیر حقیقی قیمتوں پر فروخت کیا جا رہا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کی جائیدادوں کو منجمد اور سیل کیے جانے، جبکہ اس کے کاروباری اور ترقیاتی آپریشنز معطل کیے جانے سے ملازمین، سرمایہ کاروں اور الاٹیز میں شدید بے یقینی پیدا ہوئی ہے۔ کمپنی کا مؤقف ہے کہ اس تنازع کو محض ایک نجی کاروبار سے متعلق شکایت نہیں سمجھا جانا چاہیے، کیونکہ ہزاروں خاندانوں نے بحریہ ٹاؤن کے منصوبوں میں اپنی جمع پونجی لگائی ہے، جبکہ بڑی تعداد میں ملازمین، ٹھیکیدار، سپلائرز اور دیگر کاروبار بھی اس کی سرگرمیوں پر انحصار کرتے ہیں۔

اپیل میں اس بات کو بھی اجاگر کیا گیا ہے کہ ملک ریاض کی رہائش گاہ کی نگرانی کی گئی اور انہیں ایسے ای میلز اور پیغامات موصول ہوئے جن میں ان کی جان کو خطرات اور دھمکیاں دی گئیں۔

 

ان کی اہلیہ اور بچوں کو خوف زدہ اور دہشت زدہ کرنے کی کوششیں بھی کی گئیں۔ حالات اس حد تک سنگین ہو گئے کہ ملک ریاض نے اپنی اور اپنے خاندان کی سلامتی کے خدشات کے باعث پاکستان چھوڑ دیا۔

 

اپیل کے مطابق مبینہ دھمکیوں کے حوالے سے باقاعدہ ایف آئی آر درج کی گئی تھی، تاہم بعد میں اسے منسوخ کر دیا گیا۔ بعد ازاں ہائی کورٹ نے مداخلت کرتے ہوئے ایف آئی آر بحال کر دی اور اس معاملے میں وجوہات پر مبنی فیصلہ بھی جاری کیا، لیکن دھمکیوں اور نگرانی کے حوالے سے کوئی آزادانہ تحقیقات نہیں کی گئیں۔

 

ایف آئی آر میں نامزد شخص بھی تاحال گرفتار نہیں ہوا۔ اپیل میں دھمکیوں اور نگرانی کے واقعات کے حقائق معلوم کرنے کے لیے آزادانہ اور غیر جانب دار تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ دستاویز میں ملک ریاض کے خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ مبینہ سلوک کے حوالے سے بھی سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملک ریاض حسین کے بچوں کو ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑا جو خاندان کے مؤقف کے مطابق مبینہ اغوا، غیر قانونی حراست اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کے زمرے میں آتے ہیں۔

 

اپیل کے مطابق ملک ریاض نے بالآخر پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ ان کے نزدیک اپنے خاندان کا تحفظ ان کے کاروباری مفادات اور اس تنظیم سے زیادہ اہم تھا جسے انہوں نے کئی دہائیوں میں قائم کیا تھا۔ دستاویز میں مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ ملک ریاض کے بھائی کو بھی لے جایا گیا اور وہ کئی ماہ تک لاپتا رہے۔

 

اپیل کے مطابق بعد میں انہیں سڑک کے کنارے چھوڑ دیا گیا، اس وقت وہ کینسر، شدید بیماری اور انتہائی جسمانی کمزوری کا شکار تھے۔

 

اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن کے کئی اہم اثاثوں کی پہلے شائع شدہ مالیت کروڑوں یا اربوں روپے میں بتائی گئی تھی، تاہم اب بنیادی اثاثے انتہائی کم قیمتوں پر یا مالیت کے تعین، بولی کے طریقہ کار اور حتمی قیمت کے حوالے سے مکمل شفافیت کے بغیر نیلام کیے جا رہے ہیں۔ بحریہ ٹاؤن کا کہنا ہے کہ ان اثاثوں کی مسلسل فروخت سے ادارے کو ناقابلِ تلافی مالی نقصان پہنچ سکتا ہے، جس کا اثر بالآخر الاٹیز، سرمایہ کاروں، ملازمین اور ان دیگر فریقوں پر پڑے گا جن کے مفادات بحریہ ٹاؤن کے منصوبوں سے وابستہ ہیں۔

 

اس کے نتیجے میں قانونی کارروائیوں کے متعدد نئے مراحل، مالی نقصانات، معاوضے کے دعوے اور پاکستان کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں مزید غیر یقینی پیدا ہو سکتی ہے۔

 

اپیل میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ تقریباً 372 ارب روپے مالیت کے ترقیاتی کام اس وقت معطل ہیں۔ متاثرہ منصوبوں میں عوامی بنیادی ڈھانچے، ضروری سہولیات اور رہائشی ترقی کے منصوبے شامل ہیں، جو براہِ راست ہزاروں ملازمین، ٹھیکیداروں، سپلائرز، سرمایہ کاروں، الاٹیز اور مالیاتی اداروں سے جڑے ہوئے ہیں۔

 

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کی موجودہ جائیدادوں کو محض کارپوریٹ اثاثے نہیں سمجھا جانا چاہیے، کیونکہ انہی وسائل سے عوام سے کیے گئے ترقیاتی وعدے پورے کیے جانے ہیں۔ اپیل میں سوال اٹھایا گیا ہے: ’’اگر یہی اثاثے ضبط کرکے فروخت کر دیے گئے تو بحریہ ٹاؤن باقی 372 ارب روپے کے ترقیاتی کام مکمل کرنے کے لیے درکار مالی وسائل کہاں سے حاصل کرے گا؟‘‘اپیل میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے سامنے بحریہ ٹاؤن کی ذمہ داریوں کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔

 

کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ مالی مطالبات پورے کرنے کے لیے پہلے ہی دباؤ میں ہے، لیکن اس سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ ایک ہی وقت میں بڑے مالی واجبات ادا کرے اور دوسری جانب ادارے کے وہ اثاثے بھی فروخت کیے جائیں جو اس کی آمدنی اور نقدی کے بنیادی ذرائع ہیں۔ درخواست میں ملک ریاض کی جانب سے کئی دہائیوں کے دوران پاکستان کی معیشت اور ترقی میں ادا کیے گئے کردار کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

 

اس کے مطابق ملک ریاض نے تعمیرات، شہری ترقی، روزگار کی فراہمی، فلاحی منصوبوں اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں کئی دہائیاں صرف کیں اور بڑے پیمانے پر جدید اور منظم رہائشی منصوبے متعارف کرائے۔ اپیل میں ملک ریاض نے مطالبہ کیا ہے کہ زیرِ التوا تنازعات کو اثاثوں کی مسلسل ضبطی اور فروخت کے بجائے ادارہ جاتی مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ باہمی طور پر قابلِ قبول تصفیہ ایسا راستہ فراہم کر سکتا ہے جس کے ذریعے قانونی واجبات کو منظم اور شفاف انداز میں پورا کرنے کے لیے ضروری جائیدادیں اور وسائل محفوظ رہیں، جبکہ ریاست، سرمایہ کاروں، الاٹیز، قرض دہندگان اور دیگر متعلقہ فریقوں کے مفادات کا بھی تحفظ ہو۔

 

بحریہ ٹاؤن نے اپنی اپیل میں واضح کیا ہے کہ وہ قانون سے استثنیٰ یا کسی رعایت کا مطالبہ نہیں کر رہا۔

 

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button