
تاریخ عالم کا ورق ورق انسان کے لیے عبرتوں کا مرقع ہے۔ بالخصوص تاریخ کے بعض واقعات تو انسان کے ہر شعبہ زندگی کے لئے ایسے عبرت ناک ہیں کہ جن سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا۔ انہیں واقعات میں سے ایک واقعہ میدانِ کربلا میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت کابھی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو وجود بخشا ہے اس وقت سے لے کر آج تک اور شاید قیامت کی صبح تک کوئی ایسا واقعہ رُونما نہ ہوکہ جس پر خود تاریخ کو بھی رونا آگیا ہو ، لیکن امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ ایسا درد ناک اور اندوہ ناک واقعہ ہے کہ جس پر انسانوں کی سنگ دل تاریخ بھی ہچکیاں لے لے کر روتی رہی ہے۔ اس میں ایک طرف ظلم و ستم ، بے وفائی و بے اعتنائی اور محسن کشی و نسل کشی کے ایسے الم ناک اور درد انگیز واقعات ہیں کہ جن کا تصور کرنا بھی آج کل ہم جیسے لوگوں کے لیے ناممکن ہے۔ اور دوسری طرف اہل بیت اطہار ، رسول پاک ا کے چشم و چراغ اور ان کے ستر، بہتر متعلقین کی ایک چھوٹی سی جماعت کا باطل کے مقابلہ کے لیے ثابت قدمی اور جان نثاری جیسے ایسے محیر العقول واقعات ہیں کہ جن کی نظیر تمام عالم انسانیت کی تاریخ میں ملنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔نواسہ رسول، جگر گوشہ علیؓ و بتول، شہیدِ کربلا،سیّدنا حسین ابنِ علیؓ کی ذاتِ گرامی حق و صداقت‘ جرا ¿ت و شجاعت‘ عزم و استقلال‘ ایمان و عمل‘ ایثار و قربانی، تسلیم و رضا‘ اطا عت ربّانی‘ عشق و وفا اور صبر و رضا کی وہ بے مثال داستان ہے، جو پوری اسلامی تاریخ میں ایک منفرد مقام، تاریخ ساز اہمیت کی حامل ہے۔ مستند تاریخی روایات کے مطابق رجب 60ھ/ 680 ءمیں یزید نے اسلامی اقدار اور دین کی روح کے منافی ظلم، جبر و استبداد پر مبنی اپنی حکومت کا اعلان کیا۔ بالجبر عام مسلمانوں کو بیعت اور اطاعت پر مجبور کیا گیا۔مدینہ منوّرہ میں ایک مختصر حکم نامہ جاری ہوا، جس میں تحریر تھا، ”حسینؓ‘ عبداللہ بن عمرؓ اور عبداللہ بن زبیرؓ کو بیعت اور اطاعت پر مجبور کیا جائے ،اس معاملے میں پوری سختی سے کام لیا جائے، یہاں تک کہ یہ لوگ بیعت کرلیں۔“ (ابنِ اثیر/ الکامل 3/ 263)۔ بعد ازاں، دیکھنے والوں نے دیکھا کہ سرکارِ دوجہاںکے نورِ نظر، سیّدنا حسینؓ ابنِ علیؓاپنے جدِّ اعلیٰ حضرت ابراہیم خلیل اللہ اور اپنے نانا سیّد الانبیاءحضرت محمد مصطفی کی اتّباع میں یزید کے ظلم و جبرپر مبنی باطل نظام کے خلاف جرا ¿تِ اظہار اور اعلانِ جہاد بلند کرتے ہوئے اُسوہ پیمبری پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔امت مسلمہ کو حق و صداقت اور دین پر مرمٹنے کا درس دیتے ہیں۔ نواسہ رسول، سیّدنا حسینؓ ابن علیؓاُسوہ پیمبری کی پیروی میں وقت کے ظالم و جابر حاکم، یزید کے خلاف ریگ زارِ کرب و بلا میں72 نفوسِ قدسیہ کے ہم راہ وارد ہوئے اور حق و صداقت اور جرا ¿ت و شجاعت کی وہ بے مثال تاریخ رقم کی‘ جس پر انسانیت ہمیشہ فخر کرتی رہے گی۔ حق کے متوالے، باطل قوتوں کے خلاف صف آرا مردانِ حق اس راستے پر ہمیشہ چلتے رہیں گے۔ یہ ایک تاریخی اور ابدی حقیقت ہے کہ شہدائے کربلا نے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے جرا ¿تِ اظہار اور باطل کے خلاف احتجاج اور جہاد کا ایک سلیقہ اور ولولہ عطا کیا۔ سیّدنا حسینؓ ابنِ علیؓکی صدائے حق نے مظلوم انسانیت کو ظالمانہ نظام کے خاتمے کے خلاف ڈٹ جانے کا حوصلہ اور حق نوائی کا درس دیا۔ حق کی آواز بلند کرنا‘ انسانی اقدار کا تحفّظ اور دین کی سربلندی، دراصل اُسوہ پیمبری اور شیوہ شبیری ہے۔ شہدائے کربلا کا فلسفہ اور پیغام یہی ہے کہ حق کی سربلندی اور باطل کی سرکوبی کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہ کیا جائے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ تاریخ انسانی کی دو قربانیاں پوری تاریخ میں منفرد مقام اور نہایت عظمت و اہمیت کی حامل ہیں، ایک امام الانبیائ، سیّد المرسلین، خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی، احمد مجتبیٰ کے جدِ اعلیٰ حضرت ابراہیم ؑو اسمٰعیل ؑکی قربانی اور دوسری نواسہ رسول، جگر گوشہ علیؓ و بتول شہیدِ کربلا حضرت امام حسینؓکی قربانی۔ دونوں قربانیوں کا پس منظر غیبی اشارہ اورایک خواب تھا، دونوں نے سرتسلیم ج ±ھکا دیا اور یوں خواب کی تعبیر میں ایک عظیم قربانی وجود میں آئی۔ روایت کے مطابق جب سیّدنا حسین ابنِ علیؓاپنے جاں نثاروں کے ساتھ کربلا کی جانب روانہ ہوئے اور روکنے والوں نے آپ کو روکنا چاہا، تو آپ نے تمام باتوں کے جواب میں ایک بات فرمائی، ”مَیں نے (اپنے نانا) رسول اکرم کو خواب میں دیکھا ہے، آپ نے تاکید کے ساتھ مجھے ایک دینی فریضہ انجام دینے کا حکم دیا ہے، اب بہرحال میں یہ فریضہ انجام دوں گا، خواہ مجھے نقصان ہو یا فائدہ۔ پوچھنے والے نے پوچھا کہ وہ خواب کیا ہے؟ آپؓ نے فرمایا، ابھی تک کسی کو نہیں بتایا، نہ بتاﺅں گا، یہاں تک کہ اپنے پروردگار عزّوجل سے جاملوں“ (ابنِ جریر طبری 5/388، ابن کثیر/البدایہ والنہایہ 8/168 )۔ ابراہیم ؑکے خواب کی تعبیر دس ذی الحجہ کو پوری ہوئی اور سیّدنا حسینؓکا خواب دس محرم 61ھ کو تعبیر آشنا ہوا، دونوں خوابوں کی تعبیر قربانی تھی، دس ذی الحجہ کو منیٰ میں یہ خواب اپنے ظاہر میںرُونما ہوا اور دس محرم کو سرزمین کربلا پر اپنی باطنی حقیقت کے ساتھ جلوہ گر ہوا۔یوں باپ نے جس طرزِ قربانی کا آغاز کیا تھا، تسلیم و رضا اور صبر و وفا کے پیکر فرزند نے پوری تابانیوں کے ساتھ اس عظیم سنّت کو مکمل کیا۔ حضرت اسماعیل ؑ سے جس سنّت کی ابتدا ہوئی تھی، سیّدنا حسینؓپر اُس کی انتہا ہوئی۔ سیّدنا ابراہیم ؑو اسماعیل ؑ اور حضرت حسینؓکی قربانیوں میں یہی جذبہ عشق و محبت کارفرما تھا۔ اسی لیے یہ قربانیاں آج تک زندہ ہیں اور قیامت تک زندہ رہیں گی۔ شہدائے کربلا کے قافلہ سالار امام حسینؓ اور ان کے رفقاءمعرکہ حق و باطل، اعلیٰ انسانی اقدار کی بقا میں حق و صداقت اور جرا ¿ت و شجاعت کاعلم بلند کر کے، اپنے رب کی رضا، اعلیٰ انسانی اقدار کی بقا، دین مبین کی سربلندی اور شریعتِ مصطفٰیکے تحفّظ کے لیے ریگ زارِ کرب و بلا میں جرا ¿ت و استقامت کی بے مثال تاریخ رقم کی۔حضرت امام حسین ؓ کی شہادت ایک ایساالمناک اوردردانگیز واقع تھا کہ امت صدیوں سے آنسو بہانے کے باوجود اُن کی شہادت پر آج بھی افسردہ اور غم ناک ہے۔ سینکڑوں برس گزرجانے کے باوجود یہ زخم ،غم اور واقعہ تازہ ہے۔حضرت امام حسین ؓ کی شہادت رہتی دنیا تک کے لیے عزم و استقلال کی علامت بن کر آج مسلمانان عالم کے دلوں کی دھڑکن ہیں۔حضرت امام حسین ؓسے عقیدت و محبت کا حق وہی لوگ ادا کرتے ہیں جو سرفروشی اور جاں نثاری کے جذبات سے سرشار ہوکر خدا کی راہ میں سب کچھ قربان کرنے ہی کو اپنی سعادت جانتے ہیں۔کربلا کی داستان یہ ہی سبق دیتی ہے کہ مردہ یزیدپر ہی ماتم نہیں زندہ یزیدوں کے مقابلہ پر کھڑے ہونے کے لیے یہ ہی پیغام ہے کہ اسلام اور ملت اسلامیہ کی زندگی باطل کے مقابلہ میں جم کھڑے ہونے اور حق کے لیے جان عزیز کی شہادت دینے میں مضمر ہے۔



