امام حسینؓ اسلام کی حقانیت اور سر بلندی کا نام
تحریر: محمد قیصر چوہان

ماہ محرم الحرام اسلامی سال کا آغاز ہے اس ماہ میں ایسا تاریخی اور انقلابی سانحہ پیش آیاکہ ہر سال یہ عظیم قربانیاں اہل ایمان کو سبق دیتی ہیں ، کربلا کا درس یا دکراتی ہیں کہ اصل زندگی خدا کی راہ میں اپنا سب کچھ قربان کردینا ہے ، میدان کربلا میں امام حسینؓ کی عظیم ترین قربانی کا یہی پیغام ہے۔سانحہ کربلا 10 محرم الحرام 61 ھ کو موجودہ عراق میں کربلا کے مقام پر پیش آیا، یزید کی بھیجی گئی فوج نے اللہ تعالیٰ کے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے اہل خانہ کو شہید کیا۔
حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ 72 ساتھی بھی تھے جن میں سے 18 اہل بیت کے اراکین تھے۔ اس کے علاوہ خاندانَ نبوت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خواتین اور بچے بھی شامل تھے واقعہ کربلا صرف تاریخ اسلام ہی نہیں بلکہ تاریخ عالم افسوسناک واقعہ ہے ،سیدناامام حسینؓ اسلام کی حقانیت اور سر بلندی کا نام ہے۔
سیدنا امام حسینؓ ؓنے اپنے اور اپنے پےاروں کے خون سے اسلام کے شجر کی آبیاری کی اور ثابت کردیا کہ نظریہ اور دین اہم ہوتا ہے۔ امن، اعتدال، رواداری اور اخلاق دین اسلام کی بنیادی تعلیمات میں شامل ہے یہ آفاقی دین آزادی رائے، اختلاف رائے، جمہوریت اور مشاورت کا درس دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نہ صرف دہشت گردی کی سختی سے مذمت کرتا ہے بلکہ کسی بھی دوسرے مذہب کے افراد کو جبروا کرہ کی بنیاد پر قبول اسلام پر مجبور نہیں کرتا۔ دین اسلام سے بڑھ کر دنیا کا کوئی مذہب اور قانون انسانی اقدار کے تحفظ عملی مساوات، انسانی حقوق کے احترام اور امن و آشتی کا تصور پیش نہیں کر سکتا جس میں دوران جنگ غیر مسلموں سے حسن سلوک کی تعلیم دی گئی ہے۔
قتل حسینؓاصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتاہے ہر کربلاکے بعد
حضرت سیدنا امام حسینؓ نہ صرف دین اسلام کے علمبردار تھے بلکہ عدل و انصاف، مساوات انسانی، حریت و آزادی اور انسانی جمہوریت کے علمبردار تھے۔ انہوں نے ریاستی جبرو تشدد اور آمرانہ ذہنیت کے خلاف جہاد کیا یہی وجہ ہے کہ حضرت امام حسینؓ اب صرف ایک ذات یا شخصیت کانام نہیں رہا بلکہ حسین حق کا نمائندہ، سچائی کا نشان، روشنی کا مینا، علم و حکمت کا نیر تاباں، عدل و انصاف کاپیکر، عظمت وبلندی کی علامت، احترام انسانیت کی مثال، اخلاق و اوصاف حمیدہ کاامین، رواداری، حسن سلوک اور برداشت کانام ہے۔ اسی طرح یزید بھی ایک ذات کا نام نہیںرہا بلکہ قیامت تک ہونے والے ظلم و بربریت اور دہشت گردی کانام یزید ہے۔
آئیے ان دو کرداروں کو پہچان کر فیصلہ کریں کہ ہمیں کس لشکر اور گروہ میں شامل ہونا ہے ۔ حضرت امام حسینؓ انسانیت کی امن پسندی کے نمائندہ تھے اوریزید انسانیت کش، دہشت گردی کا نمائندہ تھا۔ آج ہمیں امن و سلامتی، برداشت، رواداری اخوت و بھائی چارے اور علم و عمل کی راہ پر چلنا ہے تو حضرت امام حسینؓ کی راہ پر چلنا ہو گا۔
آج اگر پوری کائنات میں صدائے توحید گونج رہی ہے اور مسلمان کے قلب پر نقش ہے تو یہ قربانی حسینؓ کا صدقہ ہے۔ سیدنا امام حسینؓ نے اپنی اور اپنے پیاروں کی لازوال قربانی دےکر نہ صرف کلمہ توحید اور مشن رسالت کی لاج رکھی ،وہاں تا ابد ہر مظلوم وناکس کو ظالمو ں سے ٹکرانے کا حوصلہ عطاءکیاہے یہی وجہ ہے کہ ہر حریت پسند ہی نہیں بلکہ بلا تفریق مذہب ،ہر قوم سیدنا امام حسینؓ کو سلام پیش کرتی ہے۔شہادت حسینؓ مسلمانوں کےلئے سرمایہ افتخار اور اس کے ثمرات اُمت مسلمہ کےلئے بےش بہا انمول خزانہ ہیں۔
ہر عہد میں صدائے حسینؓ کی گونج مسلمانوں میں دین اسلام سے وابستگی اور خدا کی راہ میں قربانی کا جذبہ بےدار رکھے ہوئے ہیں ۔یزید اپنے ظلم ،جبر اور ناپاک ارادوں کے ساتھ زلت کی عمیق گہرائیوں میں غرق ہوگیا ہے۔لیکن حضرت سیدنا امام حسینؓ آج بھی عظیم ترین مقصد کےلئے دی گئی لازوال قربانی کی بدولت ہر عہداور ہر زمانے پر راج کر رہا ہے۔
غم حسینؓ امت مسلمہ کے ایمان کا حصہ ہے۔حضرت سیدنا امام حسینؓ امن، سلامتی اور محبت کے عظیم پیکر ہیں جبکہ یزید بدی، دہشت گردی، ظلم اور استحصال کا نمائندہ تھا۔ حضرت سیدنا امام حسینؓ نے ظلم سے سمجھوتہ نہ کرنے کا عظیم درس دیا ، کربلا کے میدان سے حسینیت اور یزیدیت کے مثبت اور منفی دو نظریات کا اجرا ہوا اور قیامت تک یزیدی فکر کے نمائندے شکست سے دو چار ہوتے رہیں گے۔ حضرت سیدنا امام حسینؓ نے یزید کی بیعت سے انکار کر کے قیامت تک کی انسانیت کو پیغام دیا کہ اصولوں پر قربان ہو جانے والا ابد تک زندہ رہتا ہے اور وقت کا آمر بظاہر جیت کر بھی ہار جاتا ہے اور قیامت تک لعنت اسکا مقدر بنا دی جاتی ہے۔
یزیدنے اسلام کی تعلیمات کو مسخ کرنے کی کوشش کی جوحضرت امام حسین علیہ السلام کو گوارہ نہ ہوا اور انہوں نے اپنے خاندان کی قربانی دے کر اسلام کو ہمیشہ کیلئے زندہ کر دیا۔ حضرت امام حسین علیہ السلام کے عمل سے صبر و رضا، استقامت اور قربانی کے عظیم رویوں نے جنم لیا اور آج ساری انسانیت ان مثبت رویوں سے فیض یاب ہو رہی ہے۔حضرت سیدنا امام حسینؓ آج غیر مسلموں کیلئے بھی اتنے ہی معزز ہیں جتنے مسلمانوں کیلئے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے عمل سے انسانیت کا سر ہمیشہ کےلئے فخر سے بلند کر دیا۔
سانحہ کربلا تاریخ اسلام کا ایک شاندار اور زریں باب ہے، یزید کی نامزدگی اسلام کی نظام شورائیت کی نفی تھی، لہٰذاحضرت سیدنا امام حسینؓ نے جس بہادری اور صبر سے کربلا کے میدان میں مصائب و مشکلات کو برداشت کیا وہ حریت، جرات اور صبر و استقلال کی لازوال داستان ہے۔ باطل کی قوتوں کے سامنے سرنگوں نہ ہو کر آپ نے حق و انصاف کے اصولوں کی بالادستی ، حریت فکر اور خداکی حاکمیت کا پرچم بلند کرکے اسلامی روایات کی لاج رکھ لی ۔حضرت سیدنا امام حسینؓ کا یہ ایثار اور قربانی تاریخ اسلام کا ایک ایسا درخشندہ باب ہے جوحریت پسندوں کےلئے ایک اعلیٰ ترین نمونہ ہے۔



