انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

میں کون نہیں، میں کیا بن رہا ہوں؟

عمران حیدر

 

 

انسان اکثر خود سے یہ سوال کرتا ہے کہ میں کون ہوں؟ مگر شاید اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ میں آج کیا بن رہا ہوں، اور کل کیا بننا چاہتا ہوں؟ہم میں سے اکثر اپنی شناخت کو ایک مستقل حقیقت سمجھتے ہیں، جیسے وہ پتھر پر لکھی گئی ہو۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ انسان کی شخصیت، سوچ، کردار اور پہچان ہر روز اس کے فیصلوں، تجربات، تعلقات، کامیابیوں اور ناکامیوں کے ساتھ تشکیل پاتی رہتی ہے۔ہر فیصلہ ہماری زندگی کا اگلا باب لکھتا ہے۔جو شخص کبھی خود کو کمزور سمجھتا تھا، وہی کل دوسروں کے لیے امید کی کرن بن سکتا ہے۔ جو طالب علم پڑھائی میں پیچھے رہ گیا، وہ مستقبل میں کامیاب کاروباری شخصیت بن سکتا ہے۔ جو زندگی میں کسی آزمائش کا شکار ہوا، وہی دوسروں کے لیے رہنما اور مشعلِ راہ بن سکتا ہے۔

آپ کا ماضی آپ کی وضاحت ضرور کرتا ہے، لیکن آپ کی تقدیر کا فیصلہ نہیں کرتا۔اسلام انسان کو مایوسی نہیں بلکہ امید، اصلاح اور مسلسل بہتری کا درس دیتا ہے۔ قرآن بار بار ہمیں بتاتا ہے کہ انسان بدل سکتا ہے، اگر وہ خود بدلنے کا ارادہ کرے۔اللہ تعالیٰ سورۃ الرعد میں فرماتا ہے کہ ”بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہ کرے“۔اس میں پیغام ہے کہ تبدیلی باہر سے نہیں بلکہ انسان کے دل، نیت اور عمل سے شروع ہوتی ہے۔اگر انسان اپنی غلطیوں کو تسلیم کر کے اللہ کی طرف رجوع کرے تو اس کے لیے ہر وقت نئی شروعات ممکن ہے۔ قرآن مجید میں ہے کہ ”اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ بے شک اللہ تمام گناہ معاف کر دیتا ہے“۔یہ اس انسان کے لیے امید کا پیغام ہے جو اپنے ماضی کی وجہ سے خود کو ناکام سمجھ بیٹھا ہو۔

رسول اللہ نے انسان کی اصل پہچان کو اس کی نیت، کردار اور اعمال سے جوڑا ہے۔آپ نے فرمایاکہ ”اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے“۔ایک اور حدیث میں ہے کہ ”تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس کا اخلاق سب سے بہتر ہو“۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا”اللہ تمہاری صورتوں اور مال کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے“۔یہ احادیث ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہماری اصل شناخت ہمارا کردار، اخلاص اور مسلسل بہتری کی کوشش ہے، نہ کہ ہماری سابق غلطیاں۔

اسلامی تاریخ اس حقیقت کی زندہ گواہ ہے کہ انسان بدل سکتا ہے۔حضرت عمر بن خطابؓ ایک وقت اسلام کے سخت مخالف تھے، لیکن اسلام قبول کرنے کے بعد وہ تاریخ کے عظیم ترین حکمرانوں اور انصاف کی علامت بن گئے۔حضرت خالد بن ولیدؓ نے ابتدا میں مسلمانوں کے خلاف جنگیں لڑیں، مگر اسلام قبول کرنے کے بعد ”سیف اللہ“ کہلائے اور اسلام کے عظیم سپہ سالار بنے۔اسی طرح حضرت فضیل بن عیاضؒ کی زندگی بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ جب انسان اللہ کی طرف سچے دل سے رجوع کرتا ہے تو اس کی پوری زندگی بدل جاتی ہے۔یہ پیغام صرف اسلام ہی نہیں دیگر مذاہب بھی دیتے ہیں۔

اگرچہ اسلام انسان کی اصلاح، توبہ، کردار سازی اور روحانی ترقی پر سب سے جامع رہنمائی فراہم کرتا ہے، لیکن دنیا کے دیگر مذاہب بھی انسان کو اپنی زندگی بہتر بنانے کی دعوت دیتے ہیں۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات میں بھی نئی زندگی اور روحانی تبدیلی پر زور دیا گیا ہے۔بائبل میں لکھا ہے ”جو مسیح میں ہے وہ نئی مخلوق ہے، پرانی چیزیں جاتی رہیں، دیکھو سب کچھ نیا ہو گیا“۔ یہودی تعلیمات میں تشووا کا تصور موجود ہے، جس کا مطلب ہے اللہ کی طرف رجوع کرنا، اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنا اور اپنی زندگی کو بہتر بنانا۔ یہ تصور اسلام میں توبہ کی تعلیم سے کافی مماثلت رکھتا ہے۔

ہندومت کی بھگوت گیتا میں انسان کو اپنے نفس پر قابو پانے اور خود اپنی ترقی کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔انسان خود ہی اپنا دوست بھی ہے اور خود ہی اپنا دشمن۔بدھ مت انسان کو مثبت سوچ، خود احتسابی اور مسلسل اصلاح کی دعوت دیتا ہے۔اُن سے منسوب ایک معروف قول ہے ”ہم وہی بنتے ہیں جو ہم سوچتے ہیں“۔یہ تمام تعلیمات اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ انسان اپنی سوچ اور اپنے اعمال کے ذریعے اپنی زندگی بدل سکتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جدید نفسیات بھی اسی حقیقت کی تائید کرتی ہے۔ماہرِ نفسیات ڈین پی میک ایڈمز کے مطابق ہر انسان اپنی زندگی کی ایک اندرونی کہانی لکھتا ہے۔ جب وہ اپنے تجربات کو نئے زاویے سے سمجھتا ہے تو اس کی شخصیت اور مستقبل کی سمت بھی بدلنے لگتی ہے۔اسی طرح معروف ماہرِ تعلیم ڈاکٹر کیرول ڈویک نے اپنی تحقیق میں ثابت کیا کہ جو لوگ یہ یقین رکھتے ہیں کہ صلاحیتیں محنت، سیکھنے اور استقامت سے بڑھ سکتی ہیں، وہ زندگی میں زیادہ کامیاب ہوتے ہیں۔ اسے گروتھ مائنڈ سیٹ کہا جاتا ہے۔

یہ نظریہ اسلام کی اس تعلیم سے ہم آہنگ ہے کہ انسان کوشش کرے، اللہ پر بھروسہ رکھے، اپنی اصلاح جاری رکھے اور کبھی مایوس نہ ہو۔دنیا شاید آپ کو آپ کے ماضی سے پہچانے، لیکن اللہ تعالیٰ آپ کے حال، آپ کی نیت اور آپ کی کوشش کو دیکھتے ہیں۔اس لیے خود سے سے پوچھیں ”میں آج کون ہوں اور کل اللہ کی رضا کے لیے کیا بننا چاہتا ہوں؟“۔ہر نیا دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے نئی فرصت ہے۔ اگر نیت خالص ہو، دل میں امید ہو، قدم درست سمت میں ہوں اور اللہ پر کامل بھروسہ ہو تو کوئی ناکامی انسان کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کر سکتی۔

یاد رکھیے، آپ کا ماضی آپ کی کہانی کا صرف ایک باب ہے، پوری کتاب نہیں۔ قلم آج بھی آپ کے ہاتھ میں ہے۔ اگر آپ ایمان، اخلاص، محنت اور اللہ تعالیٰ پر توکل کے ساتھ آگے بڑھتے رہیں تو آنے والا ہر صفحہ پہلے سے زیادہ روشن، خوبصورت اور بامقصد ہو سکتا ہے۔یہی ایمان ہے، یہی امید ہے، یہی خود احتسابی ہے اور یہی ایک کامیاب، باوقار اور بامقصد زندگی کا راز ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button