انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکاروبارکالم

حکومت پر سستے تیل کا دبائو

سپیڈبریکر، میاں حبیب

یہ سوال زبان زدہ عام ہے عالمی ثالثی میں ہمیں کیا ملا ہے ، پاکستان نے ایران امریکہ ثالثی کا بڑا سنگ میل عبور کیا ہے پوری دنیا میں پاکستان کے کردار کو سراہا جا رہا ہے سول اور ملٹری قیادت اس کا خوب کریڈٹ بھی وصول کر رہی ہے لیکن اس ثالثی کے ثمرات جو عوام سمجھ رہے تھے کہ انھیں سستے تیل اور ایندھن کی صورت میں حاصل ہوں گے وہ حاصل نہیں ہو رہے۔

حکومت نے سوا چار سو روپے تک تیل کی قیمتیں پہنچا کر اب سوا سو روپے کا ریلیف دے دیا ہے اور پٹرول اب 299 روپے لیٹر اور ڈیزل 311 روپے لیٹر دستیاب ہے لیکن عوام اس سے مطمئن نہیں عوام چاہتے ہیں اور ان کا یہ مطالبہ جائز ہے کہ اگر مڈل ایسٹ کی جنگ سے قبل سے بھی کم تر سطح پر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں آ چکی ہیں تو حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ فوری طور پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح پر لے آئے حکومت اس کے لیے تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے۔

عوام یہ سمجھتے ہیں کہ حکومت ٹیکسوں کی وصولی میں ناکام ہے اور وہ ٹیکس ریکوری کا ٹارگٹ عوام سے فیول کی قیمتوں کے ذریعے پورا کرنا چاہتی ہے حکومت اس لیے فیول کی قیمتیں جنگ سے پہلے والی سطح پر نہیں لا رہی یہ تو فوری ریلیف کا معاملہ تھا لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ عوام حکومت کی ایران امریکہ جنگ میں پاکستان کے ثالثی کے کردار سے جو امیدیں وابستہ کیے ہوئے تھے ان کے مطابق چونکہ ایران پر سے عالمی پابندیاں ختم ہو چکی ہیں تو فوری طور پر پاکستان کو ایران سے سستا تیل خرید کر عوام کو بہت بڑا ریلف دینا چاہیے ۔

عوام کے ذہنوں میں یہ بیٹھ چکا ہے کہ اگر ایران میں 15 روپے لیٹر تیل فروخت ہو رہا ہے تو حکومت اس پر اپنی ڈیوٹیاں اور ٹیکس وصول کرکے عوام کو ڈیڑھ سو روپے لیٹر تک تیل فراہم کرے عوام سمجھتے ہیں کہ تاحال اس ثالثی کا سارا فائدہ لیڈروں کو ملا ہے عوام کو کچھ نہیں ملا عوام نے اس ثالثی سے بڑی امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں اور وہ جاننے میں حق بجانب ہیں کہ اس سے ہمیں کیا فائدہ حاصل ہوا ہے۔

حکومت پر سستے فیول کی دستیابی کا دبائو بڑھتا جا رہا ہے اور ابھی تو یہ بات زبان کلامی چل رہی ہے اس پر اب باقاعدہ مطالبات آنا شروع ہو جائیں گے اور پھر ہو سکتا ہے کہ اس پر احتجاج تک نوبت آ جائے کیونکہ عوام بڑے عرصے سے مہنگی توانائی کے ہاتھوں تنگ ہیں اور یہ حقیقت بھی ہے کہ مہنگی توانائی نے ہماری معیشت کا بیڑہ غرق کردیا ہے پاکستان پیداواری عمل سے باہر ہوتا جا رہا اور ہر آنے والے دن میں پیدوار کم سے کم ہوتی جا رہی ہیں امپورٹ بڑھ رہی ہے جس سے پاکستانی معیشت ڈسٹرب ہے توانائی کے بحران نے پاکستان کی چولیں ہلا دی ہیں ۔

عوام کی خواہش ہے کہ فوری طور پر ایسے اقدامات کیے جائیں جس سے ایران گیس پائپ لائن کا منصوبہ مکمل کیا جائے فوری طور پر ایران سے سستا تیل خرید کر عوام کو ریلیف دیا جائے تاکہ پیداواری عمل بحال ہو سکے حکومت نے اس حوالے سے اعلان تو کیا ہے کہ وہ ایران سے سستا تیل خریدنے کے لیے حکمت عملی بنا رہی ہے لیکن عوام چاہتے ہیں جن جنگی بنیادوں پر ثالثی کے لیے لیڈرشپ نے دن رات محنت کی ہے اسی طرح جنگی بنیادوں پر کام کرکے ایران کے ساتھ تیل اور گیس کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اس حوالے سے زیادہ بہتر ہوگا کہ عوام کو اصل صورتحال کے بارے میں اعتماد میں لیا جائے حکومت کی ایران کے ساتھ اس حوالے سے کیا بات چیت ہو رہی ہے ۔

رکاوٹیں کیا ہیں ہم کس حد تک تجارت میں ایران کے ساتھ تعاون بڑھا سکتے ہیں پاکستان کی ثالثی سے عوام کو کیا ثمرات حاصل ہو سکتے ہیں حکومت اس کے لیے کیا کچھ کر رہی ہے مشرق وسطی کے دیگر ممالک سے کس طرح کے فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں امریکہ کے ساتھ اس وقت ہمارے آئیڈیل تعلقات ہیں ان کو کس طرح سے استعمال کرکے کیا فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں پاکستان اس وقت دنیا میں سب سے قابل قبول ملک بن چکا ہے اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستان نے کیا حکمت عملی اپنائی ہے ان سب معاملات پر حکومت کی حکمت عملی واضح ہونی چاہیے تھنک ٹینکس اس پر مشاورتی عمل شروع کریں حکومت کو ان معاملات پر عوام کو اعتماد میں لینے کا اہک فائدہ یہ ہو گا کہ عوام میں ایک بہتری کی امید پیدا ہو گئی اور شاید اسی بہانے سرمایہ کاروں نے اپنا سرمایہ بینکوں کے سپرد کر رکھا ہے اور ڈمپ کرکے بیٹھے ہیں انھیں پیداواری عمل میں لگانا شروع کر دیں۔

حکومت اگر سستے فیول کے حوالے سے کچھ نہیں کر سکتی تو کم از کم پرائیویٹ کمپنیوں کو دنیا سے سستا تیل خرید کر پاکستان میں فروخت کرنے کی اجازت دے دے تاکہ مقابلہ بازی کے رحجان میں پاکستان کے عوام کو سستا فیول دستیاب ہوسکے جس دن پاکستان میں سستا تیل دستیاب ہو گا اس دن سے پاکستان کی معیشت پھلنا پھولنا شروع کر دے گی پاکستان کی ترقی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ مہنگا فیول ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button