لاہور (بیورو چیف/سید ظہیر نقوی) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے فوری نوٹس پر لاہور پولیس نے تیز رفتار کارروائی کرتے ہوئے مبینہ طور پر اغوا کی گئی دو غیرملکی خواتین کو صرف دو گھنٹوں کے اندر بحفاظت بازیاب کرا لیا، جبکہ واقعے میں ملوث چار ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس حکام کے مطابق متاثرہ خواتین کا تعلق ہالینڈ اور وینزویلا سے ہے، جو اپنے دوستوں سے ملاقات کی غرض سے پاکستان آئی تھیں۔ اسی دوران ہالینڈ میں موجود ایک خاتون کے والد نے پاکستان کی ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 پر کال کرکے اپنی بیٹی کے مبینہ اغوا کی اطلاع دی۔
وزیراعلیٰ مریم نواز کا فوری نوٹس
اطلاع ملتے ہی وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے واقعے کا فوری نوٹس لیا اور لاہور پولیس کو ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کی ہدایت جاری کی۔ ذرائع کے مطابق پولیس کو مختصر ترین وقت میں متاثرہ خواتین کی بازیابی یقینی بنانے کا ٹاسک دیا گیا، جس کے بعد فوری سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔
سیف سٹی کیمروں کی مدد سے کارروائی
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق سیف سٹی کے جدید کیمروں، سرویلنس سسٹم اور دیگر تکنیکی وسائل کی مدد سے ملزمان کا سراغ لگایا گیا اور صرف دو گھنٹوں کے اندر دونوں خواتین کو بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ کارروائی کے دوران چار ملزمان کو گرفتار کیا گیا، جبکہ دیگر مشتبہ افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
ایف آئی آر میں سنگین الزامات
پولیس کے مطابق تھانہ ڈیفنس سی میں مقدمہ نمبر 1560/26 درج کر لیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے دونوں خواتین کو اغوا کرنے کے بعد ان کی رہائی کے لیے 15 لاکھ امریکی ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا۔ مقدمے میں متاثرہ خواتین کے ساتھ مبینہ زیادتی کے الزامات بھی شامل کیے گئے ہیں۔
طبی معائنہ اور مزید تحقیقات
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے بتایا کہ متاثرہ خواتین کا طبی معائنہ کرایا جا رہا ہے اور حاصل ہونے والے فرانزک شواہد اور تفتیشی رپورٹ کی بنیاد پر مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ واقعے میں ملوث تمام افراد کو قانون کے مطابق سخت سزا دلانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔
خواتین کے تحفظ پر زیرو ٹالرنس پالیسی
ڈی آئی جی آپریشنز کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے لیے خواتین کے خلاف جرائم "ریڈ لائن” کی حیثیت رکھتے ہیں اور خواتین کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔



