کوہاٹ، بنوں (ویب ڈیسک ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 27 ستمبر کے لانگ مارچ کے لیے بھرپور اور بہترین تیاری کی جائے گی، اس مرتبہ ملک و قوم کی تقدیر اور تاریخ دونوں بدل دیں گے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا ایک روزہ دورے پر بنوں پہنچے، جہاں پاکستان تحریک انصاف کی مقامی قیادت اور کارکنوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ سہیل آفریدی نے 27 ستمبر کے لانگ مارچ کی تیاریوں کے سلسلے میں منعقدہ اسٹریٹ موومنٹ ریلی کی قیادت بھی کی۔
اس موقع پر پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے صوبائی صدر جنید اکبر خان سمیت ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، پارٹی رہنما اور کارکنان بھی موجود تھے۔ ریلی کے شرکاء عمران خان کی رہائی کے حق میں نعرے لگاتے رہے، جبکہ شہر کے مختلف مقامات پر پی ٹی آئی کے پرچم بھی لہراتے نظر آئے۔
27 ستمبر لانگ مارچ کی تیاریاں تیز
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی 27 ستمبر کے لانگ مارچ کے لیے عوامی رابطہ مہم اور تیاریوں کے سلسلے میں خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں کا دورہ کر رہے ہیں۔
بنوں میں ہونے والی اسٹریٹ موومنٹ کو بھی اسی سلسلے کی اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ کی آمد کے موقع پر شہر کے مختلف مقامات پر استقبالیہ گیٹ قائم کیے گئے تھے جہاں کارکنوں اور حامیوں نے ان کا استقبال کیا۔
ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے شاندار استقبال پر بنوں کے عوام کا شکریہ ادا کیا اور کارکنوں پر زور دیا کہ 27 ستمبر کے مارچ کے لیے بھرپور تیاری کریں اور اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔
خیبرپختونخوا کو مزید تجربہ گاہ نہیں بننے دیں گے: وزیراعلیٰ
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا گزشتہ دو دہائیوں سے تجربہ گاہ بنا ہوا ہے، صوبے کے عوام کو کیڑے مکوڑے سمجھنے کی روش مزید قبول نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام نے طویل عرصے سے مشکلات اور قربانیاں برداشت کی ہیں، اب ان کے حقوق، امن اور بہتر مستقبل کے لیے آواز بلند کرنا ضروری ہے۔
امن کی تباہی کی ذمہ داری موجودہ حکومت پر عائد ہوتی ہے: سہیل آفریدی
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے صوبے کی امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ 2022 تک خیبرپختونخوا میں امن تھا، تاہم اس کے بعد کے حالات سب کے سامنے ہیں۔
ان کے مطابق امن کی تباہی کی ذمہ داری موجودہ حکومت اور اسے اقتدار میں لانے والوں پر عائد ہوتی ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے امن کے قیام کے لیے ہزاروں جانوں کی قربانیاں دی ہیں، تاہم بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں نے امن کو تباہ کردیا۔
انہوں نے کہا کہ امن ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے اور صوبائی حکومت خیبرپختونخوا میں امن کی بحالی کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔
پولیس کے لیے 191 ارب روپے مختص کیے گئے: وزیراعلیٰ
سہیل آفریدی نے خیبرپختونخوا پولیس کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پولیس فورس امن کی بحالی اور عوام کے تحفظ کے لیے سینہ سپر ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت پولیس فورس کو ہر ممکن تعاون فراہم کر رہی ہے اور پولیس کے لیے 191 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ کے مطابق پولیس کے انفراسٹرکچر کی ترقی، جدید آلات کی فراہمی اور اہلکاروں کی تربیت پر بھی اربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔
عمران خان کی رہائی کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے
سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جس شخصیت نے امن قائم کیا اور قوم کی عزت نفس بحال کی، وہ عمران احمد خان نیازی ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان قوم کے مستقبل کے لیے ناحق قید کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم اپنے لیڈر کی رہائی کے لیے نکلیں گے اور میں خود اس جدوجہد کی قیادت کروں گا، کیونکہ وہ ہمارے مستقبل کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
عدلیہ اور میڈیا کی آزادی بھی بحال کرنا ہوگی
سہیل آفریدی نے کہا کہ حقیقی آزادی کی جدوجہد میں عدلیہ اور میڈیا کی آزادی بھی بحال کرنا ہوگی۔
صحافی ارشد شریف کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو بھی حق اور سچ بولتا ہے، اسے خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
انہوں نے حق اور سچ کی آواز بلند کرنے والے تمام صحافیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔
27 ستمبر کا مارچ فیصلہ کن ثابت ہوگا: سہیل آفریدی
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کارکنوں اور عوام پر زور دیا کہ وہ اپنے مستقبل کے لیے جرات کا مظاہرہ کریں اور سیاسی جدوجہد میں بھرپور کردار ادا کریں۔
انہوں نے کہا کہ جو جتنا بڑا ظالم ہوتا ہے، اتنا ہی بزدل ہوتا ہے۔
سہیل آفریدی نے بنوں کے عوام سے اپیل کی کہ 27 ستمبر کے مارچ میں اتحاد اور یکجہتی کا شاندار مظاہرہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ 27 ستمبر کا مارچ ملک و قوم کی تاریخ اور تقدیر بدلنے کی جدوجہد ثابت ہوگا۔
اہم نکات
- 27 ستمبر کے لانگ مارچ کی بھرپور تیاری کا اعلان۔
- سہیل آفریدی نے بنوں میں اسٹریٹ موومنٹ ریلی کی قیادت کی۔
- وزیراعلیٰ نے عمران خان کی رہائی کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا۔
- خیبرپختونخوا پولیس کے لیے 191 ارب روپے کا بجٹ مختص کرنے کا دعویٰ۔
- وزیراعلیٰ نے صوبے میں امن کی بحالی کو حکومت کی ترجیح قرار دیا۔
- عدلیہ اور میڈیا کی آزادی کی بحالی پر بھی زور دیا گیا۔



