
اسلام آباد:( ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے کنٹریکٹ ملازمین کی سینیارٹی اور پروموشن سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کنٹریکٹ ملازمت کا عرصہ پروموشن کے لیے ریگولر سروس کا حصہ نہیں سمجھا جا سکتا، جبکہ سینیارٹی کا تعین صرف مستقل (ریگولر) تقرری کی تاریخ سے ہوگا۔
جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس محمد شفیع صدیقی پر مشتمل تین رکنی بینچ نے تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جو جسٹس محمد علی مظہر نے تحریر کیا۔
عدالت نے سندھ سروس ٹربیونل کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے کنٹریکٹ ملازمین کی جانب سے دائر دونوں اپیلیں خارج کر دیں۔فیصلے میں کہا گیا کہ اپیل کنندگان نے سندھ محکمہ زراعت میں کنٹریکٹ ملازمت اور واپڈا میں سابقہ سرکاری ملازمت کے عرصے کو پروموشن کے لیے قابلِ شمار قرار دینے کی استدعا کی تھی، تاہم قانون اس کی اجازت نہیں دیتا۔
کنٹریکٹ ملازمین سول سرونٹس ایکٹ کے تحت "سول سرونٹس” کی تعریف میں شامل نہیں ہوتےلہٰذا کنٹریکٹ سروس کو ریگولر سروس قرار دینا قانون اور سول سرونٹس ایکٹ کی روح کے منافی ہوگا۔ سینیارٹی اور پروموشن کا تعین صرف مستقل تقرری کی تاریخ سے کیا جائے گا اور کنٹریکٹ مدت کو اس مقصد کے لیے شمار نہیں کیا جا سکتا۔
کسی ایک ملازم کو ماضی میں غلطی سے دیا گیا فائدہ دوسرے ملازمین کے لیے قانونی حق یا نظیر نہیں بن سکتا۔قانون جس کام کی براہِ راست اجازت نہیں دیتا اسے بالواسطہ طریقے سے بھی حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اگرچہ کسی وفاقی ادارے میں سابقہ ریگولر ملازمت بعض مالی فوائد کے لیے قابلِ شمار ہو سکتی ہے تاہم اسے پروموشن کے لیے بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔
عدالت نے کنٹریکٹ، ایڈہاک اور ایکٹنگ چارج تقرریوں کی قانونی حیثیت کو ایک دوسرے سے مختلف قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان تینوں اقسام کی تقرریوں کو مساوی نہیں سمجھا جا سکتا۔ کنٹریکٹ ملازمت مخصوص شرائط اور مدت پر مبنی انتظام ہوتا ہے، جسے بعد ازاں ریگولر سروس میں ضم نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ سروس ٹربیونل نے قانون کے مطابق درست فیصلہ دیا اور اس کے فیصلے میں کسی قانونی خامی یا بے ضابطگی کی نشاندہی نہیں ہوئی، لہٰذا دونوں اپیلیں مسترد کی جاتی ہیں۔



