پاکستانتازہ ترینعلاقائی خبریں

ڈیمزکی تعمیر،ستھر اپنجاب مریم نواز کاوژن

لاہور(فیاض ملک) فیاضیاں

قدرت بعض اوقات قوموں کو ایسے وسائل عطا کرتی ہے جو ان کی ترقی، خوش حالی اور بقا کی ضمانت ہوتے ہیں۔ اگر قوم باشعور ہو تو ان وسائل کو ترقی دے کر اپنا مقدر بدل لیتی ہے جبکہ انہی وسائل کی ناقدری قوموں کو بحرانوں کے دہانے پر بھی لا کھڑا کرتی ہے۔
 پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں کبھی دریائوں کا پانی فراواں تھا، لیکن آج یہی ملک پانی کی قلت، زیرِ زمین آبی ذخائر میں مسلسل کمی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے سنگین اثرات کا سامنا کر رہا ہے۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ہم نے کئی دہائیوں تک پانی کو ایک لامحدود نعمت سمجھ کر ضائع کیا، حالانکہ دنیا اسے مستقبل کا سب سے قیمتی سرمایہ قرار دے رہی تھی۔
 اس سنگین لاپرواہی کا ذمہ دار کون ہے؟ اس سوال کی لکیر پیٹنے سے بہتر ہے کہ مسئلے کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے اس کاحل تلاش کیا جائے کہ ابھی وقت ہے، کل کو یہ وقت بھی گزر گیا تو پچھتاوا ہی باقی رہ جائے گا۔سمجھدار قوم وہی ہوتی ہے جو پانی کے ایک ایک قطرے کو محفوظ بناتی ہے، موجودہ صورتحال میں پانی کے ایک ایک قطرے کو محفوظ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
 اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ آج کا بڑا المیہ زیرِ زمین پانی کی تیزی سے گرتی ہوئی سطح ہے۔ پنجاب کے تقریباً تمام بڑے شہروں میں لاکھوں ٹیوب ویل دن رات زمین کا پانی کھینچ رہے ہیں، مگر اسے واپس زمین میں پہنچانے کا کوئی موثر نظام موجود نہیں۔ نتیجتاً ہر گزرتے سال کے ساتھ پانی مزید گہرائی میں جا رہا ہے۔
 اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں صاف پانی کی دستیابی ایک سنگین بحران کی صورت اختیار کر سکتی ہے،بلاشبہ یہی وقت ہے کہ بہتر آبی انتظام کے ذریعے پنجاب کو مستقبل کے چیلنجز کےلئے تیار کیا جا سکتا ہے۔اس حوالے سے اگر دیکھا جائے تو اس گمبھیر مسلئے کے بارے میں ماضی کی کسی بھی سیاسی حکومت نے سنجیدگی سے نہیں سوچا ،بلکہ صرف بلند وبانگ نعروں سے کی کام چلایا گیا تھا ۔
مون سون کی بارشیں ہو یا پھر سیلابی صورتحال ، حکمران آتے پانی میں کھڑے ہوکر تصاویر بناتے اور پھر ٹائیں ٹائیں فش ہوجاتے تھے،لیکن اب کی بار ایسا نہیں، کیونکہ خوش آئند امر یہ ہے کہ پنجاب حکومت کی موجودہ وزیر اعلی مریم نواز شریف نے کم از کم اس مسئلے کو وقتی سیاسی نعرے کی بجائے ایک مستقل قومی چیلنج کے طور پر دیکھتے ہوئے اپنی زیرِ صدارت منعقدہ ایک اجلاس کے دوران صوبے کے تمام بارانی علاقوں، خصوصاً پوٹھوہار کےلئے آئندہ تین برسوں میں مزید 800 منی ڈیمز کی تعمیر کی منظوری دینے کا فیصلہ کیا ہے،جو اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ قیادت کی اصل پہچان یہی ہوتی ہے کہ وہ صرف آج کے مسائل نہیں دیکھتی بلکہ آنے والے کل کے خطرات کو بھی محسوس کرتی ہے اور وہ قیادت مریم نواز شریف کی ہی ہے، جس نے پہلی مرتبہ اس اہم مسئلے کیلئے حل کیلئے عملی طور پر اقدام کا آغاز کیا،اور یہ آغاز صرف زبانی کلامی نہیں کیا بلکہ اس سلسلے میں 110 منی ڈیمز کی تکمیل بھی ایک اہم اور عملی پیش رفت کی صورت میں سامنے آچکی ہے۔
 جن کے ذریعے بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کا عملی آغاز ہو چکا ہے۔ اس نئے منصوبے سے تقریبا 32 ہزار ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش پیدا ہوگی، واضح رہے کہ یہ صرف داد تحسین کیلئے پیش کیلئے جانےوالے اعداد و شمار نہیں بلکہ آنےوالے برسوں میں لاکھوں انسانوں کےساتھ ساتھ ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی اور پورے خطے کے ماحول کےلئے امید کی ایک نئی کرن ہے۔
یقینا یہ ذخیرہ شدہ پانی اس خطے کی تقدیر بدل سکتا ہے جس کی فصلوں کا دارومدار بارانِ رحمت پر ہے،جہاں انسانوں کے پینے کے پانی کی بھی قلت ہے ۔اسی تناظر میں وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے ری چارج ویلز کی تعمیر کی منظوری نہایت بروقت اور دور اندیش فیصلہ ہے۔ اس وقت دیکھا جائے تو پنجاب میں 110 منی ڈیمز کی تعمیر اور مزید 800 منی ڈیمز کی منظوری مریم نواز شریف کا اس سمت ایک مثبت، حوصلہ افزا اور دور رس قدم ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ یہ سلسلہ تسلسل کے ساتھ جاری رہے گا، کیونکہ مضبوط قومیں مسائل کو ورثے میں نہیں چھوڑتیں، بلکہ ان کا حل بھی آئندہ نسلوں کے لیے چھوڑ کر جاتی ہیں۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک برسوں پہلے بارش کے پانی کو دوبارہ زمین میں جذب کرنے کے نظام اختیار کر چکے ہیں۔ اگر پنجاب بھی اسی سمت مسلسل آگے بڑھتا ہے تو نہ صرف زیرِ زمین پانی کی سطح بہتر ہوگی بلکہ سیلابی پانی کے نقصانات میں بھی خاطر خواہ کمی آئے گی۔البتہ اس قومی مقصد کو صرف سرکاری محکموں تک محدود رکھنا مناسب نہیں ہوگا۔ پنجاب حکومت کو چاہیے کہ نجی شعبے کو بھی اس مہم کا حصہ بنائے۔ ہر نئی ہائوسنگ سکیم، ہر بڑے صنعتی منصوبے اور ہر کمرشل کمپلیکس کے لیے ری چارج ویلز اور بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کا نظام لازمی قرار دیا جائے۔
اسی طرح بلدیاتی اداروں کے ذریعے پنجاب کے تمام چھوٹے بڑے شہروں، قصبوں اور دیہات میں ری چارج ویلز کا جال بچھایا جائے تاکہ بارش اور سیلابی پانی کو ضائع ہونے کے بجائے زمین کے قدرتی ذخائر میں منتقل کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام میں پانی کی بچت کے حوالے سے شعور بیدار کرنا بھی ناگزیر ہے، کیونکہ حکومتیں منصوبے بنا سکتی ہیں، مگر ان کی کامیابی عوامی تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہوتی۔یہاں اگر اسی معیار پر موجودہ پنجاب حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کئی ایسے اقدامات کی بنیاد رکھی ہے جو محض وقتی ریلیف نہیں بلکہ دیرپا اصلاحات کی سمت اشارہ کرتے ہوئے ثابت کرتے کہ اگر ماضی کے وزائے اعلی بھی اپنے اپنے دور اقتدار میں ایسے عوام دوست اقدامات کرتے تو شاید پنجاب کی عوام ان سے بھی اسی طرح کا اظہار عقیدت کرتی جو آج وزیراعلی مریم نواز شریف کی ساتھ کرتی ہیں۔
بطور وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کے عوام دوست منصوبوں کی جائزہ لیا جائے تو ان سر فہرست ستھرا پنجاب پروگرام بھی ہے، جس کے ذریعے صفائی کے نظام کو ایک منظم ڈھانچے میں لانے کی ایک کامیاب کوشش کو حقیقت میں تبدیل کیا گیا ، یہی نہیں بلکہ ماحول دوست گرین بس منصوبے کے ذریعے جدید اور کم آلودگی والی سفری سہولتوں کا فروغ دیا گیا ، دیہی و شہری انفراسٹرکچر کی بہتری، کسانوں کے لیے جدید زرعی مشینری پر سبسڈی، فیلڈ اسپتال، کلینک آن ویلز، جدید ٹیکنالوجی پر مبنی عوامی خدمات یا اب پانی کے تحفظ کے لیے منی ڈیمز اور ری چارج ویلز کی تعمیر، ان تمام اقدامات میں ایک مشترک پہلو نمایاں نظر آتا ہے کہ مسائل کو محض وقتی انتظامی فیصلوں سے نہیں بلکہ مستقل ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے حل کیا جائے۔
یہی وہ ویژن ہے جو کامیاب حکومتوں کو عام حکومتوں سے ممتاز کرتا ہے۔پانی محض ایک قدرتی وسیلہ نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کی امانت ہے۔ جو قومیں آج اس امانت کی حفاظت کریں گی، وہی کل خوش حالی اور استحکام سے ہمکنار ہوں گی۔
Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button