
دنیا بھر میں سائبر ٹیرارزم(سائبر یاڈیجیٹل دہشت گردی ) کی اصطلاح کا استعمال اکثر کیا جاتا ہے۔ ڈوروتھی ڈیننگ ایک مشہور امریکی محقق ہیں جو سائبر سیکیورٹی کے امور پر مہارت رکھتی ہیں۔وہ سائبر ٹیررازم کی تعریف کچھ یوں پیش کرتی ہیں، سیاسی یا معاشرتی مقاصد کے حصول کے لیے کمپیوٹرز یا ان سے منسلک نیٹ ورک پر کسی حکومت کو نقصان پہنچانے کے لیے کیے گئے حملے سائبر ٹیرارزم کہلاتے ہیں۔ دہشت گرد ہتھیار پکڑ کر اپنی بات منوانے کی کوشش کرتا ہے اسی طرح ڈیجیٹل دہشت گرد موبائل، کمپیوٹر، جھوٹ، فیک نیوز اور پراپیگنڈے کے ذریعے اضطراب پھیلا کر اپنی بات منوانے کی کوشش کرتا ہے۔
پاکستانی معاشرے میں بھی سائبر یاڈیجیٹل دہشت گردی بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے ۔ڈیجیٹل دہشت گردی کا ’واضح مقصد پاکستانی قوم میں مایوسی پھیلانا اور قومی اداروں کے درمیان اختلافات‘ پیدا کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ڈیجیٹل دہشت گردی کیساتھ ساتھ پاکستان کے دو صوبے بلوچستان اور خیبر پختون خوا دہشت گردی کا شکار ہیںان صوبوں میں سیکیورٹی فورسز پر حملے ہو رہے ہیں اور ہمارے جوان شہید ہو رہے ہیں۔
وقت آگیا ہے کہ مفاہمت کی پالیسی کو ختم کرکے جارحانہ پالیسی اختیار کی جائے کیونکہ ان دہشت گردوں کا قلع قمع کرنا بہت ضروری ہے یہ دہشت گرد اعلیٰ تربیت یافتہ ہیں اور پاکستان مخالف قوتوں کے آلہ کار ہیں اور یہ پاکستان کا امن تباہ کرنا چاہتے ہیں۔پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ کارروائیوں کو جس طرح افواج پاکستان،پولیس اور سیکیورٹی اداروں کے بہادر نوجوانوں نے روکا، اس پر انھیں خراج تحسین پیش کرنے کی بھی ضرورت ہے۔

بلاشبہ پاک فوج کے سپہ سالار سید عاصم منیر پروفیشنل اپروچ رکھتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ملک کی داخلی سلامتی پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے بلکہ مکمل یکسوئی کے ساتھ دہشت گردوں کے قلع قمع کے لیے کارروائی کی جائے تاکہ ملک میں امن وامان بحال ہو اور دہشت گردی کے عفریت کا سرکچل دیا جائے۔
دہشت گردوں کو افواج پاکستان اور اداروں نے یہ پیغام دے دیا ہے کہ پاکستان اس بار پوری طرح ان سے نمٹنے کے لیے تیار ہے اور اس کے پاس اعلیٰ تربیت یافتہ نڈر فورس موجود ہے اور جدید ساز و سامان کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی بھی موجود ہے پاکستان کے اندر دہشت گردی کرنااتنا آسان نہیں ،امید ہے کہ یہ دہشت گردی فوری طورپر ختم ہو جائے گی۔
کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے عسکریت پسند، جو کہ افغانستان کے طالبان کے ساتھ اتحادی ہے اور کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی نے معدنیات سے لدے خطے میں ریاستی افواج، غیر ملکی سرمایہ کاری کے منصوبوں اور انفراسٹرکچر کو تیزی سے نشانہ بنایا ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے آپریشن شعبان شروع کیاگیاہے جو بڑی کامیابی سے جاری ہے۔اس آپریشن کے دوران فضائی اور زمینی کارروائیوں میں اب تک اس نیٹ ورک کے دجنوں دہشت گردوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔
فتنہ الہندوستان,بلوچستان لبریشن آرمی ،بی ایل اے اور دیگر علیحدگی پسند گروپ نیٹ ورک زیادہ تر جنوبی اور ساحلی بلوچستان ،جیسے مکران، خاران، گوادر اور مستونگ میں متحرک ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، یہ نیٹ ورک بھارتی پراکسیز اور غیر ملکی فنڈنگ کے ذریعے پاکستان میں انتشار پھیلانے کا ذمہ دار ہے۔ ان کا بنیادی ہدف ترقیاتی منصوبے ,خصوصاً سی پیک، غیر مقامی مزدور، معصوم شہری اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ہیں۔
خیبر پختو نخوا،بلوچستان میں فوجی آپریشن کا مقصد پورے صوبے میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو ختم کرنا ہے۔ آپریشن شعبان کو دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنے، عسکریت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کرنے اور بلوچستان بھر میں ریاست کی رٹ کو بحال کرنے کے لیے ایک مستقل فوجی مہم کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے آپریشن شعبان دو مختلف جغرافیائی محاذوں پر جاری ہے، جو صوبے کے لیے بیک وقت آپریشنز کے بے مثال پیمانے کی نشاندہی کرتا ہے۔
صوبے کے شمالی اضلاع بشمول زیارت اور گردونواح میں آپریشن ٹی ٹی پی کے عناصر اور ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ پاکستان نے بارہا ٹی ٹی پی پر افغان پناہ گاہوں کو سرحد پار حملوں کے لیے لانچ پیڈ کے طور پر استعمال کرنے کا الزام لگایا ہے۔پاکستان کا موقف ہے کہ گروپ کو افغانستان کے اندر محفوظ پناہ گاہیں اور لاجسٹک سپورٹ حاصل ہے، جس کی وجہ سے وہ بلوچستان میں اپنی کارروائیوں کو وسعت دینے میں کامیاب ہوا ہے۔ جنوبی بلوچستان میں، خاص طور پر لسبیلہ اور خضدار کے اضلاع میں، فوجی مہم بی ایل اے اور اس سے منسلک علیحدگی پسند گروپوں پر مرکوز ہے۔
ان علاقوں نے اہم انفراسٹرکچر اور تجارتی راستوں کے قریب اپنے اسٹریٹجک مقام کی وجہ سے بار بار ہائی پروفائل حملوں کا مشاہدہ کیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ٹی ٹی پی اور بلوچ عسکریت پسندوں کی کارروائیوں کا بڑھتا ہوا اتحاد ایک بدلتے ہوئے اور انتہائی پیچیدہ خطرے کے ماحول کو ظاہر کرتا ہے۔ مقامی عسکریت پسندوں کے ساتھ بلوچستان میں پھیل کر، ٹی ٹی پی نے صوبائی عدم تحفظ کو بڑھا دیا ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ اس پیش رفت نے پاکستانی حکام کو اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے کہیں زیادہ جامع حفاظتی ردعمل ڈیزائن کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔بلاشبہ، آپریشن شعبان اس بات کا اشارہ ہے کہ ان گروہوں کی طرف سے لاحق خطرہ اس حد تک پہنچ چکا ہے جہاں اہم کارروائی ضروری سمجھی جاتی تھی۔ مربوط زمینی حملے، فضائی نگرانی، اور انٹیلی جنس کی قیادت میں ہدف بندی کو منظم طریقے سے دہشت گرد نیٹ ورکس ختم کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر کام کیا جا رہا ہے۔
دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کے لیے پاک فوج ،سکیورٹی فورسز ،پولیس کی قربانیوں کو جتنا خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے انسانیت کے دشمن کے ہاتھوں کوئی جگہ محفوظ نہیں دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں کوئی دین نہیں یہ خون خوار بھیڑیا سے بھی بدتر وہ جہنمی ہیں جن کا مقصد معصوم بچوں اور ،شہریوں کو نقصان پہنچا ہے ملک کے امن وسلامتی کو نقصان پہنچا ہے لیکن یہ مٹھی بھر دہشت گرداپنے مذموم عزائم میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوں گے پاک فوج اور سکیورٹی فورسز ان کا قلع قمع کرنے کے لیے برسر پیکار ہیں اور اپنی جانیں ملک وقوم پر قربان کرکے وطن عزیز کو امن کا گہوارہ بنا رہے ہیں قوم ان بہادر سپوتوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کررہی ہے ہم بھی ان کی عظمت کو سلام پیش کرتے ہیں ان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔



