پاکستانی عوام محوِ حیرت ہیں کہ پاکستان کا موجودہ نظامِ حکومت کس بنیاد پر چل رہا ہے۔ اہلِِ اقتدار اِسے جمہوریت کے نام سے منسوب کرتے ہیں مگر کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا۔ وفاقی حکومت بل کہ وزیرِاعظم پاکستان اپنے ملکی مسائل پر اتنی توجہ نہیں دے رہے جتنی کہ ملکی وسائل استعمال کر کے دیگر معاملات پر توجہ دے رہے ہیں بل کہ اگر یوں کہا جائے کہ اسٹیبلشمنٹ کی چھتری کے نیچے بیرونِ ملک دوروں کے علاوہ ہمسایہ ممالک کے معاملات حل کروا رہے ہیں۔
ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہماری بہادر افواج کو پوری دنیا میں سراہا جا رہا ہے اور ان کی بہادری اور جنگی حکمتِ عملی و تکنیک کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ مگر غور کرنے کی بات یہ ہے کہ سیانے فرماتے ہیں ”اول خویش بعدہٗ درویش“ پہلے اپنے گھر کے معاملات کو تو سنوارو! بعد میں دوسرے ممالک کے مسائل بھی دیکھ لینا۔
پاکستان اس وقت نہ صرف سیاسی لحاظ سے دیوالیہ ہو چکا ہے، بلکہ عوامہنگائی کی چکی میں اس قدر بری طرح پس رہے ہیں کہ آئے دن خودسوزی کے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں۔اور اہلِ اقتدارہیں کہ وہ اسے اہمیت ہی نہیں دے رہے بل کہ آئے دن نئے سے نیا مہنگائی کا بم اپنے عوام پر اِس بے دردی سے پھینک رہے ہیں کہ جیسے اُن کا اس عوام سے کوئی رشتہ ناتا ہی نہ ہو اور عوام بے چارے ہیں کہ بچوں کے نان نفقے کے چکر میں احتجاج کی جرأت تو درکنار، سوچنے کا موقع بھی نہیں پا رہے۔
اِس پر طرہ یہ کہ ملک کو پولیس سٹیٹ بنا دیا گیا ہے ۔ جس کے ہاتھ جو لگتا ہے اسے صاف کرتا جا رہا ہے۔ ملک میں سیاسی جماعتیں جب مفاد پر حرف آنے لگتا ہے تو اکٹھی ہو جاتی ہیں اورآپس میں بندر بانٹ کر لیتی ہیں کہ تو حزبِ اقتدار اور مَیں حزبِ اختلاف، اور جب کبھی اختلاف ہوتا ہے تو ایک دُوسرے کو آنکھیں دِکھا کر اپنا وزن بتانے کی کوشش کرتی ہیں۔
پیپلزپارٹی سندھ کارڈ کا بھرپور استعمال کر رہی ہے، جب کہ مسلم لیگ پنجاب کارڈ کی بھرپورقیمت وصول کر رہی ہے کے پی کے اور بلوچستان اپنا اپنا رونا رو رہے ہیں۔ ان کے مسائل عدم توجہی کا شکار ہیں اور ان کے مستقبل سے خدا نہ کرے دشمن فائدہ اُٹھا جائے۔ آزاد کشمیر جو کہ نہایت ہی حساس خطہ تھا اور اس کے عوام کی اکثریت پاکستان کا دم بھرتی تھی اس کے ساتھ ایسا کھلواڑ کِیا گیا کہ جو معاملات پیار محبت سے اور میز پر بیٹھ کر دُوراندیشی اور دانشمندی سے حل ہو سکتے تھے، ان کے حل کی اب کوئی صورت دُور دُور تک نظر نہیں آتی۔
کشمیری عوام کے دلوں میں اس قدر نفرت پیدا کر دی گئی ہے کہ خاکم بدہن ان کے نظریات تبدیل ہوتے نظر آتے ہیں۔ اس بات سے بھی چشم پوشی نہیں کی جا سکتی کہ حالات کی خرابی سے دشمن نے بھی فائدہ اُٹھایا ہے اور اس تحریک میں کچھ ایسے لوگ شامل ہو گئے جو کہ کسی صورت بھی پاکستان اور کشمیریوں کے دوست نہ تھے، مگر سچ بات تو یہ ہے کہ پاکستان اور آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت نے ناعاقبت اندیشی سے یہ موقع فراہم کِیا۔
ہمارے سیاسی نظام کی بدحالی یہ ہے کہ موجودہ برسرِِ اقتدار حکومت کے اتحادی آپس میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہی نہیں بل کہ ایک دوسرے پر دھاندلی، ووٹ چوری اور غنڈہ گردی کے الزامات لگا رہے ہیں جب کہ وفاقی حکومت کے ایک نہایت ہی اہم وزیر نے آزاد کشمیر کے انتخابات میں اپنی جماعت لانچ کر کے برسرِِ اقتدار جماعت کے خلاف انتخابات میں بھرپور حصہ لیا۔
انتخابی مہم میں جو کچھ کہا جاتا ہے اُس سے کہیں بڑھ کر کہا گیا اور ابھی تک وہ مسند پر قائم ہیں جب کہ وفاقی وزیر داخلہ نے بڑے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ہمارا نظام مکمل طور پر بیٹھ گیا ہے اور اگر ہم اسے تبدیل نہیں کریں گے تو مزید دس سال گذرنے کے بعد بھی ہم اسی صورتِ حالات میں ہوں گے، کوئی بہتری کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
یہ بات عام حالات میں اور اتنی آسانی سے از خود کہنا ناقابلِ فہم بات ہے۔ کیوں کہی گئی اس کے محرکات کیا ہیں اور اس کے پیچھے کون سے عوامل ہیں، اس بارے میں چہ مے گوئیاں جاری ہیں۔ اگر سادہ انداز میں دیکھا جائے تو ہم اسے ایک اور ایک دو کے فارمولے پر رکھ کر پرکھ سکتے ہیں تو نظر آتا ہے کہ موصوف وزیر بغیر کسی سیاسی کیریئر کے پنجاب جیسے بڑے صوبے کے ہوائی مخلوق کے بل بوتے پر وزیرِ اعلیٰ بن گئے اوراس کے بعد وفاقی وزارت کا اور وہ بھی نہایت ہی اہم وزارت کا قلمدان سنبھالا، پھر اپنے دورِ اقتدار میں ایک مضبوط اور طاقت ور وزیر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
اس سے زیادہ تفصیل بتانے کی ضرورت نہیں اور بات سمجھ میں آ جاتی ہے کہ ان کا وزن کتنا ہے۔ اسی لیے موصوف کو وزارتِ عظمیٰ کے دفتر سے بلاواسطہ پوچھا نہیں گیا کہ آپ کو یہ اگر کہنا ہی تھا تو آپ ان سے بات کرتے اور زیادہ سے زیادہ کیبنٹ کی میٹنگ میں یہ بات کرتے۔ خیر یہ فلر چھوڑ دیا گیایا اسے کسی منصوبہ بندی کے تحت ان کی زبان سے کہلوایا گیا۔
اس کا ان کی اس تقریر کے بعد مختلف احباب کے ذریعے اور ان کی زبانی بھی یہ کہا سنا گیا کہ اتنے بڑے بڑے صوبے انتظامی طور پر بہتر انداز میں نہیں چلائے جا سکتے۔ ہم جب اس جواز کو دیکھتے ہیں تو ہمیں بہت سے معاملات کا جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے۔ وہ اس طرح ہے کہ کیا ہماری حکومتوں نے یا بااختیار لوگوں نے مل بیٹھ کر اس بات کی نشاندہی کرنے کی کوشش کی ہے کہ آخر ہم یا ہمارا نظام ناکام کیوں ہو رہا ہے یقینا اس کا جواب نفی میں آئے گا۔
غور کرنے کی بات یہ ہے کہ کوئی بھی حکومتی ادارہ اپنی اپنی ذمہ داریوں کو خلوصِ دِل اور ایمانداری سے نبھانے کے لیے تیار نہیں ہے ادارے اپنا کام کرنے کے بجاے دوسروں کے کام میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔ ہم قرض ملنے پر شادیانے بجاتے ہیں اور دُوسروں کی طرف سے مستعار لی ہوئی رقم کو اپنے سٹیٹ بینک میں رکھ کر بڑی شوخی سے کہتے ہیں کہ ہمارے ریزرو اتنے زیادہ ہو گئے ہیں۔
ہم اپنی عیاشیوں کو کسی صورت کم کرنے کے لیے تیار نہیں بل کہ وزرا، چیئرمین سینیٹ، سپیکر واراکینِ اسمبلی کی تنخواہوں میں تین سے پانچ گنا اضافہ اور دیگر مراعات اپنا حق سمجھتے ہیں۔ آئی ایم ایف سے ملنے والی اور اندرونِ ملک بینکوں سے حاصل کی گئی قرض کی رقم کو غیرپیداواری کاموں پر اس قدر بے دریغ اور بے دردی سے خرچ کرتے ہیں کہ قرض دینے والے ادارے بھی شرماتے ہیں۔
ہمارے بااختیار و اہلِ اقتدار نے کبھی پروفیشنلز کو بٹھا کر اس بات پر غور ہی نہیں کِیا کہ ہم اس معاشی بحران سے کیسے نکلیں۔ واللہ اعلم بالصواب! سوشل میڈیا کی خبر ہے کہ سندھ حکومت کے ایک وزیر کے گھر سے اربوں روپے پکڑے گئے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں اس طرح کی خبریں آتی رہتی ہیں، مگر اس کا انجام کیا ہوتا ہے کسی کو خبر نہیں۔ اس کے مقابلے میں پنجاب میں عام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں سات فی صد جب کہ پنشن میں ساڑھے تین فی صد اضافہ کِیا گیا ہے۔
بڑے صوبوں کی افسرشاہی کے اخراجات گاڑیاں، مفت پیٹرول، مفت رہائش اور دیگر تمام سہولیات کا بوجھ غریب عوام سے ٹیکسوں کی صورت میں وصول کِیا جاتا ہے اور ملک آئے دن قرض کی دلدل میں دھنستا جا رہا ہے جس سے آپ کے سالانہ بجٹ میں محصولات کا آدھے سے زیادہ حصہ اس قرض پر سود کی مد میں ادا کردیا جاتا ہے۔ نظامِ تعلیم کو مفلوج کر کے رکھ دیا گیا ہے۔ عام آدمی کو انصاف حاصل کرنے کے لیے سال ہا سال عدالتوں کے چکر کاٹنا پڑتے ہیں۔ عام آدمی پس رہا ہے جب کہ مراعات یافتہ طبقہ اپنی عیاشیوں میں مست ہے۔
معزز قارئین!
اگر ہم محسن نقوی صاحب کی تجویز کو سامنے رکھیں کہ صوبوں کے انتظامی یونٹس زیادہ کر دیے جائیں، تو ان کے اخراجات کہاں سے اور کیسے پورے کریں گے بلکہ مراعات یافتہ طبقہ مزید پھیلتا جائے گا اور ملک کی بنیادیں کمزور ہوں گی۔ اس کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ تجویز کہیں اسلام دشمن اور پاکستان دشمن طاقت کی طرف سے ملک کو کمزور کرنے اور اس میں مزید افراتفری پھیلانے کے لیے نہ چھوڑی گئی ہو جسے کوئی بھی محبِ وطن منظور نہیں کرے گا، بل کہ اس کے خلاف اپنی بساط کے مطابق مزاحمت کرے گا۔
اللہ پاک مقتدرہ کے دل میں احساس پیدا کرے کہ وہ عام آدمی کے مسائل کو سمجھ کر حل کرنے کی کوشش کرے۔ پاکستان کو صالح، دیانت دار اور محبِ وطن قیادت نصیب فرمائے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حفاظت فرمائے، آمین!
پاک فوج زندہ باد اور پاکستان پائندہ باد!



