پاکستانتازہ ترین

جڑواں شہروں میں دوسرے روز بھی موسلادھار بارش، سڑکیں تالاب بن گئیں، پارلیمنٹ ہاؤس کی چھتیں ٹپکنے لگیں

لاہور، اسلام آباد (ویب ڈیسک) راولپنڈی اور اسلام آباد میں مسلسل دوسرے روز موسلادھار بارش نے معمولات زندگی متاثر کردیئے، نشیبی علاقے زیر آب آگئے جبکہ سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں۔ نالہ لئی میں پانی کی سطح پری الرٹ پر پہنچنے کے بعد رین ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔

ایم ڈی واسا کے مطابق کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے رین ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے، جبکہ فیلڈ اسٹاف کی چھٹیاں منسوخ کرکے تمام متعلقہ عملے کو الرٹ کردیا گیا ہے۔

بارش کے باعث جڑواں شہروں کے مختلف علاقوں میں پانی جمع ہوگیا، جس سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی جانب سے صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جارہی ہے۔

مدینہ ٹاؤن میں چھت گرنے سے میاں بیوی جاں بحق

دوسری جانب مدینہ ٹاؤن میں شدید بارش کے باعث مکان کی چھت گرنے سے میاں بیوی جاں بحق ہوگئے۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق حادثے میں 17 سالہ لڑکی بھی زخمی ہوئی، جسے طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ انتظامیہ کے مطابق گھر کی چھت مٹی اور گاڈرز کی مدد سے تیار کی گئی تھی اور کمزور ہونے کے باعث بارش کے دوران گر گئی۔

پارلیمنٹ ہاؤس کی چھتیں بھی ٹپکنے لگیں

موسلادھار بارش نے پارلیمنٹ ہاؤس کی عمارت کو بھی متاثر کیا، جہاں مختلف مقامات پر چھتیں ٹپکنے لگیں اور عمارت کے اندر پانی جمع ہوگیا۔

رپورٹ کے مطابق سینیٹ ہال کے سامنے لابی میں چھت سے پانی ٹپکنے کے باعث فرش پر پانی کھڑا ہوگیا۔ عملے نے پانی روکنے کے لیے ڈسٹ بن رکھ دی۔

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کے چیمبر کی چھت بھی ٹپکنے لگی، جبکہ ان کے پی ایس او کے کمرے میں پانی جمع ہونے پر وہاں بھی ڈسٹ بن رکھ دی گئی۔

پانی جمع ہونے کے باعث بلاول بھٹو زرداری کے چیمبر کا فرش بھی متاثر ہونے لگا۔

مزید بارش کی پیش گوئی

محکمہ موسمیات نے آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران بھی بارش کی پیش گوئی کی ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق بالائی علاقوں میں مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے، جبکہ پنجاب کے بعض علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور کہیں کہیں موسلادھار بارش متوقع ہے۔

این ڈی ایم اے کا حساس پہاڑی علاقوں کے لیے الرٹ

علاوہ ازیں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے ممکنہ خطرے کے پیش نظر گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر کے حساس پہاڑی علاقوں کے لیے الرٹ جاری کردیا ہے۔

این ڈی ایم اے کے مطابق 23 اگست تک گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر کے حساس پہاڑی علاقوں میں گلیشیئرز اور برف پگھلنے میں اضافے کا امکان ہے۔

بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور مون سون بارشوں کے باعث اچانک سیلاب اور ملبے کے بہاؤ کا خطرہ بھی موجود ہے۔

این ڈی ایم اے کے مطابق 21 اگست تک بالائی علاقوں میں مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔

پنجاب کے کئی اضلاع میں سیلابی صورتحال کا خدشہ

این ڈی ایم اے نے پنجاب کے متعدد علاقوں میں بھی شدید بارش اور سیلابی صورتحال کے خدشے سے آگاہ کیا ہے۔

نارووال، سیالکوٹ، گجرات، جہلم، راولپنڈی، اسلام آباد، چکوال، منڈی بہاؤالدین، حافظ آباد، گوجرانوالہ اور شیخوپورہ میں سیلابی صورتحال کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

لاہور، قصور، فیصل آباد، چنیوٹ اور اٹک کے شہری علاقوں کو بھی ممکنہ سیلابی صورتحال کے حوالے سے حساس قرار دیا گیا ہے۔

این ڈی ایم اے نے تمام بڑے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کا بھی الرٹ جاری کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔

اہم نکات

  • راولپنڈی اور اسلام آباد میں دوسرے روز بھی موسلادھار بارش۔
  • نشیبی علاقے زیر آب، نالہ لئی میں پانی کی سطح پری الرٹ پر پہنچ گئی۔
  • جڑواں شہروں میں رین ایمرجنسی نافذ، فیلڈ اسٹاف کی چھٹیاں منسوخ۔
  • مدینہ ٹاؤن میں مکان کی چھت گرنے سے میاں بیوی جاں بحق، 17 سالہ لڑکی زخمی۔
  • پارلیمنٹ ہاؤس کی مختلف چھتیں ٹپکنے سے عمارت کے اندر پانی جمع ہوگیا۔
  • این ڈی ایم اے کا پہاڑی علاقوں میں گلیشیائی جھیلوں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے پر الرٹ۔
  • پنجاب کے متعدد اضلاع میں سیلابی صورتحال کا خدشہ۔
Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button