شمالی شام میں جھڑپوں کا سلسلہ جاری، مزید 120افرادجاں بحق
جانی نقصان روکنے کی کوشش کی :الشرع، اسما الاسد کا پاسپورٹ برطانیہ واپسی میں رکاوٹ
مشق (صباح نیوز)شمالی شام میں ترک فورسز اور سیرین ڈیموکریٹک فورسز میں خونی جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق جھڑپوں میں 120 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
نبع السلام اور ابو راسین کے علاقوں میں بھاری گولہ بارود کا استعمال کیا جارہا ہے۔
دریں اثنا شام کی عبوری حکومت کے سربراہ احمد الشرع نے کہا ہے کہ شامی باشندوں نے 14 سال تک مصائب برداشت کیے اور وہ المیوں سے گزرے ہیں، شام میں تنازع کا پیمانہ پیچیدہ تھا۔
شام کے بحران کا سیاسی حل ممکن نہیں ہے حکومت کو گرانے کے عمل میں جانی نقصان کو روکنے کی بھرپور کوشش کی گئی، شہریوں کو نقصان نہ پہنچانا ایک ترجیح ہے۔
دریں اثنا سعودی قیادت کی ہدایات پر عمل درآمد کرتے ہوئے شامی جڑواں بچے سیلین اور ایلین الشبلی اپنے اہل خانہ کے ہمراہ وزارت دفاع کے طبی انخلا کے طیارے کے ذریعے لبنان سے سعودی عرب پہنچ گئے۔
مزید براں شام کے سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے اور روس فرار کے بعد برطانیہ میں پیدا ہونے والی ان کی اہلیہ اسما الاسد کے لندن واپسی کے امکان کے گرد سوالات گھوم رہے ہیں،اسما الاسد جو کہ ایک سنگین بیماری میں مبتلا ہیں کو ان کے پاسپورٹ کی معیاد ختم ہونے کے بعد لیوکیمیا کا علاج کروانے کے لیے برطانیہ واپس آنے سے روک دیا گیا ہے۔



