میرے خیال میں لفظ ’’ شوہدا ‘‘3اہم خاندانوں کیلئے تخلیق کیا گیا تھا۔۔۔ شریفوں کے لطیفہ گوہ رفیق تارڈ کے پوتے نے القادر ٹرسٹ کیس المعروف190ملین پاؤنڈ کیس میں چیلنج کیاہے کہ اس کیس کو کوئی غلط ثابت کرکے دکھائے۔
سورج کو جاگنے میں ذرا دیر کیا ہوئی
چڑیوں نے آسمان ہی سر پر اٹھا لیا۔۔۔
کراچی میں پیپلز پارٹی کا جلسہ تھا،انتظامات مکمل تھے،جیالے آنا شروع ہوگئے،چند گھنٹوں میں سر ہی سر نظر آرہے تھے،سٹیج پرخصوصی مہمانوں کو بٹھایا جارہا تھا،مرتضیٰ بھٹو بھی آتے ہیں اور سٹیج پر بیٹھ جاتے ہیں،بس اب اس شخص کا انتظار تھا،جس کی جھلک دیکھنے کیلئے ہزاروں افراد بے تاب تھے،جن کے الفاظ سننے کیلئے تڑپ رہے تھے۔۔۔۔آخروہ شاہانہ انداز میں آئے،سیدھے سٹیج پرپہنچے، مرتضیٰ کو دیکھا،اس کے سامنے جا کھڑے ہوئے،چہرے پر غصے کو اتارا،چیخ کر بولے۔۔۔۔ اوووو !! تو یہاں کیوں بیٹھا ۔۔۔۔ اپنے آپ کو کیا سمجھتا ہے۔۔۔۔مزدوروں ،کسانوں،ہاریوں کے بچے نیچے گراؤنڈ میں بیٹھے ہوئے ہیں،تیری کیا اوقات،یہاں سٹیج پر آکر بیٹھ گیا،خود کو شہنشاہ کی اولادسمجھتا ہے،چل نیچے اتر۔۔۔ کسانوں،مزدوروں،ہاریوں کے بچوں کے ساتھ جاکر بیٹھ ۔۔۔ یہ تھے ذوالفقارعلی بھٹو، اور ہزاروں لوگوں کے سامنے اپنے لاڈلے بیٹے مرتضیٰ علی بھٹو کو سٹیج پر ذلیل کررہے تھے،بھٹو کی غریبوں سے دوستی دیکھ کرلوگوں کی آنکھوں میں آنسو آگئے،میدان بھٹو زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا،مرتضیٰ تقریباًروتے ہوئےسٹیج سے نیچے اترا اور گراؤنڈ میں جاکر عام لوگوں کے درمیان بیٹھ گیا،جلسہ ختم ہوا،لوگ اپنے اپنےگھروں کو چلے گئے،بھٹو خاندان کے افراد بھی گھر آگئے،سب اپنے اپنے کمروں میں آرام کرنے کیلئےچلے گئے،نصرت بھٹو کمرے سے نکلتی ہیں،کیا دیکھتی ہیں،مرتضیٰ لان میں پریشان پھر رہا ہے،پاس جاتی ہیں،مرتضیٰ کوانتہائی دکھی دیکھا،یوں ہی تھا جیسے رو رہا ہو،ماں کا دل کانپ گیا،انہیں پکڑا اور سینے سے لگالیا،پوچھا،بیٹا ۔۔۔!! کیا ہوا۔۔۔؟مرتضیٰ نے روتے ہوئے بتایا،ماما۔۔۔!رات کوپاپا نے خود مجھےحکم دیا کہ سٹیج پر جاکر بیٹھنا،میں انکے حکم پر سٹیج پر جاکر بیٹھااور پھرسب لوگوں کے سامنے مجھے سٹیج پر بیٹھا دیکھ کر ذلیل کیا،مولاناکوثر نیازی بھی نصرت بھٹو کے ساتھ کھڑے تھے،مرتضیٰ کی بات سن کو ہنس پڑے۔۔۔سارا ماجرہ سمجھ گئے۔۔۔۔یہ ہے ڈرامے بازی۔۔۔۔۔۔اب بھٹو کے نواسے کا شوہدا پن پڑھیں،تمام چینل پربریکنگ نیوز چلی،بلاول کو ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کا دعوت نامہ آگیا۔۔۔خبر دیکھ کر میرا تو ہاسا نکل گیا۔۔۔۔کہاں راجا بھوج،کہاں گنگو تیلی ۔۔۔ٹرمپ تو بلاول کو جانتا تک نہیں،وہ پاکستان میں صرف ایک ہی شخص کو جانتا ہے۔۔۔۔ وہ دعوت نامہ نہیں،تقریب میں شرکت کرنے کا ٹکٹ ہے جسے ہزاروں ڈالر میں خریدا گیا ہے،اس ٹکٹ کو کوئی بھی شخص پیسے دیکر خرید سکتا ہے۔۔۔اب آئیں،شریفوں کی جانب،بس ایک ہی خواہش،پہلے بھٹو بننے کی کوشش کرتے رہے،اب عمران خان جیسے بننے کی کوشش،پہلے نوازشریف ہرسرکاری منصوبے کو اپنے نام سے منسوب کرتا تھا۔۔۔اب مریم صاحبہ نے سترہ منصوبوں کے نام نواز شریف رکھ دیئے ہیں،اپنی تو کیا بات ہے،اربوں روپے صرف ذاتی تشہیر پر خرچ کررہی ہیں،تعلیمی اداروں میں آج کل بڑی تقریبات منعقد کررہی ہیں،تقریب سے دوروز پہلے تعلیمی ادارے میں چھٹی کردی جاتی ہے،پھر من پسند اور پلانٹنڈ بچے تقریب میں لائے جاتے ہیں ،ان سے گلے ملتی،اعلانات ہوتے،انہیں تحریک انصاف سے ڈراتی،ہرادا کی ٹک ٹاک بنتی،پھر سرکاری مال پر پلنےوالےیوٹیوبر اور ٹک ٹاکر اس کی تشہیر کرتے،محترمہ نےتو اپنا پورا میڈیا سیل پی ٹی وی پر بھی بٹھایا ہوا ہے ،2013 میں بھی محترمہ نے اپنا میڈیا سیل وزیراعظم ہاؤس میں بنایا ہوا تھا،جو قوم کے پیسوں سے چلتارہا، بچوں سے خطاب کرتے ہوئے کہہ رہی تھیں ’’ میں سب کی ماں ہوں ‘‘۔۔۔۔ مجھے لگ رہا ہے،محترمہ نے خود کو ’’ مادر ملت ‘‘ کہلوانا شروع کردینا ہے۔ 2018 میں محترمہ پر’’ دختر پاکستان‘‘ کے نام سے کتاب بھی مکمل ہوچکی تھی،لیکن ایک وجہ سے شائع نہ ہوسکی،وجہ کو صرف خاکسار ہی جانتا ہے۔۔۔اب وہ ’’دختر سے مادر‘‘ تک آگئی ہیں،امکان ہے اب یہ کتاب شائع ہوگی۔۔۔۔رہا تارڈ دوم کا چیلنج۔۔۔۔۔
جناب تارڈ صاحب !! آپ کے مطابق القادر ٹرسٹ کیس میں وفاقی کابینہ نے بند لفافے میں معاہدے کومنظور کیا، جو غلط ہوا۔۔۔۔اوکے،آپکی بات ٹھیک۔۔۔آگے چلیں۔۔۔ آپ نے ڈیڑھ سال پہلے،پھرنگران حکومت اور اب آپکی حکومت کو ایک سال ہوگیا ہے،جناب ! وہ بند لفافے والا معاہدہ منظر عام پر کیوں نہیں لائے ۔۔۔۔ ؟اجلاس کے منٹس عوام کے سامنے کیوں نہیں لائے۔۔۔ ؟ چلیں چھوڑیں۔۔۔۔وہ معاہدہ غیر قانونی تھا، یہ بات بھی آپکی ٹھیک،اگر وہ معاہدہ غیر قانونی ہے،غلط ہے، تو آپ اس معاہدے کو منسوخ کردیں، وہ پیسے واپس کردیتے، اور شروع سے اب تک دوبارہ کیس لڑا جائے۔۔۔تارڈ صاحب !! القادر یونیورسٹی تو اس معاہدے سے ایک سال قبل قائم ہوگئی تھی۔۔۔ کیس تو ایسے ہے،جیسے ایف اے سے پہلے بی اے کی ڈگری لے لی جائے۔۔۔اورپڑھیں۔۔۔! یونیورسٹی کی زمین ہے458کنال،اس کی مالیت ہے20کروڑ روپے،آڈٹ رپورٹ کے مطابق ٹوٹل زمین اور بلڈنگ کی مالیت صرف 47 کروڑ ہے،آپ نے کیس بنایا ہے190ملین پاؤنڈ کرپشن کا۔۔۔۔ جو بنتے ہیں 64ارب78کروڑ،68لاکھ،46ہزار روپے۔۔۔۔ہے اس بات کا آپ کے پاس جواب ۔۔۔؟ یقیناً۔۔۔ نہیں،کیا ثابت ہوا،مضحکہ خیز مقدمہ بنایا آپ نے ۔۔۔مزید آگے چلو۔۔۔۔القادر یونیورسٹی ایک درسگاہ ہے جو کہ ٹرسٹ کے زیراہتمام چلتی ہے، یہ ٹرسٹ عمران خان یا بشریٰ بی بی کی ذاتی ملکیت ہے نہ اس سے کسی بھی طرح کا فائدہ اٹھا سکتے، نہ اس کے اثاثے ان کے نام کبھی بھی ٹرانسفر ہو سکتے، نہ بیچ سکتے۔۔۔وہاں 90فیصد طلبا مفت تعلیم حاصل کررہے۔۔۔
جناب تارڈ صاحب !! یہ کیس ہے کیا۔۔۔مختصر بتاتا ہوں، ملک ریاض کے بیٹے علی ریاض نے نواز شریف کے بیٹے حسن نواز کو ’’حلال رشوت ‘‘ دینے کیلئے 8 ارب کی پراپرٹی 18 ارب میں خریدی، این سی اے نے ملک ریاض کے اکاؤنٹس برطانیہ میں فریز کردیئے،بعد میں معاہدہ ہوگیا،وہ پیسےپاکستان کو واپس آنے تھے،کابینہ سے منظوری ضروری تھی،لیکن معاہدے میں یہ شرط شامل تھی،کہ معاہدے کو خفیہ رکھا جائے گا،ایسی شرائط اکثر معاہدوں میں شامل ہوتی ہیں،جیسے نواز شریف پرویز مشرف سے معاہدہ کرکے جدہ گئے تھے،شرط یہ تھی معاہدہ خفیہ رکھا جائےگا،اسی طرح یہ ہوا،وہ پیسے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹس میں آگئے،سپریم کورٹ نے اس پیسوں سے بینک سے20ارب منافع حاصل کیا،پھر وہ پیسے سٹیٹ بینک کے اکاؤنٹ میں چلے گئے،پیسے توعمران خان یا بشریٰ بی بی کے اکاؤنٹس میں نہیں آئے تھے،وہ تو سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں آئے،عمران خان نے کیسے کرپشن کرلی ۔۔۔۔ ؟ لطیفے گوہ بھی لطیفہ گوہ ہی رہیں گے ،کوئی سائنسدان تو نہیں بنیں گے۔۔۔یہ ’’نسلی لوگ‘‘ ہیں۔
نوٹ:سی این این اردوڈاٹ کام کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔



