ٹرمپ کا جبری بیدخلی ،اہل غزہ کو عرب ملکوں میں بسانے کا منصوبہ
فلسطینیوں کودوسری جگہ بسانا ’’عظیم خیال‘‘:صیہونی قیادت، اہل غزہ کہیں نہیں جائیں گے: فلسطین، اردن، حماس نے منصوبہ مسترد کر دیا
واشنگٹن (ویب ڈیسک )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ فلسطین پر ایک خطرناک موڑ لیتے ہوئے فلسطینیوں کی منظم نسلی تطہیر، علاقے سے جبری بے دخلی، فلسطینیوں کی عرب ملکوں میں منتقلی اور غزہ پر اسرائیلی قبضے کے منصوبے کا عندیہ دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ اردن، مصر اور دیگر عرب ممالک زیادہ سے زیادہ فلسطینی پناہ گزینوں کو قبول کریں تاکہ علاقہ ’’مکمل طور پر صاف‘‘ ہو سکے۔
غزہ کی پٹی میں مکمل تباہی ہے، ہر چیز ہر عمارت زمین بوس ہو چکی ہے اور لوگ مر رہے ہیں۔ میں نے شاہ اردن سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے اور میں فلسطینی پناہ گزینوں کو قبول کرنے پر اردن کو سراہتا ہوں، اب مصری صدر سے بات کروں گا، میں چاہتا ہوں کہ مصر ان لوگوں کو قبول کرے، شاید یہ 15لاکھ افراد ہوں گے، ہم چاہتے ہیں کہ یہ علاقہ بالکل صاف ہو جائے۔
اپنے طیارے ایئرفورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ غزہ صدیوں سے تنازعات کی زد میں رہا ہے، یہ آبادکاری عارضی یا طویل مدتی ہو سکتی ہے، لہٰذا میں کچھ عرب ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہوں گا اور ہم مختلف مقامات پر مکانات تعمیر کریں گے جہاں فلسطینی رہ سکیں۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ اسرائیل کو 2ہزار پونڈ وزنی بموں کی فراہمی بحال کر دی ہے، ہم نےیہ بم اسرائیل کو دے دیئے ہیں کیونکہ کی قیمت اسرائیل نے ادا کی ہوئی تھی۔
اسرائیلی وزیر خارجہ گیدون ساعر اور وزیر خزانہ بزلیل سموترچ نے ٹرمپ کی تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک ’’عظیم خیال‘‘ قرار دیا اور کہا کہ بہتر زندگی شروع کرنے کیلئے دوسرے علاقےتلاش کرنے میں فلسطینیوں کی مدد کرنے کا خیال بہت اچھا ہے۔
ادھر حماس کے رہنما باسم نعیم نے اس تجویز کو فلسطینیوں کو گھر سے ہمیشہ کیلئے بے دخل کیے جانے کے دیرینہ خدشات کی بازگشت قرار دیا، انہوں نے کہا کہ فلسطینی کسی بھی پیشکش یا حل کو قبول نہیں کریں گے، چاہے ایسی پیشکش کتنے ہی اچھے الفاظ میں لپیٹ کر کی جائے۔اسلامی جہاد نے ٹرمپ کی اس تجویز کی مذمت کرتے ہوئے اسے جنگی جرائم کی حوصلہ افزائی قرار دیا اور کہا کہ ہمارے لوگوں کو اپنی سرزمین چھوڑنے پر مجبور کرنے والی یہ تجویز جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی حوصلہ افزائی کے زمرے میں آتی ہے۔
فلسطینی اتھارٹی نے منصوبہ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ 1948ء اور 1967ء کی تباہی کو دوہرانے کی اجازت نہیں دیں گے،فلسطینی صدر محمود عباس کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ہمارے لوگ کہیں نہیں جائیں گے۔
اردن کے وزیر خارجہ ایمن صفدی نے منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں کی کسی بھی قسم کی بے دخلی کو مسترد کرنے کا ہمارا موقف مضبوط اور غیر متزلزل ہے، ہماری ترجیح اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ فلسطینی اپنی زمین پر موجود رہیں۔
امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے اپنے ردعمل میں کہا کہ ٹرمپ کا غزہ کو فلسطینیوں سے خالی کرنے کا منصوبہ قابل عمل نہیں ہے۔



