پاکستانتازہ ترینکالم

حقیقت یہی ہے۔۔۔!!

بے لگام / ستارچوہدری

مجھے نہ گرنے کا درد ہوا، نہ فاصلے کی طوالت کا، اور نہ ہی شدید ٹکراؤ کا، جو چیز واقعی مجھے تکلیف دے گئی، وہ یہ تھی کہ میں اس ہاتھ پر بھروسہ کر رہا تھا جس نے مجھے دھکا دیا۔۔۔۔۔ اس لئے ۔۔۔۔۔اپنے جذبات کی کمزوری کے سامنے جھکنے سے بچو، سخت اور مضبوط بنو، خود کو تنہائی اور صدمات کا عادی بناؤ تاکہ شکست کا احساس نہ ہو، کیونکہ کوئی بھی چیز تمہیں توڑنے کے قابل نہیں۔۔۔۔۔۔ میں نے زندگی میں بہت جھوٹ بولے،کسی سے نہیں،اپنے آپ سے۔۔۔۔ اس لئے۔۔۔۔میرا دل کہیں جوان نہ ہوجائے،صرف بچہ ہی رہے۔۔۔۔۔ بچہ رہے گا توجلد بہل جایا کرے گا،وعدوں سے،خوابوں سے،خیالوں سے،جوان ہوگیا تو جلد مر جائے گا۔۔۔۔مرنا موت کو ہی نہیں کہا جاتا،زندہ انسان بھی مرا ہوا ہوتا ہے،مرا ہوا انسان بھی زندہ ہوتا ہے۔۔۔۔جاگتی آنکھیں خواب دیکھو،بڑے خواب،مشکل میں ہوتو اس سے بڑے خواب دیکھو۔۔۔۔

 

’’مصر کی حکمرانی ملنے سے پہلے کنویں میں گرنا پڑتا ہے‘‘ ۔۔۔۔ آپکو بھی تعبیر مل سکتی ہے،خواب آپکو مرنے نہیں دینگے،اپنے من کی دنیا بساؤ اور پھر اس میں شہنشاہ بن کررہو،تمہاری زندگی ’’ آج ‘‘ ہے،کل نہیں،کل کا کس کو پتا۔۔۔۔؟ جس کا پتا نہیں،اس کیلئے پریشانی کیوں۔۔۔۔؟ خواہشات کے پیچھے نہ بھاگو،یہ وہ راستہ ہے جہاں سے واپسی ناممکن،بھٹک جاؤگے،خود کو آسائشات کا عادی نہ بناؤ،آسائشات دنیا کا سب سے خوفناک نشہ ہے،قبر تک لے جاتا ہے۔۔۔۔یونانی فلسفی ڈائیو جینس سخت حالات میں زندگی گزارتے تھے اور سادہ غذا،روٹی اور دال کھا کر گزارہ کرتے تھے،جب فلسفی ارسٹیپس نے انہیں دیکھا تو کہا، اگر آپ بادشاہوں کی جی حضوری کرنا سیکھ لیتے تو آپ کو دال کھا کر گزارہ نہ کرنا پڑتا،ڈائیو جینس بولے، اگر تم نے دال کھانا سیکھ لیا ہوتا تو تمہیں ہر روز بادشاہوں کی غلامی اور چاپلوسی نہ کرنا پڑتی،انسان کی فطرت اس کے نظریات،اس کے اصول اور اقدار کا جوہر ہی اسے ڈائیو جینس یا ارسٹیپس بناتا ہے۔۔۔

 

دولت آپکی ضروریات تو پوری کرسکتی ہے، خوابوں کو تعبیردے سکتی ہے،لیکن یہ ضروری نہیں آپکو خوشی بھی دے سکے۔۔۔۔میں نے جھگیوں میں ہنستے ہوئے،جشن مناتے ہوئے،قہقہے لگاتے ہوئے لوگ دیکھے ہیں،میں نے محلات میں ایسے لوگ دیکھے ہیں جو ہنسنا بھول گئے ہیں،اللہ تعالیٰ کے بعد صرف اور صرف اپنے آپ پر بھروسہ کرو،اس نفسا نفسی کے دور میں کوئی آپ کا ہاتھ نہیں تھامے گا،کسی پر بھروسہ آپکو سوائےمایوسی کے کچھ نہیں ملے گا،یاد رکھیں،آدمی کوسب سے زیادہ تکلیف اس وقت ہوتی ہے جب وہ ہاتھ دھکادے جس پر بھروسہ کیا ہوتا ہے۔۔۔۔’’سب سے قریبی لوگوں کا وارسب سے خطرناک ہوتا ہےکیونکہ وہ کم فاصلے سے کیا جاتا ہے‘‘۔۔ کسی عقلمند سے پوچھاگیا،آپ شعور کے اس درجے تک

 

کیسے پہنچے۔۔۔؟ آپ نے کون سی کتابیں پڑھی ہیں۔۔۔؟اس نے جواب دیا۔۔۔ ’’ میں نے پچاس طعنے سہے،ستر جھگڑے برداشت کیے،اور کئی بحرانوں کا سامنا کیا‘‘ اپنوں کی نظروں میں دغا دیکھا تواحتیاط کرنا سیکھ لیا، جن سے محبت کی،ان کی آنکھوں میں ظلم دیکھا تو خاموش رہناسیکھ لیا،قریبی دوستوں سے دھوکا کھایا تو جدائی کوقبول کرنا سیکھ لیا، بہت سے اپنوں کو دفنایا اور یہ جانا کہ محبت کو زندہ رکھنا چاہیے،اگر دنیا کو سمجھنا ہے تو یہ واحد کتاب ہے جس کا کوئی اختتام نہیں، اور میں جانتا ہوں زندگی کے سبق مفت نہیں ملتے۔۔۔۔جو کرنا چاہتے توخاموشی سے کرگزرو،کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو،کسی کو بتاؤگےتو ہزاروں رکاوٹیں کھڑی ہوجائیں گی۔۔۔

 

’’ نااہلی حسد کواورحسدسازش کو جنم دیتا ہے‘‘ آپ نے بس ان سازشوں سے بچنا ہے،اس کا ایک ہی طریقہ ہے ’’ خاموشی‘‘۔۔۔۔جب کچھ کرگزرو گے تو سب کو نظر آجائے گا،اس راستے پر چلتے ہوئے ہر بھوکنے والے کتے کو پتھر نہ ماریں،کیونکہ جب آپ ہر بھونکنے والےکتے کو پتھر مارنے لگیں توآپ کبھی منزل پر نہیں جاسکتے،یہ بات تعویز بنا کر گلے میں ڈال لو،دنیا کامیاب لوگوں کے ساتھ ہی کھڑی ہوتی ہے،یہ کوئی نہیں دیکھتا،کامیابی کیسے حاصل کی،آپکے رشتے بھی قائم رہتے ہیں،آگے پیچھے تعریفیں کرنے والوں کا بھی رش ہوتا ہے،آپکی ہربات کو اہمیت دی جاتی ہے،آپکی بک بک پر واہ،واہ ہوتی ہے۔۔۔۔ اورسنو !! اگرآپ ناکام ہورہے،برے دنوں سے گزررہے تو کتے تمہارے اوپر بھونکیں گے اور گدھے نصیحیتیں کریں گے۔۔۔یہ محبت،عشق،دوستی،وفاداری،اپناپن،نظریہ، ان سب باتوں سے نکل جائیں،یہ باتیں کتابوں،فلموں،ڈراموں میں اچھی لگتی ہیں،حقیقت میں تباہی ہیں،پچھتاوا ہیں،دکھ ہیں،شکوے ہیں،سب سے پہلےاپنی ذات کو ترجیح دیں،پہلے اپنا سوچیں،کسی کا نہیں۔۔۔۔

 

ہاں !! اگر آپکو کچھ بننے میں دیرلگ رہی ہے تو گھبرائیں نہیں،سنیں !! آپ نے سڑکوں پر دیکھا ہوگا،رکشے پر جانے کیلئے لوگ اسے سیٹی مار کر روکتے ہیں، ہوائی جہاز پر جانے کیلئے کبھی اسے سیٹی مار کر روکا۔۔۔؟ اس کیلئے دو گھنٹے پہلے ائیرپورٹ پر جاکر انتظار کرتے ہیں۔۔۔۔ایسا کیوں ؟ رکشے بننے میں صرف ایک دن لگتا ہے لیکن ہوائی جہاز بننے میں ایک سال لگتا ہے،اگر آپ کو آج کچھ بننے میں دیرلگ رہی ہے تو گھبراؤ مت،جس دن آپ کچھ بن جائیں گے،آپ سے ملنے کیلئے بھی لوگ دو گھنٹے پہلے آپ کا انتظار کرینگے۔۔۔تاکید ہے ۔۔۔!! اپنے آپ سے جھوٹ بول لیں،دل کو کبھی جوان نہ ہونےدیں،اسے صرف بچہ رکھیں،ورنہ مرجاؤ گے،موت صرف مرنے کو ہی نہیں کہتے،بہت سارے زندہ انسان مردہ دیکھے ہیں،بہت سارے مرے ہوئے انسان زندہ دیکھے ہیں، اپنے جذبات کی کمزوری کے سامنے جھکنے سے بچو، سخت اور مضبوط بنو، خود کو تنہائی اور صدمات کا عادی بناؤ تاکہ شکست کا احساس نہ ہو، کیونکہ کوئی بھی چیز تمہیں توڑنے کے قابل نہیں۔۔۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button