اسد فاطمی کا شعری مجموعہ ”پَس انداز“ دل کی پرتوں کی دنیا
لاہور:(تبصرہ/شہزاد فراموش)اسد فاطمی کا شعری مجموعہ ”پس انداز“ محض غزلوں اور نظموں کامجموعہ نہیں یہ دل کی اُن پرتوں کی دُنیا ہے جنہیں عام انسان اپنے اندر دبائے رکھتا ہے، مگر شاعر انہیں لفظوں کے چراغ بنا کر سامنے رکھ دیتا ہے۔کتاب کے آغاز میں قاری سوچتا ہے وہ شاعری پڑھ رہا ہے، مگر چند صفحات بعد اس کا یہ احساس بدل جاتا ہے۔پھر قاری محسوس کرتا ہے کہ وہ شاعری نہیں پڑھ رہا بلکہ ایک تجربے سے گزر رہا ہے۔ایسا تجربہ جو تنہائی کی بھیگی ہوئی دیواروں پر اپنی اداسی کو نقش کرتا جاتا ہے۔ جیسے ماضی کی سانسیں قاری کے کان میں سرگوشیاں کر رہی ہوں۔
اسد فاطمی کے لہجے میں شائستگی بھی ہے، کڑواہٹ بھی ہے مگر تہذیب کے پردے میں لپٹی ہوئی،غم بھی ہیں مگر صبر کے زیور پہنے ہوئے، طنز بھی ہے مگر آنکھیں جھکا ئے ہوئے اور امید بھی ہے مگر ایسے جیسے برف پگھلنے کی آواز۔
”پس انداز“ کی غزلیں روایتی بھی ہیں اور بے مثال بھی۔پہلی غزل کے بعد ہی قاری کو احساس ہوتا ہے کہ یہاں غم محض غم نہیں،یہ وہ پانی ہے جس سے شاعر کے نفس کا پرندہ سیراب ہوتا ہے،وہ پرندہ جو نہ اڑتا ہے، نہ بیٹھتا، بس دل کے قفس میں پھڑپھڑاتا رہتا ہے۔ فاطمی نے نہ صرف کلاسیکی رچاؤ برتا ہے، بلکہ آج کی بے رنگ زندگی کے زخموں کوایسے رنگ میں سمویا ہے جو صرف اس کا اپنا ہے۔
کنارے کھڑے اہل عبرت سنو، میری بستی میں میری خبر جا کے دینا
مگر یہ نہ کہنا کہ ڈوبا تو ایسے کہ دو ہاتھ پاؤں بھی مارے نہیں ہیں
غزلوں میں جگہ جگہ تلخ حقیقتیں ہیں، اداس کنایے ہیں اور ٹوٹے ہوئے خوابوں کی کِرچیاں، مگر ان سب کو شاعر نے فن کے مہذب سانچے میں ڈھال دیا ہے۔ ہر غزل میں ان کے لہجے میں نرمی کم نہیں ہوتی، بل کہ زخموں کی آنچ بڑھ جاتی ہے۔یہاں فاطمی ”ہمکلام“ ہونے کی خواہش میں اپنا پورا وجود سامنے رکھ دیتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے انہوں نے لفظوں کا دروازہ کھول دیا ہواور قاری کو کہہ رہے ہوں!
پیشِ بتاں جو بات ہو، رازِ خدا سے کم نہیں
مجھ سے نہیں خدا سے ڈر، مجھ سے بھی ہمکلام ہو
یوں لگتا ہے جیسے اسد فاطمی غزل کے مصرعے نہیں کہتے،بلکہ ایک تجربہ گاہ میں احساسات کو پگھلا کرلفظوں کے سانچوں میں ڈھالتے ہیں، اب یہ دیکھیئے۔
سخن کی مشقوں پہ اہل ِ مکتب نے لال رشنائیاں چلائیں
کنواریوں نے چھپا کے بکسوں میں رکھ دیے پارچے پٹولے

جیسے جیسے ”پس انداز“پڑھتے جائیں، اس کا لہجہ بدلنے نہیں لگتا،بل کہ گہرا ہونے لگتا ہے۔جیسے پہلا قطرہ بارش کا اعلان کرتا ہے اور پھر پورا آسمان دل کی چھت پر گِر پڑتا ہے۔اسد فاطمی کی ایک اور غزل کرب کا رقص اور شکست کا سنگیت ہے، اس کی ”زبوں زبوں“ ردیف بظاہر سادہ، مگر معنی میں حد درجہ تہہ دار ہے۔ شاعر نے اس میں زمانے کی شکست، آدمی کی بے اختیاری اور معاشرے کی بے رخی سب کو پرو دیا ہے۔اس غزل کے اشعاربھی معاشرے کے دکھوں کا مرقع ہیں۔
سارا جہاں زبونیءِ ایام سے خراب
اور اپنا حال بھی ہے لہٰذا زبوں زبوں
یہ شعر پورے عہد کا آئینہ ہے، یہاں شاعر نے خود کو زمانے سے الگ نہیں کیا،وہ اپنے زخم کو مجموعی انسانی دکھ کا حصہ سمجھتا ہے۔ آخر میں جب شاعردربارِ شاہ میں اپنی خاموشی کا ذکر کرتا ہے تونہایت لطیف طنزایک ادبی شوخی میں خود کو چھپا لیتا ہے۔
ہے آج بزمِ شاہ میں کیوں فاطمی خموش
بوالفضل ہے اداس، دو پیازہ زبوں زبوں
یہ اختتام اس غزل کو صرف غم سے ہی اوپر نہیں اٹھاتا۔ یہ اسے مزاحِ تلخ، فلسفہ اور معاشرتی نوحہ بنا دیتا ہے۔ اس غزل کی عظمت یہی ہے کہ اس میں غم بھی ہے، لطافت بھی، بے بسی بھی، ہنسی بھی اور شکست بھی ہے، مگر شکست کو برتنے کا کمال بھی۔
”پس انداز“ کے قطعات اس بات کا اعلان ہیں کہ شاعر مختصر ترین فضا میں بھی مکمل منظر اور مکمل کیفیت پیدا کر سکتا ہے۔ چند مصرعے، دو چار سطریں مگر ان میں پورا ایک فلسفہ ہے۔ دنیا کی بے وفائی، وقت کا زیاں، محرومی کے موسم اور سماجی ناہمواری کے دردناک اشارے۔قطعات کی خوبی یہ ہے کہ وہ پڑھنے والے کو ہلا دیتے ہیں اور سُننے والے کو تڑپا دیتے ہیں۔یہ فن بہت کم شاعروں کے حصے میں آتا ہے اور اسد فاطمی اس فن میں بے حد پختہ نظر آتے ہیں۔
اسد فاطمی کی نظمیں دیکھ کر قاری خود کو آدھا دھوپ، آدھا چھاؤں میں محسوس کرنے لگتا ہے۔ ایسے جیسے کوئی پچھلے جنم کی آواز مٹی کی تہوں سے ابھر رہی ہو۔ کوئی نامعلوم صدی اپنی چیخیں زخموں کے کٹورے میں ڈال کرپڑھنے والے کے سامنے رکھ رہی ہو۔ ان کی نظم ”شگافِ گور سے ایک آواز“ کسی قبرستان کا پتھر نہیں، یہ ایک پوری نسل کا مرثیہ ہے، جن کے حصے میں زندگی تو آئی مگر اس کے ساتھ ذلت، تھکن، بے چراغ راتیں، اَن گنت انتظاراور محرومی کے کالے مینڈک بھی آئے۔ میں یہاں نظم کی تھوڑی سی جھلک دکھاتا ہوں۔
”ذرا تھام کے کتراے کِرم ِ مردہ خور تیرے پنجہ و دندان نازک ہیں
یہ چمڑی نیم اور کیکر کی جڑ سے بڑھ کے کڑوی ہے
ہمارا کیا، اگر توبھی نہ ہوتا تو بھی خود سے گَل ہی جانا تھا
ہماری زندگی یوں تھی…………
ہماری زندگی یوں تھی، کہ کچھ کہنی نہیں بنتی
ہم اپنی زندگی کے رزم نامے کی زمینِ ہجو خود ہی تھے
کسی نے بات کی تو بس یہ پوچھا کہ بتاؤ بے تمہارے محضرِہستی کا رد کیا ہے؟
کسی نے ہاتھ شانے پر رکھا تو یوں دبایا کہ یہاں پر بارِ رنج و خشم برداری کی حد کیا ہے
ہمیں تو ماتمِ مرگ ِ تمنا میں بھی جب ساری نشستیں پُر ہوئیں تو صاحبِ مجلس نے تب جا کر بلایا تھا
ہمیں بستی کے حلوائی نے میلے کا تبرک تین سو اور ساٹھ دن تک بے مزا کر کے کھلایا تھا“
کتاب کے آخر میں ” ہفت سین“ کے نام سے فارسی کلام پورے مجموعے کو ایک نئی رفعت دیتا ہے۔یہ اشعار بیدل اور غالب کے ورثے سے جڑے محسوس ہوتے ہیں،مگر اپنی الگ شناخت رکھتے ہیں۔زبان کی چاشنی، لہجے کا بانکپن اور مضمون کی روانی بتاتی ہے کہ شاعر فارسی کے صرف قاری نہیں اس کے وارث بھی ہیں۔ فارسی غزلوں نے کتاب کوایک روحانی حسن بخش دیا ہے۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ کتاب اپنے اختتام پرایک صوفیانہ کیفیت میں جا کرشانت ہو گئی ہو۔دو اشعار ملاحظہ ہوں۔
در خوردہ ء موعو د ، آیا کہ ہمیں ہود
در سہم ِ مرا سود ، آیا کہ ہمیں بود
پندار چہ آراست، امید چہا خواست
تقدیر چہ فرمود ، آیا کہ ہمیں بود
اسد فاطمی کا یہ مجموعہ غم کا ذخیرہ بھی ہے اور زندگی کے بے نام عذابوں کا تخمینہ بھی۔ یہ کتاب لفظوں کا روزنامچہ نہیں،انسانی تجربے کا حساب ہے جسے سانجھ پبلی کیشنز کی روحِ رواں امجد سلیم منہاس نے 46/2مزنگ روڈ لاہور سے شائع کی ہے۔ اغلاط سے پاک خوبصورت ٹائٹل کیساتھ معیاری شاعری، سودا مہنگا نہیں۔رابطہ -4051741-0333 -4686276-0331



