پاکستانتازہ ترینسائنس و ٹیکنالوجیعلاقائی خبریںکاروبار

حنیف عباسی نے ریلوے کو پٹڑی سے اتاردیا؟عید سے قبل مزید8ٹرینیں بند،مسافرخوار

بولان میل، خوشحال خان خٹک ایکسپریس، مہران ایکسپریس، چمن پسنجر، ماروی ایکسپریس، سمن سرکار ایکسپریس، موہنجوداڑو ایکسپریس اور راوی ایکسپریس بند،آپریشنل اخراجات وجہ بنے:ترجمان ریلوے

لاہور:(بیوروچیف/سید ظہیر نقوی)ایندھن مہنگا ہونے کا بہانہ بنا کر پاکستان ریلویز نے مزید8ٹرینوں کو بند کردیا۔ پاکستان ریلویز ایک بار پھر ناقص منصوبہ بندی، مالی بدانتظامی اور نااہل پالیسیوں کی وجہ سے شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو جواز بنا کر ملک بھر میں چلنے والی 8 اہم ٹرینیں عارضی طور پر بند کر دی گئی ہیں، جس سے لاکھوں مسافر مشکلات کا شکار ہو گئے۔

مسافروں اور شہریوں کا کہنا ہے کہ لگتا ہے حنیف عباسی نے ریلوے کو ہی پٹڑی سے اتاردیا ہے دنیا بھرمیں ریلوے پھل پھول رہی ہے جبکہ پاکستان میں حالات انتہائی خراب ہیں۔ریلوے ذرائع کے مطابق بڑھتے ہوئے فیول اخراجات اور کم ہوتی آمدن کے باعث ٹرین آپریشن جاری رکھنا مشکل ہو گیا تھا، تاہم عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ہر بحران کا بوجھ صرف مسافروں پر ڈالنا ریلوے حکام کی ناکامی کا کھلا ثبوت ہے۔

بند کی جانے والی ٹرینوں میں بولان میل، خوشحال خان خٹک ایکسپریس، مہران ایکسپریس، چمن پسنجر، ماروی ایکسپریس، سمن سرکار ایکسپریس، موہنجوداڑو ایکسپریس اور راوی ایکسپریس شامل ہیں۔

مسافروں اور شہری حلقوں نے وزیر ریلوے اور اعلیٰ حکام پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریلوے میں کرپشن، ناقص انتظامی فیصلوں اور غیر سنجیدہ پالیسیوں نے ادارے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ ریلوے حکام اپنی نااہلی چھپانے کیلئے کبھی فیول قیمتوں اور کبھی مسافروں کی کمی کو بہانہ بناتے ہیں، جبکہ حقیقت میں ادارہ مستقل بدانتظامی کا شکار ہے۔

شہریوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ریلوے ہر بحران میں ٹرینیں ہی بند کرتی رہے گی تو عام آدمی کیلئے سستا سفر کہاں باقی رہے گا؟ عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ریلوے کے مالی معاملات، خسارے اور انتظامی ناکامیوں کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی جائے۔

ترجمان ریلوے کا کہنا ہے کہ آپریشنل اخراجات میں اضافے کے باعث ٹرینیں عارضی طور پر بند کی گئی ہیں اور حالات بہتر ہونے پر انہیں بحال کیا جائے گا، تاہم مسافر اس وضاحت کو ناکافی قرار دے رہے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button