میں صرف پینٹ نہیں کرتا بلکہ منظر کی مکمل گہرائی بھی دکھاتا ہوں: مصور محمد مزمل
میں نے مغلیہ دور کے کچھ مناظر پر مشتمل منی ایچر پینٹنگز بنائی ہیں:نوجوان مصور محمد مزمل سے خصوصی گفتگو
انٹر ویو : تصاویر: رانا محمد طاہر
نوجوان مصور محمد مزمل خان کی مصوری میں کم عمری ہی میں ان کے فن پاروں میں جو پختگی، باریکی اور گہرائی نظر آتی ہے، ان فن پاروں کو دیکھ کر کیمرے سے بنی تصویر کا گمان ہوتا ہے۔ ان کا کام ہائپر ریئلسٹک ہے اور حقیقت کے اتنا قریب ہے کہ لگتا ہے جیسے اصل منظر آنکھوں کے سامنے موجود ہے۔ اس منفرد انداز کے حامل نوجوان مصور جنہوں نے اس فن میں تعلیم حاصل کرنے کی خاطر کراچی سے لاہور آکر چار سال تک اپنی فیملی سے دور رہنے کی قربانی دی سے ’’جہانِ پاکستان‘‘ نے گفتگو کی۔انہوں نے بتایا کہ میں کراچی میں پیدا ہوا، یہیں ابتدائی تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں نیشنل کالج آف آرٹس لاہور سے گریجویشن کیا۔ میں اپنے والد سے بہت متاثر ہوں۔ میرے والد محمد رستم خان ملک کے نامور مصور ہیں وہ تمام میڈیمز میں کام کرتے ہیں۔ ان کی قومی اور بین الاقوامی سطح پر لاتعداد نمائشیں ہو چکی ہیں۔ انہیں دیکھ کر میں بھی پینٹنگ بنانے کی کوشش کرتا تھا۔ میرے شوق کو دیکھ کر انہوں نے مجھے مصوری کی ابتدائی تربیت دی۔ان کے اسٹوڈیو میں ان کے شاگرد محمد ذیشان نے مجھے نیشنل کالج آف آرٹس لاہور کے بارے میں بتایا اور مشورہ دیا کہ وہاں جا کر اس شعبے میں تعلیم حاصل کروں۔ وہاں داخلے کے لیے سخت امتحان سے گزرنا پڑتا ہے جو خالص میرٹ پر ہوتا ہے۔ پانچ سو سیٹوں میں صرف پانچ افراد کو داخلہ ملتا ہے۔ اس لیے داخلے کے لیے مجھے اپنے آپ کو تراشنا پڑا۔ سخت محنت اور والد کی رہنمائی سے میں نے پہلے نمبر پر اے پلس پوزیشن حاصل کی اور یوں میری فنی زندگی کا سفر شروع ہوا اور مجھے پروفیشنل آرٹسٹ کا لقب ملا۔
اس اعزاز کی لاج رکھتے ہوئے میں نے اپنے کام پر بھرپور توجہ دی۔میری مصوری کا اہم موضوع لیاری ایکسپریس وے کے راستے میں آنے والے لاتعداد مکانات کی مسماری کے بعد کے وہ مناظر ہیں جن میں میرا اپنا گھر بھی شامل تھا۔ اس گھر سے میری زندگی بھر کی یادیں وابستہ تھیں۔ اس کی یاد آتی ہے تو آنکھیں بے اختیار نم ہو جاتی ہیں۔ کیماڑی سے سہراب گوٹھ تک اس منصوبے کے درمیان آنے والے پندرہ ہزار گھروں کو توڑا گیا اور چوبیس ہزار خاندان متاثر ہوئے۔ یہاں کی عمارتیں پرانے طرزِ تعمیر کا شاہکار تھیں جنہیں بے دردی سے گرا کر تاریخ کو مٹا دیا گیا۔ ان کے خلاف میں نے اپنے فن کے ذریعے احتجاج کیا اور ان شکستہ عمارتوں کی بربادی کو کینوس پر محفوظ کیا۔ اس موضوع پر بے شمار پینٹنگز بنا چکا ہوں۔ ان پر مشتمل میری چار سولو ایگزیبیشنز اور متعدد گروپ شوز قومی اور بین الاقوامی سطح پر ہو چکے ہیں۔میں انڈس ویلی اسکول آف آرکیٹیکچر اینڈ آرٹس اور کراچی یونیورسٹی میں یہ مضمون پڑھا بھی رہا ہوں۔ میں صرف پینٹ نہیں کرتا بلکہ منظر کی مکمل گہرائی بھی دکھاتا ہوں۔ میرے کام میں ملٹی پل لیئرز ہوتی ہیں۔ پینٹنگ بنانے کا مرحلہ میرے لیے ایسے ہوتا ہے جیسے کوئی نیا گھر تعمیر ہو رہا ہو۔ جس طرح ایک گھر کئی مراحل سے گزر کر مکمل ہوتا ہے، اسی طرح میری پینٹنگ بھی مختلف مراحل پر مشتمل ہوتی ہے۔ ایک لیئر کو دوسری سے اس طرح جوڑنا کہ دیکھنے والے کو فرق محسوس نہ ہو، یہ میرے لیے ایک چیلنج ہوتا ہے۔11×15 انچ عموماً میرے کینوس کا سائز ہوتا ہے جسے ’’وصلی‘‘ کہتے ہیں۔ یہ مغلیہ دور کی تکنیک ہے جسے میں اپنی پینٹنگز میں استعمال کرتا ہوں۔ ان پینٹنگز کے علاوہ میری ترجیح دوسرے موضوعات بھی ہیں، جن کے تمام ایکسپریشنز میں نے اپنے والد سے سیکھے ہیں۔ جس طرح وہ مختلف پورٹریٹس ہائپر ریئلسٹک میں پینٹ کرتے ہیں، میں نے بھی اپنے میڈیم میں اسی طرح کوشش کی ہے۔ میں صرف چہرہ نہیں بناتا بلکہ اس کے اردگرد کے ماحول کو بھی باریکی سے ایک علیحدہ لیئر میں ظاہر کرتا ہوں۔ ان پورٹریٹس میں الگ الگ تاثرات ہیں جو شخصیت کی ایک ایک باریکی سامنے لاتے ہیں۔میں نے کچھ کام فلمی اداکاروں کے پورٹریٹس پر بھی کیا ہے، جو اب ہماری تاریخ کا حصہ ہیں۔ انہیں میں نے چارکول میڈیم میں بنایا ہے۔ایک سوال کے جواب میں محمد مزمل خان نے بتایا کہ مغل آرٹ جو مغلیہ دور کے نامور مصوروں نے تخلیق کیا، اپنی مثال آپ ہے۔ اس کام کو منی ایچر کہا جاتا ہے۔ اس میں ایک بال والے برش سمیت مختلف باریک برشوں کا استعمال ہوتا ہے۔ یہ شاہکار سائز میں بہت چھوٹے ہوتے ہیں مگر ان کی باریکی اور گہرائی ظاہر کرنا انتہائی مشکل عمل ہے۔ اس چھوٹے سے شاہکار میں پوری دنیا سمائی ہوتی ہے۔ میں نے بھی مغلیہ دور کے کچھ مناظر پر مشتمل منی ایچر پینٹنگز بنائی ہیں۔ اس کام پر مجھے نیشنل کالج آف آرٹس لاہور میں ’’میر حاجی شریف ایوارڈ‘‘ سے نوازا گیا ہے۔



