وینزویلا پر حملہ: سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج: کولمبیا، کیوبا بھی نشانے پر، امریکہ کا انتباہ
مادورو نیویارک جیل میں قید، وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی نے اقتدار سنبھال لیا، کسی ملک کی کالونی بننے سے انکار، حملے کا جواب دینے کیلئے خصوصی دفاعی کونسل بلا لی، فوج کی آپریشنل تیاریوں کا اعلان
واشنگٹن، کاراکاس، پیرس، روم، لندن، برسلز، بیجنگ، ماسکو ( ویب ڈیسک) وینزویلا میں صدر نکولس مادورو کو اٹھائے جانے کے بعد لاطینی امریکہ کے دیگر ممالک میں بھی کارروائیوں کے امکانات بڑھ گئے، اسی تناظر میں کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک سخت اور غیر معمولی انتباہ موصول ہوا ہے۔ امریکی صدر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کولمبیا کے صدر کو محتاط رہنا چاہیے، کیونکہ کولمبیا سے منشیات تیار ہو کر امریکہ پہنچ رہی ہیں۔ لاطینی امریکہ کے بارے میں وسیع تر امریکی پالیسی پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ مغربی نصف کرے میں امریکی برتری پر کوئی سوال نہیں اٹھنے دیا جائے گا، امریکہ اپنے اردگرد مستحکم اور اچھے ہمسایہ ممالک چاہتا ہے۔
ٹرمپ نے امریکہ اور اسرائیل کو اپنے ہی ملک پر فوجی حملے کی دعوت دینے والی وینزویلا کی مغرب نواز نوبل انعام یافتہ اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا کی مقبولیت اور اندرونی حمایت پر سوالات اٹھائے اور کہا کہ ان کے لیے ملک کی قیادت کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اسی دوران امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے عندیہ دیا کہ کیوبا بھی مستقبل میں ٹرمپ انتظامیہ کی توجہ کا مرکز بن سکتا ہے، اگر وہ ہوانا میں حکومت کا حصہ ہوتے تو کم از کم تشویش ضرور محسوس کرتے۔ ادھر کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے اپنے ردعمل میں امریکہ کی وینزویلا میں کارروائی کو لاطینی امریکہ کی خود مختاری پر حملہ قرار دیا اور کہا ہے کہ اس طرح کے اقدامات خطے میں انسانی بحران کو جنم دے سکتے ہیں۔

مارکو روبیو نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وینزویلا ہمارے کئی مخالفین کا گڑھ بن چکا ہے اور امریکہ چاہتا ہے کہ یہ ملک اب منشیات کی سمگلنگ کی جنت نہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ وینزویلا کے عوام کے لیے بہتر مستقبل چاہتا ہے اور یہ بھی کہ ملک کی تیل کی صنعت ایسی ہو جہاں دولت براہِ راست عوام تک پہنچے۔ دوسری جانب وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو امریکہ لانے کے بعد نیویارک کی ایک جیل منتقل کر دیا گیا۔ نکولس مادورو پر منشیات کی سمگلنگ اور اسلحہ رکھنے سے متعلق الزامات عائد ہیں۔ وائٹ ہائوس کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن ( ڈی ای اے) کے اہلکار نکولس مادورو کو ہتھکڑیاں لگا کر نیویارک کے علاقے مین ہیٹن میں ڈی ای اے کی ایک عمارت کے اندر لے جا رہے ہیں۔ ویڈیو میں 63سالہ نکولس مادورو کو انگریزی میں یہ کہتے ہوئے بھی سنا گیا کہ ’’ گڈ نائٹ، ہیپی نیو ایئر‘‘۔ دوسری جانب وینزویلا کی نائب صدر نے عدالتی حکم پر صدارتی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ نیوز کانفرنس میں ڈیلسی روڈریگز نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان سے اختلاف کیا اور نکولس مادورو کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ ڈیلسی روڈریگز نے کہا وینزویلا کے واحد صدر نکولس مادورو ہی ہیں، وینزویلا کسی بھی ملک کی کالونی نہیں بنے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے ملک اور قدرتی وسائل کے دفاع کا عزم بھی کیا۔
ڈیلسی روڈریگز نے سرکاری ٹیلی ویژن پر بھی خطاب کیا، انہوں نے ملک پر ہونے والی مسلح جارحیت کی مذمت کی اور کہا کہ ملک کی دفاعی کونسل کو فعال کر دیا گیا ہے۔ روڈریگز نے کہا کہ یہاں ایک واضح حکومتی نظام موجود ہے، وینزویلا باوقار اور قانونی مکالمے کے لیے تیار ہے۔ ڈیلسی روڈریگیز نے کہا کہ صدر مادورو کو اغوا کیا گیا ہے، نکولس مادورو ہی وینزویلا کے صدر ہیں۔ڈیلسی روڈریگز نے کہا کہ ملک کے دفاع کے لیے عوام صبر اور اتحاد سے کام لیں، امریکی فوج کی کارروائی کے بعد ہم وینزویلا کے دفاع کیلئے تیار ہیں۔
دوینزویلا کی حکومت نے ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر حملے کا جواب دینے کیلئے وینزویلا کی خصوصی دفاعی کونسل بھی بلا لی ہے۔ جبکہ وینزویلا کی اپوزیشن سیاستدان اور نوبیل امن انعام یافتہ ماریہ کورینا نے صدر نکولس مدورو کی گرفتاری پر کہا ہے کہ وینزویلا میں عوامی حکومت کے قیام کا وقت آ چکا ہے، انٹرنیٹ پر وینزویلا کے عوام کے نام کھلے خط میں ماریہ کورینا نے اپوزیشن لیڈر ایڈمنڈو گونزالیز کی ملک کے نئے لیڈر کے طور پر حمایت کا اعلان کیا۔ جبکہ وینزویلا فوج نے قومی خودمختاری کیلئے مکمل آپریشنل تیاریوں کا اعلان کر دیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی کارروائی کے بعد ملک بھر میں فوجی الرٹ نافذ کر دیا گیا اور وینزویلا کی فوج نے ڈیلسی روڈریگیز کو عبوری صدر تسلیم کر لیا ہے۔ دوسری جانب وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وینزویلا کو کنٹرول میں رکھنے کے بیان پر امریکہ سمیت مختلف ممالک میں زبردست احتجاجی مظاہرے کئے گئے، واشنگٹن میں وائٹ ہائوس کے باہر مظاہرہ کیا گیا۔
وائٹ ہائوس کے باہر مظاہرین بڑی تعداد میں جمع ہوئے اور نعرے لگانے کے ساتھ مظاہرین نے ’’ وینزویلا کے خلاف جنگ نہیں‘‘ کے بینر بھی لہرائے۔ نیو یارک کے ٹائمز سکوائر میں مظاہرین نے ریلی نکالی اور ٹرمپ کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ پیرس میں بائیں بازو کے مظاہرین نے وینزویلا پر امریکی حملوں کی مذمت کی اور وینزویلا کے جھنڈے لہرائے۔ مادورو کی گرفتاری کے خلاف یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں ہزاروں افراد نے مارچ کیا۔ روم میں اٹلی کے شہریوں نے وینزویلا میں امریکی آپریشن کے خلاف احتجاج کیا، ارجنٹینا اور کولمبیا میں بھی امریکی حملے کے خلاف مظاہرے کیے گئے۔ ادھر امریکہ کی سابق نائب صدر اور ڈیموکریٹ سیاست دان کاملا ہیرس نے بھی وینزویلا پر امریکی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ کے اقدامات سے امریکہ نہ محفوظ ہوا، نہ مضبوط اور نہ ہی سستا۔ ایک بیان میں کاملا ہیرس نے کہا کہ صدر مادورو کا غیرقانونی، ظالم اور آمر ہونا اس حقیقت کو نہیں بدل سکتا کہ امریکی حملہ غیرقانونی اور غیر دانشمندانہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کی تبدیلی یا تیل کے لیے جنگوں کو امریکی طاقت کا مظہر بتایا جاتا ہے لیکن اس کی قیمت امریکی عوام کو اٹھانی پڑتی ہے۔ سابق نائب صدر نے مزید کہا کہ امریکی عوام جنگ نہیں چاہتے، وہ جھوٹ سن سن کر تنگ آگئے ہیں۔
کاملا ہیرس نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ اربوں ڈالر خرچ کر کے امریکی فوجیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں، ٹرمپ ایک پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جس کی اولین ترجیح امریکی عوام، محنت کش کے اخراجات کم کرنا، قانون کی حکمرانی اور اتحاد ہو۔ مزید برآں نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں انہوں نے وینزویلا پر حملے کی شدید مخالفت کی۔ ظہران ممدانی نے صدر کو اس اقدام پر اپنی مخالفت سے آگاہ کیا اور صدر ٹرمپ کو بتایا کہ رجیم جینچ کے خلاف ہوں۔ ممدانی نے ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ بھی بتایا کہ وہ وفاقی اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کے مخالف ہیں۔ ادھر چین نے امریکہ سے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کر دیا ہے ۔ غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ مادورو اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے اور اس اقدام پر چین شدید تشویش میں ہے۔
وزارت خارجہ نے زور دیا کہ امریکہ مادورو اور ان کی اہلیہ کی ذاتی سلامتی کو یقینی بنائے اور انہیں فورا رہا کرے۔ چین نے مزید کہا کہ امریکہ وینزویلا کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوششیں بند کری اور تمام مسائل کو بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل کرے۔ دوسری طرف اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی نے وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کی حمایت کی ہے۔ جارجیا میلونی نے وینزویلا کی صورتحال پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ امریکی کارروائی کو دفاعی اقدام قرار دیتے ہیں۔ جبکہ برطانیہ کے وزیرِاعظم کیئر سٹامر کا کہنا ہے کہ برطانیہ اس کارروائی میں شامل نہیں تھا، حقائق جاننے کے لیے امریکی صدر ٹرمپ سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے مادورو کے 2024ء کے مخالف امیدوار ایڈمنڈو گونزالیز کو صدر قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایک پرامن اور جمہوری انتقالِ اقتدار کی نگرانی کریں ۔
جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے کہا ہے کہ مادورو اپنے ملک کو تباہی کی طرف لے گئے، تاہم انہوں نے مزید کہا کہ جرمن حکومت یہ فیصلہ کرنے میں وقت لے رہی ہے کہ آیا امریکی اقدامات بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں یا نہیں۔ سپین کے وزیرِ اعظم پیدرو سانچیز نے کہا کہ سپین نے مادورو کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا، لیکن ایسی مداخلت کو بھی تسلیم نہیں کرے گا جو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہو۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے احترام کا مطالبہ کیا۔ یورپی یونین خارجہ امور کی اعلی نمائندہ کایا کالاس نے کہا کہ یورپی یونین بارہا واضح کر چکا ہے کہ مادورو کو قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے، تاہم انہوں نے تحمل اور بین الاقوامی قانون کے احترام کی اپیل کی۔ ادھر امریکی جریدے نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو ہٹانے کی کوشش سے لگتا ہے امریکہ مشرق وسطیٰ کا سبق بھول گیا ہے، طاقت سے حکومتیں بدلنا زیادہ مسائل کا سبب بنتا ہے۔
جریدے ٹائم کی تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو ہٹانے کی کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ امریکہ نے مڈل ایسٹ میں گزشتہ 25سال کی ناکام مداخلتوں سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اگرچہ مادورو غیر مقبول ہیں اور وینزویلا کی فوج نسبتا کمزور ہے لیکن اس کی حکومت کو زبردستی ختم کرنے سے ملک میں انتشار پیدا ہو سکتا ہے اور امریکی سرزمین کے قریب مسائل جنم لے سکتے ہیں، جیسے مہاجرین، منشیات کی سمگلنگ اور سیاسی عدم استحکام۔
ٹرمپ انتظامیہ نے کیریبین میں تقریبا 15ہزار فوجی، طیارے، میزائل اور ڈرون تعینات کیے ہیں، لیکن یہ مکمل حملے یا قبضے کے لیے ناکافی ہیں۔ دریں اثنا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل آج ہنگامی اجلاس منعقد کرے گی، جس میں وینزویلا میں امریکہ کی فوجی کارروائی پر بڑھتی ہوئی عالمی تشویش اور بین الاقوامی نظام کو لاحق ممکنہ خطرات پر غور کیا جائے گا۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ وینزویلا میں حالیہ پیش رفت بین الاقوامی قانون کے لیے ایک خطرناک مثال بن سکتی ہے۔
ان کے ترجمان کے مطابق سیکرٹری جنرل اس بات پر شدید فکرمند ہیں کہ امریکہ کی کارروائی سے خطے میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ یہ اجلاس کولمبیا کی درخواست پر بلایا گیا، جس کی چین اور روس نے حمایت کی، جبکہ وینزویلا نے بھی باضابطہ طور پر سلامتی کونسل سے رجوع کیا ہے۔ اجلاس بین الاقوامی امن و سلامتی کو لاحق خطرات کے ایجنڈے کے تحت ہوگا اور سیکرٹری جنرل کونسل کے ارکان کو بریفنگ دیں گے۔ وینزویلا نے امریکی اقدام کو اپنی خودمختاری کے خلاف جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائی قدرتی وسائل، خصوصا تیل کے ذخائر پر قبضے کی کوشش ہے۔
چین اور روس نے بھی امریکہ کے اقدام کی شدید مذمت کی ہے اور اسے بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ دوسری جانب امریکہ کا موقف ہے کہ یہ کارروائی سکیورٹی اور جرائم سے نمٹنے کے لیے کی گئی، تاہم متعدد ممالک کا کہنا ہے کہ کسی بھی ریاستی سربراہ کو طاقت کے ذریعے ہٹانا اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے منافی ہے۔ سفارتی حلقوں کے مطابق سلامتی کونسل کے اجلاس میں سخت اختلافات متوقع ہیں اور کسی متفقہ قرارداد کا امکان کم ہے۔ دریں اثنا پاکستان نے وینزویلا کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کشیدگی میں کمی کا مطالبہ کیا ہے۔
وفاقی دارالحکومت سے جاری بیان میں ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ وینزویلا کے عوام کی فلاح و بہبود کو بڑی اہمیت دیتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم بحران کے خاتمے کے لیے ضبط و تحمل اور کشیدگی میں کمی کی ضرورت پر زور دیتے ہیں، پاکستان تمام مسائل کے حل کے لیے اقوامِ متحدہ کے منشور اور عالمی قوانین کے پاسداری کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ہم وینزویلا کے پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، وینزویلا میں مقیم پاکستانی برادری کے افراد کی سلامتی اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل رابطے میں ہیں۔



