انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاکاروبار

کشمیر میں بھارتی فوج کی درندگی

تحریر: فرخ ریاض بٹ

اللہ تعالی کی تخلیق کردہ خوبصورت شاہکاروں میں سے ایک شاہکار، حسین و خوبصورت،آبشاروں کی جھرمٹ میں،پھل پھول،پودے، چرند پرند ، پہاڑوں اوردریاﺅں کی خوبصورتی سے ہر وقت جگ مگ کرتا،دنیا میں جنت کا احساس دلانے والی خوبصور ت وادی کشمیر ،جس کی بیش بہا خوبصورتی کو دیکھ کر بالکل ایسا گماں ہوتا ہے جیسے دنیا میں جنت کا ٹکڑا اتر آیا ہو۔

قدرت کی بیش بہا خوبصورتی کا مرکز کہلانے والی سرسبز و شاداب وادی کشمیر جنت کی مثل دنیا میں موجود ایک خوبصورت ترین وادی ہے جس میں درختوں کی ہریالی، پہاڑوں کی بلندی، لہروں کی روانی، بہتے آبشاروں کی نغمہ ریزی، میووں اور نعمتوں کی فراوانی، مثل حوروں، غلماں کی خوبصورتی محسوس کی جا سکتی ہے۔ سچ! یہ جنت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے؟یہاں تک سوچنے پر تو دل مطمئن رہتا ہے لیکن جیسے ہی حقیقت ذہن میں آتی ہے تو دل کانپ اٹھتا ہے۔

یہ جنت نظیر وادی اہل کشمیر کے لیے جہنم بنا دی گئی ہے۔ جہاں مسلمانوں کی حمیت، مائوں کی آغوش، بیٹوں کی جوانی، بزرگوں کا بڑھاپا اور بیٹیوں کی عصمت تار تار کی جا رہی ہے۔ چند لمحوں کے لیے ہم خود کو وہاں کھڑا پائیں جہاں مائوں کے سامنے ان کے بیٹوں کا بے دردی سے قتل کیا جا رہا ہے، ان کے جگر گوشوں کے لاشے ہر گلی کوچے میں نظر آرہے ہیں، جہاں معصوم بچوں کی معصومیت کو بڑی بے رحمی سے کچلا جا رہا ہے۔

آنکھیں بند کرکے ذرا تصور تو کیجئے کہ ہم ان مائوں، بہنوں اور بیٹیوں میں شامل ہیں جن کے سروں سے ان کی چادریں چھینی جارہی ہیں، جن کی عزت جن کی عصمت کافر درندے سرعام نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں۔ صرف یہ سوچ کر ہی دل دہل اٹھتا ہے، آنکھیں خون کے آنسو روتی ہیں، خوف سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور یہ سب کچھ حقیقی طور پر آپ کے اور میرے کشمیری بہن بھائی 78 سال سے جھیل رہے ہیں۔ جنت نظیر وادی کشمیر میں اب پھولوں اور پھلوں کے اس لہلہاتے چمن میں ظلم و بربریت کے کانٹے اگا دیئے گئے ہیں، جہاں دریا کی لہروں کی ترنم کی جگہ خون کے آبشار بہہ رہے ہیں۔

مقبوضہ جموں وکشمیر دراصل تقسیم ہند کا ایسا حل طلب مسئلہ ہے جو بھارتی حکومت کی ہٹ دھرمی و ظلم و ناانصافی کے باعث تاحال حل نہیں کیا جا سکا۔ کشمیری عوام کی تحریک آزادی اسی روز شروع ہو گئی تھی جب انگریزوں نے گلاب سنگھ کے ساتھ بدنام زمانہ ”معاہدہ امرتسر“ کے تحت16 مارچ 1846ءکو کشمیر کا” 75 لاکھ روپے“ نانک شاہی کے عوض ”سودا“ کیا۔

13 جولائی 1931ءکو سری نگر جیل کے احاطے میں کشمیریوں پر وحشیانہ فائرنگ کے نتیجے میں 22 مسلمان شہید اور 47 شدید زخمی ہو گئے۔ اس واقع پر لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ نے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کیلئے ”کشمیر کمیٹی“ قائم کی اور شاعر مشرق علامہ اقبال کو اس کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا۔ نومبر 1931ءمیں ”تحریک الاحرار“ نے غیر مسلح جدوجہد اور سول نافرمانی کے ذریعے جموں کشمیر کو آزاد کرانے کا مطالبہ کیا۔ ”گلینسی کمیشن“ قائم کیا گیا۔ 1934

ءمیں پہلی مرتبہ ہندوستان میں کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور ”ڈوگرہ راج“ کے مظالم کے خلاف ملک گیر ہڑتال کی گئی۔1946ءمیں قائداعظم نے مسلم کانفرنس کی دعوت پر سرینگر کا دورہ کیا جہاں قائد کی دور اندیش نگاہوں نے سیاسی‘ دفاعی‘ اقتصادی اور جغرافیائی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے کشمیر کو پاکستان کی”شہ رگ“ قرار دیا۔

مسلم کانفرنس نے بھی کشمیری مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے 19 جولائی 1947ءکو سردار ابراہیم خان کے گھر سری نگر میں باقاعدہ طورپر ”قرار داد الحاق پاکستان“ منظور کی۔ لیکن جب کشمیریوں کے فیصلے کو نظر انداز کیا گیا تو مولانا فضل الہیٰ وزیر آباد کی قیادت میں 23 اگست 1947 کو نیلابٹ کے مقام سے مسلح جدوجہد کا باقاعدہ آغاز کیا۔

15 ماہ کے مسلسل جہاد کے بعد موجودہ آزاد کشمیر آزاد ہوا۔ پنڈت جواہر لعل نہرو اقوام متحدہ پہنچ گئے اور بین الاقوامی برادری سے وعدہ کیا کہ وہ ریاست میں رائے شماری کے ذریعے ریاست کے مستقبل کا فیصلہ مقامی عوام کی خواہشات کے مطابق کریں گے۔ 1989ءمیں جب کشمیری حریت پسندوں نے ہندوستان کی ہٹ دھرمی اور اقوام متحدہ کی ”بے حسی “سے مجبور ہوکر مسلح جدوجہد کا فیصلہ کیا تو کسی کے” وہم وگمان“ میں بھی نہیں تھا کہ آنے والے برسوں میں کشمیری عوام اس طرح ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے کہ ہندوستان نواز سیاسی قوتوں کو اپنا وجود برقرار رکھنا بھی مشکل ہوجائے گا۔

بھارت کو یہ اندازہ تک نہیں تھا کہ کشمیری عوام کی جدوجہد کے نتیجے میں کشمیر کے انتظامی ‘ سیاسی اور سماجی ڈھانچے کی” بلند و بالا عمارت“ اسی پر آگرے گی۔دہلی کی تہاڑ جیل میں ”شہید کشمیر“ مقبول بٹ نے اپنے خون سے جس انقلاب کی بنیاد رکھی۔ اسے کشمیر اور پاکستان حریت پسندوں نے اپنے خون سے آج تک جاری رکھا ہوا ہے۔

عالمی دہشت گردامریکا اور اسرائیل کی سرپرستی اور پشت پناہی کی بدولت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت کے وزیر اعظم مودی نے اپنے انتخابی منشور کے مطابق 5 اگست 2019 کومقبوضہ جموںو کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کیا۔

دستورِ ہند کی دفعات اس بات کی علامت تھیں کہ جموں و کشمیر متنازع علاقہ ہے،جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق کشمیری باشندے اپنے حق خودارادیت کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان یا بھارت کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کریں گے۔

مقبوضہ کشمیر پر بھارت کا جارحانہ تسلط تقسیم برصغیر کے ”اصولوں“ کے ساتھ ساتھ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق بھی غیر آئینی اور غیرقانونی ہے لہٰذا کشمیری مسلمان اپنی تحریک مزاحمت میں ہر لحاظ سے ”حق بجانب“ ہیں جبکہ بھارت کی حیثیت ایک ”جارح سامراجی قوت“ کی ہے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض فوجوں کے ہاتھوں ”ظلم و استبداد“ کا شکار کشمیری مسلمان کی مدد کرنا پاکستانی مسلمانوں پر ”واجب “ہے۔

کشمیر کی بھارت سے آزادی پاکستان کی” اقتصادی“ اور ”زرعی ترقی“ کے لئے بھی ضروری ہے۔ اس لئے کہ اگر کشمیر پر بھارتی تسلط قائم رہا تو وہ کشمیر سے نکلنے والے دریاﺅں پر ڈیم بنا کر پاکستان کو” بنجر اور صحرا“ بنا دے گا۔ یہ بات جاننا ضروری ہے کہ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں آزادی اور حق خود ارادیت کی جو تحریک جاری ہے وہ ریاست جموں و کشمیر کی آزادی اور حق خودارادیت کی تحریک ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی ”تکمیل اور بقا“ کی تحریک بھی ہے اور ہمارے مقبوضہ کشمیر کے بھائی کشمیر کی آزادی اور پاکستان کی بقا کی اس تحریک کے دوران ایک لاکھ سے زیادہ شہدا کے مقدس لہو کا ”نذرانہ“ پیش کر چکے ہیں جن میں مر د ، عورتیں، بچے اور بوڑھے سبھی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ اس عرصے کے دوران لاکھوں کی تعداد میں کشمیری مسلمان مرد ، عورتیں ، بچے اور بوڑھے” زخمی اور اپاہج “ہو چکے ہیں چنانچہ آج مقبوضہ کشمیر میں کوئی گھر ایسا نہیں ہے جس کا کوئی نہ کوئی فرد شہید یا زخمی نہ ہوا ہو۔ آج مقبوضہ کشمیر میں بستیوں کی بستیاں ویرانوں میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کا کوئی شہر یا گاﺅں ایسا نہیں ہو گا جہاں شہدا کے مزار نہ ہوں یوں وہ کشمیر جو جنت ارضی کہلاتا تھا، بھارت کی سرکاری دہشت گردی کی وجہ سے موت کی ”وادی“ میں تبدیل ہو چکا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button