لاہور جسے کبھی باغوں کا شہر کہا جاتا تھا جہاں دریا بہتے، نہریں سنگیت بکھیرتیں، اور زمین اناج سے بھری ہوتی۔ ہریالی، شادابی، درخت، چڑیوں کی چہچہاہٹ، کوئل کی کوک، کوے کی آواز، سب کچھ اس شہر کی شناخت تھے۔ یہ صرف انسانوں کا شہر نہیں تھا، بلکہ پرندوں، حشرات، درختوں اور تمام سانس لینے والی مخلوقات کا ایک حسین جہان تھا۔

وقت بدلا…
اور انسانوں نے ہریالی کی جگہ سیمنٹ ڈال دیا۔
باغات کی جگہ ہاؤسنگ سوسائٹیز، شاپنگ مالز، اور بلند و بالا عمارات اگا دی گئیں۔
جہاں کبھی فصلیں لہلہاتی تھیں، اب وہاں کنکریٹ کی تہیں بچھ چکی ہیں۔

میں نے خود سفر کے دوران لاہور سے سندھ کی طرف جاتے ہوئے ریل کی پٹریوں کے کنارے بدلتے ہوئے مناظر دیکھے — کہیں تا حد نظر زرخیز زمینیں، کہیں بڑے بڑے درختوں سے بھرے جنگلات، اور کہیں ویران، بنجر دھرتی جو ایک سوالیہ نشان کی مانند دکھائی دیتی ہے۔

یہ تبدیلی صرف زمین پر نہیں آئی — یہ فضا میں بھی اُتری ہے۔
آسمان، جو کبھی کبوتروں کی قطاروں سے مزین ہوتا تھا، اب ان پرندوں سے خالی ہوتا جا رہا ہے۔
چھت پر چڑھ کر چڑیوں کی آواز سننے والے کان اب شور و غل کے عادی ہو چکے ہیں۔
درخت صرف منظر نہیں، سانس ہیں!
یہ ہمیں آکسیجن دیتے ہیں، سایہ دیتے ہیں، بارشوں کا سبب بنتے ہیں۔
پرندے صرف خوبصورتی نہیں، فطرت کی ایک گونج ہیں۔
ان کی غیر موجودگی، موسمی تبدیلیوں کی علامت ہے — اور یہ تبدیلی صرف ماحول نہیں، ہماری زندگیوں کو بھی متاثر کر رہی ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ
یہ زمین صرف انسانوں کے لیے نہیں بنی —
یہ ہر اس مخلوق کی امانت ہے جو اس پر سانس لیتی ہے۔
اگر ہم نے وقت پر ان قدرتی نعمتوں کی حفاظت نہ کی تو ہم ایسی دنیا میں زندہ رہنے پر مجبور ہو جائیں گے جہاں سانس لینے کو آکسیجن مصنوعی ہوگی، اور سکون صرف یادوں میں ملے گا۔

لہٰذا آیئے — درخت لگائیں، فطرت سے دوستی کریں، اور لاہور کو دوبارہ "باغوں کا شہر” بنانے کا عزم کریں۔



