پاکستانتازہ ترین

اڈیالہ جیل میں مجھے قید تنہائی میں رکھا گیا، تب احساس ہوا بے بسی کسے کہتے ہیں: مریم نواز

لاہور، اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ اڈیالہ جیل میں قید کے دوران انہیں 24،24 گھنٹے تنہائی میں رکھا گیا، جہاں انہیں پہلی بار احساس ہوا کہ ایک بے بس قیدی کن مشکلات اور اذیتوں سے گزرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیل میں گزارے گئے ذاتی تجربات کی بنیاد پر پنجاب کی جیلوں میں اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں تاکہ قیدیوں کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

وہ لاہور میں منعقدہ جیل ریفارمز کانفرنس سے خطاب کر رہی تھیں، جس میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، اعلیٰ عدالتی حکام اور دیگر متعلقہ شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب سے قبل وزیراعلیٰ نے پنجاب میں جیل اصلاحات سے متعلق ایک ڈاکومنٹری بھی دکھائی۔

"جیل میں جو گزرتی ہے، وہی جانتا ہے”

مریم نواز نے کہا کہ وہ اس فورم پر سیاسی گفتگو نہیں کرنا چاہتیں، تاہم جیل میں گزارا گیا وقت ان کی زندگی کا ایک ایسا تجربہ تھا جس نے انہیں قیدیوں کی مشکلات کو قریب سے سمجھنے کا موقع دیا۔

انہوں نے کہا، "مجھے اڈیالہ جیل میں 24،24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا گیا۔ وہاں جا کر احساس ہوا کہ بے بسی کسے کہتے ہیں۔ جیل میں جس پر گزرتی ہے، وہی اس تکلیف کو سمجھ سکتا ہے۔”

وزیراعلیٰ نے کہا کہ قید تنہائی انسان کی ذہنی صحت پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے، اسی لیے پنجاب کی جیلوں میں اصلاحات کے دوران قیدیوں کی ذہنی اور جسمانی صحت کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی۔

جیل میں والدہ سے ملاقات نہ ہو سکی

مریم نواز نے بتایا کہ وہ اور ان کے والد ایک ہی وقت میں جیل میں تھے، جبکہ ان کی والدہ شدید علیل تھیں، لیکن انہیں والدہ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ جیل میں ہر قیدی کی اپنی ایک الگ کہانی ہوتی ہے اور ان کے اپنے تجربات نے انہیں قیدیوں کے مسائل کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد دی۔

شوگر کم ہوئی، مدد کو کوئی نہیں آیا

وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنی قید کے دوران پیش آنے والا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایک مرتبہ جیل میں ان کی شوگر اچانک کم ہوگئی، لیکن مدد کے لیے کوئی موجود نہیں تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ہاتھ کانپنے کی وجہ سے گڑ کی بوتل گر کر ٹوٹ گئی، جس کے بعد انہوں نے زمین پر گرا ہوا گڑ اٹھا کر کھایا، مگر اس میں شیشے کے ذرات بھی شامل تھے۔

انہوں نے کہا، "جیل میں میری چیخیں کسی نے نہیں سنیں۔”

پنجاب کی جیلوں میں جدید اصلاحات

مریم نواز نے کہا کہ جیل میں اپنے ذاتی مشاہدات کی بنیاد پر پنجاب کی جیلوں میں متعدد اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اب پنجاب کی تمام جیلوں میں قیدیوں کے لیے ویڈیو لنک کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ جیلوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے مختلف منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جیل اصلاحات کا مقصد صرف انفراسٹرکچر بہتر بنانا نہیں بلکہ قیدیوں کو باعزت ماحول اور بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانا بھی ہے۔

الیکٹرک بسوں کی تعداد 5 ہزار تک لے جائیں گے

بعد ازاں پنجاب کے مختلف اضلاع میں الیکٹرک بس سروس کی توسیع کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ صوبے بھر میں الیکٹرک بسوں کی تعداد مرحلہ وار بڑھا کر 5 ہزار تک پہنچائی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ اٹک، خوشاب، منڈی بہاؤالدین، حافظ آباد، خانیوال اور دیگر شہروں میں جدید ماحول دوست الیکٹرک بسیں چلنا شروع ہو گئی ہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ عوام صرف 20 روپے کرائے میں جدید اور آرام دہ سفری سہولت سے مستفید ہو رہے ہیں، جبکہ رواں سال مزید 1500 بسیں شامل کیے جانے کے بعد مجموعی تعداد تقریباً 3 ہزار تک پہنچ جائے گی۔

ازبکستان کے وفد سے ملاقات

وزیراعلیٰ پنجاب نے ازبکستان کی خودمختار ریاست قراقلپاقستان کے اعلیٰ سطحی وفد سے بھی ملاقات کی، جس میں تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، لائیو اسٹاک، سیاحت اور صنعتی تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا گیا۔

دونوں فریقین نے لاہور اور نوکوس کو سسٹر سٹیز قرار دینے کی تجویز پر بھی غور کیا تاکہ اقتصادی، تعلیمی اور ثقافتی روابط کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

باغبانپورہ سکول حادثے کا نوٹس

دریں اثنا وزیراعلیٰ پنجاب نے لاہور کے علاقے باغبانپورہ میں نجی سکول کے سمر کیمپ کے دوران چھت گرنے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر لاہور اور ڈی جی ریسکیو سے فوری رپورٹ طلب کر لی۔

انہوں نے حادثے میں ایک بچے کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور متعلقہ حکام کو غفلت یا ناقص تعمیرات کے ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی ہدایت جاری کی۔

وزیراعلیٰ نے صوبے بھر میں گنجان آباد علاقوں میں قائم سکولوں کی عمارتوں کا فوری سیفٹی آڈٹ کرانے کا بھی حکم دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کی جان و مال کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button