انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

ٹرمپ اور ن لیگ کا لمس!

تحریر: عاطف عارف

سیاست بڑی ظالم چیز ہے جناب۔ یہ کبھی کسی کی نہیں ہوتی، اور جو یہ سمجھ بیٹھے کہ اب قسمت کی دیوی اس کے قدموں میں ہے، وہ چند دنوں میں بیچارہ تقدیر کے چکر میں آجاتا ہے۔ اور اگر اس کے ساتھ ن لیگ کھڑی ہو جائے، تو پھر سمجھ لیں کہ ذلت کا پروانہ ڈاک سے روانہ ہو چکا ہے، بس راستے میں ہے۔

اب دیکھئے، امریکہ جیسی سپر پاور میں بھی وہی "ن لیگی اثرات” پہنچ گئے ہیں۔ ٹرمپ کی جیت کے بعد جو کچھ ہو رہا ہے، لگتا ہے جیسے وہاں بھی کوئی لیگی سیل کھل گیا ہو۔ کل تک یہی ن لیگ تھی جو ٹرمپ کو آفت سمجھ کر اس کے خلاف بیانات دیتی تھی، مگر جیسے ہی موصوف الیکشن جیت گئے، لیگی قیادت نے سوچا، "چلو اب تعریف کے پل باندھ دو، شاید کوئی فائدہ نکل آئے۔”
مگر ہوا کیا؟
دنیا بھر میں ٹرمپ کے خلاف ایسے مظاہرے شروع ہوئے کہ لگتا ہے امریکی عوام نے بھی ن لیگی سیاست کا سبق پڑھ لیا ہو — "جس کی حمایت کرو، اس کا انجام شرمندگی میں بدل دو!”

یہ ن لیگ کا خاصہ ہے جناب۔ جس کو ہاتھ لگاتی ہے، وہ کامیابی کے بعد ایسی گراوٹ کا شکار ہوتا ہے کہ لوگ مثالیں دینے لگتے ہیں۔ کل تک جو رہنما یا جماعت عوامی پذیرائی میں تھی، ن لیگی قربت نے اسے "سیاسی عبرت” بنا دیا۔

ٹرمپ اور لیگی لمس

ٹرمپ نے جب لیگی قیادت اور لیگی وزیراعظم کی تعریفیں کیں تو بس سمجھ لیں کہ کہانی پلٹ گئی۔ امریکہ میں احتجاج، گلیوں میں نعرے، بینرز، سوشل میڈیا پر آگ لگی ہوئی ہے۔ کوئی کہہ رہا ہے "ٹرمپ فاشسٹ ہے”، کوئی کہتا ہے "جمہوریت خطرے میں ہے”۔ مگر ہمیں تو صاف دکھائی دے رہا ہے کہ معاملہ سیاسی نہیں — یہ ن لیگی حمایت کا نتیجہ ہے۔
جس کو ن لیگ سراہ دے، وہ پھر دنیا کے کسی کونے میں عزت بچا نہیں سکتا۔

آپ کو یاد ہوگا جب ن لیگ نے “جمہوریت بچاؤ” کے نام پر کچھ اداروں سے محبت دکھائی تھی۔ چند ہفتے گزرے، اور وہی ادارے اگلے دن خبروں میں طنز اور تبصروں کا موضوع بنے۔ اب تو امریکہ میں بھی یہی ہوا۔
ن لیگ کی تعریف کے بعد ٹرمپ کے خلاف امریکہ کے درجنوں شہروں میں مظاہرے، بینرز، طنز، جوتے — سب کچھ منظر عام پر آ گیا۔
گویا ن لیگ جہاں دعا دے، وہاں بددعا خود چل کر پہنچ جاتی ہے۔

یہ پہلی بار نہیں ہوا

یہ پہلی بار نہیں کہ ن لیگ نے کسی کا ساتھ دیا اور وہ خسارے میں گیا۔
یاد ہے جب ن لیگ نے پیپلزپارٹی کے ساتھ "میثاقِ جمہوریت” پر دستخط کیے تھے؟
اس دن سے آج تک پیپلزپارٹی کا حال یہ ہے کہ سندھ کے باہر اس کا نشان ڈھونڈنے پر بھی نہیں ملتا۔
جو کبھی وفاقی سیاست کی روح تھی، آج صوبائی شناخت بن کر رہ گئی۔

پھر دیکھیے، ن لیگ نے جب عمران خان کے خلاف محاذ کھولا تو کئی “لوٹے” اور “سیاست کے وفادار” ن لیگ کے قریب آ گئے۔
کیا ہوا؟
سب کے سب سیاسی لاشے بن گئے۔
جو عمران خان سے بھاگ کر ن لیگ کی پناہ میں آئے، ان کے چہرے سے عوام نے خود اعتبار چھین لیا۔
یہ ہے ن لیگی لمس — “پناہ میں آؤ گے تو ذلیل ہو جاؤ گے”۔

سیاست کا حساب بڑا نازک ہے

سیاست میں اصل سرمایہ ہوتا ہے “اعتبار”۔
اور ن لیگ کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ اس نے اعتبار کے بدلے مفاد کا سودا کیا۔
کبھی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ، کبھی عدلیہ کے ساتھ، کبھی عالمی طاقتوں کے ساتھ۔
اب عالم یہ ہے کہ جہاں ہاتھ رکھتی ہے، وہ جگہ جل جاتی ہے۔
جس کی تعریف کرتی ہے، وہ اگلے دن تنقید کا نشانہ بن جاتا ہے۔
اور جس کے ساتھ تصویر کھنچواتی ہے، اس کی قسمت تصویر بن کر رہ جاتی ہے — صرف یادگار۔

اب دیکھئے، ٹرمپ نے تو محض تعریف ہی کی تھی۔
کہا کہ “پاکستان کے سابق وزیرِاعظم مضبوط آدمی ہیں، قابلِ احترام ہیں”۔
بس، وہ جملہ زبان سے نکلا نہیں کہ امریکی میڈیا نے ٹرمپ پر تنقید کی بارش شروع کر دی۔
کہیں لکھا گیا “ٹرمپ کی نئی دوستی خطرناک ہے”،
کہیں کہا گیا “ٹرمپ کی زبان اب پاکستانی سیاست زدہ ہو گئی ہے!”

یعنی ن لیگ کا سایہ وہاں بھی پہنچ گیا جہاں ویزا لگوانا مشکل ہے۔

ذلت کا فلسفہ

اب سوال یہ ہے کہ آخر ن لیگ کا یہ ذلت کا اثر کہاں سے آتا ہے؟
میری رائے میں یہ محض اتفاق نہیں — یہ “سیاسی توانائی” ہے جو پارٹی کے اندر سے خارج ہوتی ہے۔
یہ وہ توانائی ہے جو تعریف کو تباہی میں، اور حمایت کو نفرت میں بدل دیتی ہے۔
کسی اور پارٹی کا رہنما کسی کی تعریف کرے تو لوگ کہیں گے “ٹھیک کہا”،
لیکن ن لیگ کرے تو لگتا ہے جیسے منحوس لمحہ گزر گیا ہو۔

یہی وجہ ہے کہ ن لیگی رہنما جب بھی کسی کا ساتھ دیتے ہیں، اگلا صفحہ تاریخ کا ان کے خلاف لکھا جاتا ہے۔
عوام اب مذاق میں کہتے ہیں:
“اگر ن لیگ آپ کی تعریف کرے تو فوراً توبہ کریں، صدقہ دیں، اور زمین پر ناک رگڑ کر معافی مانگیں!”

ٹرمپ کی نئی آزمائش

اب ٹرمپ کے لیے حالات عجیب ہو چکے ہیں۔
جیتنے کے باوجود ان کے خلاف نفرت کی لہر، میڈیا کی سختی، عوامی احتجاج —
یہ سب اسی "حمایت کے تحفے” کا نتیجہ ہے جو انہیں مسلم لیگ (ن) سے ملا۔
کہنے والے کہتے ہیں:
“ٹرمپ کو شاید روس یا چین سے نہیں، ن لیگ کی محبت سے خطرہ ہے!”

امریکیوں کو سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ اس مصیبت سے کیسے نکلیں۔
کچھ لوگ کہتے ہیں، ٹرمپ کو ن لیگ سے فاصلہ رکھنا چاہیے،
ورنہ واشنگٹن بھی لاہور بن جائے گا —
جہاں ہر سڑک پر نعرے، ہر اخبار میں الزامات، اور ہر بیان میں تضاد۔

 

لیگی منطق اور عوامی طنز

دلچسپ بات یہ ہے کہ ن لیگ والے اسے اپنی “سیاسی بصیرت” قرار دے رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ “ہم نے تو ہمیشہ اصولی موقف اپنایا”۔
مگر عوام پوچھتے ہیں:
“اصولی موقف یا موسمی تبدیلی؟”
کیونکہ اصول وہی ہوتے ہیں جو اقتدار کے ساتھ نہ بدلیں۔
مگر ن لیگ کا اصول ہے: “جہاں فائدہ، وہی ہمارا مؤقف!”

کبھی امریکہ سے محبت، کبھی چین سے قربت،
کبھی عمران خان کے خلاف، کبھی اسی کے بیانیے پر سیاست۔
اور جب عوام یہ تضاد دیکھتے ہیں تو ان کے چہروں پر مسکراہٹ آ جاتی ہے —
وہ مسکراہٹ جو طنز سے زیادہ “سمجھداری” کا اشارہ ہے۔

 

سیاسی تاریخ کا المیہ

پاکستان کی سیاست میں کئی جماعتیں آئیں، گئیں، مگر ن لیگ جیسا سیاسی تضاد شاید ہی کسی میں ہو۔
یہ وہ جماعت ہے جو اقتدار میں آ کر بھی “شکایت” کرتی ہے،
اپوزیشن میں آ کر بھی “ناراضی” کا بیانیہ بیچتی ہے۔
جب حامی ہو تو بھی “مظلوم”، اور جب مخالف ہو تو بھی “مظلوم”!

اب یہی مظلومیت امریکی سیاست تک جا پہنچی ہے۔
ٹرمپ کی حمایت کے بعد لگتا ہے واشنگٹن ڈی سی کے شہری بھی جلد “مہنگائی مارچ” نکالیں گے۔

اختتامی بات

سیاست میں حمایت اور مخالفت کوئی جرم نہیں۔
اصل سوال نیت کا ہے۔
ن لیگ نے ہمیشہ وقتی فائدے کے لیے قدم اٹھایا، اور ہر بار نقصان اٹھایا۔
اب جب انہوں نے ٹرمپ کو سراہا،
تو لگتا ہے قسمت نے بھی کہہ دیا:
“بس کرو، تمہارے حصے میں تعریف نہیں، عبرت لکھی جا چکی ہے!”

اب دیکھنا یہ ہے کہ ن لیگ اگلے کس کا ساتھ دیتی ہے —
کیونکہ تاریخ گواہ ہے،
جس کے ساتھ ن لیگ کھڑی ہوتی ہے، اس کی سیاست بیٹھ جاتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button