غزہ: مزید 70فلسطینی شہید: ڈنمارک نے اسرائیل پر پابندیوں کا عندیہ دیدیا
26افراد امداد کے حصول کی کوشش کے دوران جاں بحق: مصر میں مذاکرات، حماس کے مطالبات میں نرمی، اسرائیلی ہٹ دھرمی برقرار
غزہ، قاہرہ، برسلز (ویب ڈیسک ) غزہ میں اسرائیلی فورسز نے مزید 70 فلسطینیوں کو شہید کر دیا۔ قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق غزہ کی وزارت صحت نے شہید فلسطینیوں کی لاشوں کو ہسپتالوں منتقل کرنے کی تصدیق کی ہے، جن میں سے 8لاشیں ملبے تلے یا دیگر مقامات سے نکالی گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24گھنٹے کے دوران کم از کم 26افراد کو امداد کے حصول کی کوششوں کے دوران شہید ہوئے اور 175کو زخمی کیا گیا۔ دوسری طرف مصر میں حماس کے مذاکرات کاروں نے اپنے کچھ مطالبات میں نرمی کا عندیہ دیا ہے، جو گزشتہ ماہ دوحہ میں یرغمالیوں سے متعلق مذاکرات کی ناکامی کی وجہ بنے تھے۔ عرب سفارت کاروں کے مطابق حماس جزوی معاہدے پر غور کرنے کو تیار ہے، تاہم اسرائیل اب بھی صرف ایک جامع ڈیل چاہتا ہے جس میں تمام یرغمالیوں کی رہائی، حماس کا غیر مسلح ہونا اور غزہ کی مکمل ڈیمِلٹرائزیشن شامل ہو۔ اسرائیلی حکام کے مطابق موساد کے سربراہ ڈیوڈ برنیع نے حالیہ دنوں میں دوحہ میں قطری وزیراعظم سے ملاقات بھی کی، مگر تل ابیب نے واضح کیا ہے کہ وہ جزوی جنگ بندی کو قبول نہیں کرے گا۔
اس وقت سب سے بڑا اختلاف حماس کے غیر مسلح ہونے کے معاملے پر ہے، جسے ثالث سب سے مشکل شرط قرار دے رہے ہیں۔ ادھر مصر اور قطر کی کوشش ہے کہ ایک 60روزہ جنگ بندی پر اتفاق کرایا جائے جس کے تحت کچھ یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کا تبادلہ ہو سکے۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا بدستور اصرار ہے کہ صرف فوجی دبائو ہی حماس کو مکمل طور پر جھکنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ ادھر برسلز میں یورپی یونین اجلاس کے موقع پر ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈریکسن اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو پر برس پڑیں۔ میٹے فریڈریکسن نے غزہ میں انسانی المیے کو انتہائی ہولناک اور تباہ کن قرار دیتے ہوئے اسرائیل کے مغربی کنارے میں نئی یہودی آبادکاریوں کے منصوبے کی شدید مذمت کی۔
میٹے فریڈریکسن نے کہا کہ اسرائیل پر دبائو ڈالنے کے لیے ہمیں دیگر یورپی ممالک کی حمایت حاصل کرنے میں مشکل کا سامنا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس کے باوجود ان ملک جو اس وقت یورپی یونین کی صدارت کر رہا ہے، اسرائیل پر دبائو ڈالنے کی اپنی کوششیں جاری رکھے گا تاکہ غزہ میں ہولناک انسانی المیے کا خاتمہ ہو۔ ڈنمارک کی وزیر اعظم نے کہا کہ نیتن یاہو اب ایک ’’ خود ساختہ مسئلہ‘‘ بن چکے ہیں، ہم کسی بھی آپشن کو پہلے سے رد نہیں کر رہے۔ جیسے روس پر پابندیاں لگائی گئیں، اسی طرح ہم اسرائیل پر موثر پابندیوں کے لیے بھی تیاری کر رہے ہیں۔
اسرائیل پر پابندیوں سے متعلق انہوں نے عندیہ دیا کہ وہ سیاسی دبائو بڑھانے کے ساتھ ساتھ اقتصادی اور تحقیقی شعبے میں بھی پابندیوں پر غور کر رہی ہیں، جن میں تجارتی یا تحقیقی تعاون معطل کرنا بھی شامل ہے۔



