لاہور:(بیوروچیف/سید ظہیر نقوی)پنجاب ایجوکیشن انیشیٹو مینیجمنٹ اتھارٹی(PEIMA) میں ڈپٹی ڈائریکٹر امجد حسین کی بے ضابطگیوں ،کرپشن اور ایمپل گلوبل کے نام سے کمپنی کے حوالے سے ہوشربا انکشافات جاری ہیں۔

امجد حسین کی ایمپل گلوبل کے نام سے کمپنی کا سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو بھی علم تھا اس حوالے سے File No.
SO(ER-II)6-13/2021 بھی موجود ہے،امجد حسین کے ساتھ انور فاروق بھی بے ضابطگیوںمیں ملوث نکلے جس میں انور فاروق کو محکمہ میں واپس بھیج دیا گیا اور امجد حسین نے پیسے دے کر اپنی فائل کو چھپا دیا ۔

PEIMAکی آڈٹ رپورٹ نےامجدحسین کی کرپشن کے حوالے سے تائید کردی، آڈٹ رپورٹ کا پیرا او ایم نمبر 35 سپورٹ اسٹاف کی خریداری کے لیے معاہدے کی غیر قانونی الاٹمنٹ پر مشتمل ہے ۔

PPRA کے قاعدہ 38(a)کے مطابق کی انتظامیہ نے 2 مئی 2023 کو M/s Ample Global Enterprises Pvt. Ltd. کو سنگل اسٹیج سنگل انویلپ بنیاد پر بغیر مجاز اتھارٹی کی منظوری کے ٹھیکہ دیا جس کی تخمینی سالانہ لاگت 41.574 ملین روپے ہے جو کہ منظور شدہ SBDs کی خلاف ورزی ہے۔
یہ انٹیگریٹی پیکٹ فارم ٹینڈر کا حصہ تھا بڈنگ ڈاکیومنٹس سے یہ تقاضہ نکال دیا گیا جب کہ پیرا OM No.36
میں معاہدے کی خلاف ورزی اور کرپشن کا ذکر ہے ۔

ثبوت کے مطابق ناجائز نوازنے کے لیے قیمت میں بلاجواز اضافہ کیا گیا یہ 17.555 ملین روپے ہے ۔ آڈٹ ٹیم نے حیرت انگیز انکشاف کیا ہے کہ ٹھیکیدار کی درخواست کے بجائے، PEIMA کی انتظامیہ نے صرف دو ماہ بعد اپنے خط مورخہ 03.07.2023 کے ذریعے میسرز ایمپل گلوبل انٹرپرائزز پرائیویٹ لمیٹڈ سے پنجاب حکومت کے 01.07.2023 سے نافذ العمل نظرثانی شدہ کم از کم اجرت کی شرحوں کا سرٹیفکیٹ فراہم کرنے کی درخواست کی تاکہ معاہدے کی قیمت میں فرق کو پورا کرنے کے لیے ضروری انتظامات کیے جا سکیں۔

میسرز ایمپل گلوبل انٹرپرائزز نے اپنے خط مورخہ 5 جولائی 2023 کے ذریعے درخواست کی کہ حکومت نے ہر زمرے کے لیے اجرت کی شرح میں 28% اضافہ کیا ہے لیکن محکمہ خزانہ نے ابھی تک تفصیلی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا اور جب وہ جاری کریں گے تو ہم نوٹیفکیشن آپ کے دفتر کے ساتھ شیئر کریں گے لہذا آپ سے درخواست ہے کہ ہماری پیش کردہ شرحوں میں 28% اضافہ کریں۔
انتظامیہ کو معاہدے کی شق کے مطابق ٹھیکیدار کو معاہدے کی مدت کے اختتام تک بغیر کسی اضافے کے پیش کردہ رقم ادا کرنی تھی یا 3 ماہ کے معاہدے کی میعاد ختم ہونے کے بعد معاہدے کو دوبارہ مشتہر کرنا تھا لیکن انتظامیہ نے ایسا نہیں کیا، جس کے نتیجے میں 2023-24 کے دوران نظرثانی شدہ شرحوں پر 17.555 ملین روپے کی ادائیگی کی گئی ۔
ٹھیکیدار کو معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اضافی ادائیگی کی گئی اس کے علاوہ ان ملازمین کو سوشل سیکیورٹی، EOBI، میڈیکل انشورنس اور حادثاتی انشورنس کی سہولت فراہم نہیں کی گئی، جس کے نتیجے میں یہ ملازمین بہتر کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے، بالآخر ان کی کمزور کارکردگی نے PEIMA کی کارکردگی کو متاثر کیا۔

خلاف قانون کوئی پولیس رپورٹ، میڈیکل فٹنس اور انٹرویوز منعقد نہیں کیے گئےاور خریداری کے طریقہ کار اور معیاری بولی کے دستاویزات کو بورڈ آف ڈائریکٹرز کی منظوری کے بغیر تبدیل کیا گیا اور سالانہ تخمینہ لاگت 151.80% بڑھا کر 16.50 ملین روپے سے 41.547 ملین روپے کر دی گئی تاکہ ٹھیکیدار کو بلاوجہ فائدہ پہنچایا جا سکے۔آڈٹ کا نقطہ نظر یہ ہے کہ انتظامیہ نے ایچ آر کمیٹی اور اتھارٹی کے فیصلے کی خلاف ورزی کی جو کہ ایک سنگین جرم اور بے قاعدگی ہے اب امجد حسین کو راستہ دینے کیلئے این او سی کی تیاریاں جاری ہیں۔
سی این این اردوڈاٹ کام کے موقف جاننے کیلئے رابطہ کرنے پر ڈپٹی ڈائریکٹر امجد حسین نے کہاکہ ایمپل گلوبل انٹرپرائززسے میرا کوئی تعلق نہیں جس نے جو کرنا ہے کر لے ۔



