ایس این جی پی ایل،فاسٹ ٹریک کے نام پر بھاری رقوم وصول، شہری تاحال کنکشن سے محروم
لاہور:(بیوروچیف)سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) ایک بار پھر عوامی اعتماد کھوتی نظر آ رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے نئے گیس کنکشن کی اجازت ملنے کے بعد اکتوبر 2025 میں شہریوں سے فاسٹ ٹریک اسکیم کے تحت 46,500 اور 48,000 روپے فی کنکشن وصول کیے گئے، تاہم آج تک ان درخواست گزاروں کے لاگ ان پر کنکشن فراہم نہیں کیے جا سکے۔
صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب ایس این جی پی ایل نے اسی اکتوبر کی نارمل درخواستوں پر 21,500 روپے کے ڈیمانڈ نوٹس جاری کرنا شروع کر دیے، جس پر شدید سوالات جنم لے رہے ہیں۔
متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ جب 21,500 روپے میں کنکشن ممکن تھا تو پھر فاسٹ ٹریک کے نام پر 46,500 اور 48,000 روپے کیوں وصول کیے گئے؟اور اگر زیادہ رقم لی گئی تو ان صارفین کو ترجیحی بنیادوں پر کنکشن کیوں فراہم نہیں کیے گئے، جن کے کنکشن آج بھی پینڈنگ ہیں؟
درخواست گزاروں کے مطابق انہوں نے سرکاری طریقہ کار کے تحت مقررہ رقوم جمع کروائیں، مگر انہیں کئی ماہ سے صرف تسلیاں دی جا رہی ہیں۔ نہ تو کنکشن کی کوئی حتمی تاریخ دی گئی اور نہ ہی زائد وصولی کی کوئی وضاحت سامنے آئی۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ محض انتظامی ناکامی نہیں بلکہ سنگین بدانتظامی اور ممکنہ مالی بے ضابطگی کی نشاندہی کرتا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ فاسٹ ٹریک کے تحت جمع کروائی گئی درخواستوں پر فوری کنکشن فراہم کیے جائیں،46,500 اور 48,000 روپے وصول کرنے کی وجوہات عوام کے سامنے لائی جائیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ذمہ دار افسران کے خلاف تحقیقات اور کارروائی عمل میں لائی جائے،عوامی اعتماد سے اس طرح کھیلنا کسی قومی ادارے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے، جبکہ یہ معاملہ وزارتِ پیٹرولیم اور اعلیٰ حکام کی فوری توجہ کا متقاضی ہے۔



