انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینتعلیم/ادبکالم

ریاست، شریعت اور قومی ذمہ داری

تحریر: محمد محسن اقبال

اسلام کے طلوع سے قبل انسانیت کی تاریخ ایک ایسے دور سے گزر رہی تھی جس پر فکری انتشار، اخلاقی انحطاط اور سماجی بے ترتیبی کے سیاہ بادل چھائے ہوئے تھے۔ اخلاقی اقدار کی جستجو، بنیادی انسانی حقوق کا اعتراف، معاشرتی مساوات کا قیام اور عدل و انصاف کا نفاذ محض منتشر تصورات تھے، جنہیں ظلم، قبائلی عصبیت اور بے لگام خواہشات نے پامال کر رکھا تھا۔

ایسے تاریک ماحول میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بے پایاں فضل و کرم سے قرآنِ مجید نازل فرمایا، جس نے انسانی زندگی کے ہر شعبے میں روشنی، توازن اور نظم عطا کیا۔ پھر خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے اپنی مبارک سیرت، پاکیزہ کردار اور تعلیمات کے ذریعے ان آسمانی احکام کو عملی زندگی میں ڈھال کر قیامت تک آنے والی نسلوں کے لیے ایک کامل نمونہ پیش فرمایا۔

وقت گزرنے کے ساتھ مسلم معاشروں کو نئے حالات، پیچیدہ مسائل اور مختلف آزمائشوں کا سامنا ہوا، مگر ان کا حل کبھی وحی سے ہٹ کر ایجاد نہیں کیا گیا۔ ائمۂ ہدایت اور اکابر علماء نے قرآن و سنت کی روشنی میں اجتہاد کرتے ہوئے ہر نئے مسئلے کی رہنمائی فراہم کی، اور ان کی تمام آراء و فتاویٰ ہمیشہ کتاب و سنت کے تابع رہے۔

اسی علمی و فقہی روایت میں اسلامی ریاست کے تقاضے، حکومت کے فرائض، عوامی فلاح، معاشرتی نظم، جہاد کے اصول، جنگ کے آداب اور اس کی اخلاقی حدود کو نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا، تاکہ مسلمان امن کے زمانے میں بھی اللہ کی ہدایت پر چلیں اور آزمائش کے وقت بھی شریعت کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز نہ کریں۔

بدقسمتی سے ہمارے موجودہ دور میں بعض گمراہ عناصر نے اسلام کے مقدس نام کو ان اعمال کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے جنہیں قرآن و سنت صریحاً مسترد کرتے ہیں۔ ان ممنوعہ روشوں میں سب سے نمایاں خروج یعنی جائز ریاستی اقتدار کے خلاف مسلح بغاوت ہے۔ چودہ صدیوں سے امت کے جلیل القدر علماء اس امر پر متفق ہیں کہ ایسا اقدام فتنہ، فساد اور کبیرہ گناہ ہے۔ پاکستان میں انتہا پسند گروہ اسی اجماعی موقف کو مسخ کرکے اپنی دہشت گردی اور مسلح شورش کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ایک قائم شدہ اسلامی ریاست کی جائز اتھارٹی کی اطاعت ہر مسلمان شہری پر شرعی ذمہ داری ہے۔

قرآنِ مجید نہایت واضح انداز میں ارشاد فرماتا ہے: "اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو اور اپنے میں سے صاحبانِ امر کی اطاعت کرو۔” اس آیت کی کسی معتبر تفسیر میں پاکستان جیسے آئینی و قانونی نظام کے خلاف مسلح بغاوت کی اجازت نہیں دی گئی۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص جماعتِ مسلمین سے ایک بالشت بھی الگ ہو کر مر جائے، اس کی موت جاہلیت کی موت ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ، جن کے اقوال کو شدت پسند اکثر سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کرتے ہیں، درحقیقت اس بات کے قائل تھے کہ ناقص حکمران کے تحت استحکام، فتنہ و انتشار سے کہیں بہتر ہے، اور انہوں نے بغاوت کو سختی سے رد کیا۔ اسی طرح امام نوویؒ اور امام غزالیؒ نے بھی واضح فرمایا کہ بغاوت کا علاج اس ظلم سے کہیں زیادہ تباہ کن ثابت ہوتا ہے جسے ختم کرنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے عادل قیادت کو ایسی ڈھال قرار دیا جس کے پیچھے لوگ محفوظ رہتے ہیں۔ آج پاکستان کی مسلح افواج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اسی ذمہ داری کو نبھا رہے ہیں، لہٰذا ان کی معاونت محض قومی فریضہ نہیں بلکہ ایک عظیم دینی ذمہ داری بھی ہے۔

قرآن کریم یہ تعلیم دیتا ہے کہ شکایات اور اختلافات کا حل قانونی اور پرامن ذرائع سے تلاش کیا جائے؛ عدالتوں سے رجوع کیا جائے، اہلِ علم سے رہنمائی لی جائے اور دلیل و حکمت کے ساتھ اصلاح کی کوشش کی جائے، نہ کہ تلوار اور تشدد کے ذریعے۔ حتیٰ کہ ظلم کے حالات میں بھی رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو تلقین فرمائی کہ وہ حکمرانوں کے حقوق ادا کریں اور اپنے حقوق کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں۔

امام احمد بن حنبلؒ کی زندگی اس صبر و استقامت کی روشن مثال ہے کہ شدید ظلم، قید و بند اور آزمائشوں کے باوجود انہوں نے کبھی بغاوت کی دعوت نہیں دی۔ پاکستان کا آئین، جو اسلامی اصولِ عدل اور شوریٰ سے رہنمائی حاصل کرتا ہے، احتساب، اصلاح اور قانونی چارہ جوئی کے متعدد راستے فراہم کرتا ہے۔ اس لیے جمہوری عمل میں حصہ لینا اور آئینی طریقوں سے اصلاح کی جدوجہد کرنا ہی اسلامی تعلیمات کے مطابق قومی ترقی کا صحیح راستہ ہے۔

اس پورے تصور کی روح رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ طیبہ ہے، جو اعتدال، رحمت اور توازن کا کامل نمونہ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "مجھے تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے۔” اس ارشاد نے واضح کر دیا کہ آپؐ کی بعثت خونریزی، جبر اور غلبے کے لیے نہیں بلکہ انسانیت پر رحمت، ہدایت اور خیر کے لیے تھی۔ فتح مکہ کے تاریخی موقع پر آپ ﷺ نے اپنے بدترین دشمنوں کو بھی معاف کرتے ہوئے فرمایا: "آج تم پر کوئی گرفت نہیں۔” یہ عظیم الشان عفو و درگزر ہی سنتِ نبویؐ کا حقیقی چہرہ ہے، جس کا دہشت گردی، انتہا پسندی اور بے گناہوں کے قتل سے کوئی تعلق نہیں۔

قرآنِ مجید امتِ مسلمہ کو "امتِ وسط” قرار دیتا ہے، یعنی اعتدال، انصاف اور توازن کی حامل امت۔ رسول اکرم ﷺ نے اسلامی ریاست میں رہنے والے غیر مسلم شہریوں کے جان و مال اور عزت و آبرو کو مکمل تحفظ فراہم کیا، یہاں تک فرمایا کہ اگر کسی معاہد غیر مسلم پر ظلم کیا گیا تو قیامت کے دن میں خود اس کی طرف سے مدعی بنوں گا۔ آپ ﷺ نے ان لوگوں کے ساتھ بھی حسنِ سلوک اور عدل کا حکم دیا جو مسلمانوں سے برسرِ جنگ نہ ہوں، دوسری اقوام کے بیماروں کی عیادت فرمائی، مخالفین سے نرم لہجے میں گفتگو کی، اور جہاں عزت و وقار کے ساتھ امن ممکن تھا وہاں ہمیشہ امن کو ترجیح دی۔ آپ ﷺ کا فرمان تھا: "لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرو، تنگی پیدا نہ کرو۔” اسی لیے اسلام ہر اس شدت پسندی کو مسترد کرتا ہے جو معاشرے کو نفرت، خوف اور تشدد کی آگ میں جھونک دے۔

آپ ﷺ نے میدانِ جنگ سے واپسی پر یہ بھی تعلیم دی کہ سب سے بڑا جہاد انسان کا اپنے نفس کے خلاف جہاد ہے، اور یہی وہ حقیقت ہے جسے دہشت گردی مکمل طور پر جھٹلا دیتی ہے۔

پاکستان کی بنیاد بھی انہی نبوی اصولوں پر رکھی گئی تھی، جن کی اساس عدل، رواداری، باہمی احترام اور سب شہریوں کے مساوی حقوق پر قائم ہے۔ جب پاکستانی عوام ان عناصر کے خلاف اپنی ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں جو ملک کے امن، وحدت اور استحکام کو پارہ پارہ کرنا چاہتے ہیں، تو وہ درحقیقت ایک ایسی خدمت انجام دیتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک باعثِ اجر ہے۔

قرآنِ مجید اہلِ صبر اور ثابت قدم رہنے والوں کے ساتھ اللہ کی معیت کی بشارت دیتا ہے۔ بغاوت اور فتنہ ہمیشہ انتشار، تباہی اور روحانی زوال کا سبب بنتے ہیں، جبکہ رسولِ اکرم ﷺ کا راستہ رحمت، قانون کی پاسداری، تمام شہریوں کے لیے انصاف اور وطن کی فلاح کے لیے خلوصِ نیت سے جدوجہد کی دعوت دیتا ہے۔ یہی معتدل، متوازن اور اصول پسند طرزِ فکر پاکستان کی حقیقی ترقی، اس کے استحکام اور امتِ مسلمہ کی دائمی عزت و وقار کی ضمانت ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button