انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

ڈریگن کے شہر میں عقاب کی آمد

عاصم رضا خیالوی

بیجنگ کی صبح غیر معمولی طور پر منظم اور خاموش تھی۔ سرخ جھنڈے ہلکی ہوا میں لہرا رہے تھے اور شہر کے قلب میں واقع Tiananmen Square کے اردگرد سکیورٹی پہلے سے کہیں زیادہ سخت دکھائی دے رہی تھی۔ اسی لمحے فضا میں ایک بڑا سفید طیارہ نمودار ہوا — امریکی صدر کا طیارہ Air Force One۔ یہ محض ایک سفارتی سفر نہیں تھا بلکہ اپنے ساتھ عالمی سیاست، معیشت اور طاقت کے توازن کی پوری کہانی لے کر آیا تھا۔ طیارہ رکا، دروازہ کھلا اور سیڑھیوں پر ایک مانوس شخصیت ظاہر ہوئی: امریکہ کے صدر Donald Trump۔ رن وے پر ان کے استقبال کے لیے چین کے نائب صدر Han Zheng موجود تھے، جبکہ بیجنگ کے اقتدار کے مرکز میں چین کے صدر Xi Jinping اس ملاقات کے اصل میزبان تھے۔ اس لمحے کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا تھا جیسے عالمی سیاست کی قدیم علامتیں زندہ ہو گئی ہوں—ایک طرف امریکہ کا عقاب اور دوسری طرف چین کا ڈریگن۔
یہ منظر کسی عام سفارتی ملاقات کا نہیں بلکہ عالمی طاقت کے بدلتے ہوئے توازن کا استعارہ تھا۔ تقریباً ایک دہائی بعد ہونے والی اس ملاقات کے پس منظر میں دنیا کی کئی بڑی کہانیاں بیک وقت چل رہی تھیں۔ جب ٹرمپ 2017 میں چین آئے تھے تو انہیں ایک غیر معمولی اعزاز دیا گیا تھا۔ چین کی قدیم شاہی طاقت کی علامت Forbidden City کے اندر ان کے اعزاز میں عشائیہ دیا گیا تھا، جو اس سے پہلے کسی امریکی صدر کو نہیں ملا تھا۔ اس بار بھی استقبال شاندار تھا، مگر ماحول مختلف تھا۔ اب چین وہ چین نہیں رہا تھا جسے کبھی صرف ایک ابھرتی ہوئی معیشت سمجھا جاتا تھا۔ شی جن پنگ کی قیادت میں چین اپنی تیسری دہائی کے نئے عزائم کے ساتھ آگے بڑھ رہا تھا—مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور قابلِ تجدید توانائی جیسے شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے ذریعے ایک نئی اقتصادی اور تکنیکی طاقت کے طور پر۔ واشنگٹن کے پالیسی ساز بھی اب یہ تسلیم کرنے لگے تھے کہ بیجنگ صرف ایک حریف نہیں بلکہ تاریخ میں امریکہ کے سامنے آنے والا شاید سب سے طاقتور مقابلہ بن چکا ہے۔
اسی لیے بیجنگ میں ہونے والی اس ملاقات کو صرف ایک سفارتی ایونٹ نہیں بلکہ آنے والے عالمی نظام کی جھلک کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔ دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتوں کے رہنما جب آمنے سامنے بیٹھنے والے تھے تو میز پر صرف دو افراد نہیں بلکہ کئی عالمی مسائل بھی موجود تھے۔ ان میں سب سے اہم مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی تھی۔ امریکہ اور Israel کے حملوں کے بعد Iran کے ساتھ کشیدگی بڑھ چکی تھی اور اس جنگ نے عالمی معیشت کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا تھا۔ چین خاموشی سے ثالثی کے کردار میں آنے کی کوشش کر رہا تھا، کیونکہ ایران اس کے لیے صرف ایک سفارتی اتحادی نہیں بلکہ توانائی کا ایک بڑا ذریعہ بھی ہے۔ اندازوں کے مطابق ایران کے تیل کا سب سے بڑا خریدار چین ہی ہے، اس لیے بیجنگ جنگ کے پھیلاؤ سے بچنا چاہتا ہے۔ واشنگٹن کو امید تھی کہ چین اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے تہران کو دباؤ میں لا سکتا ہے، مگر چین بھی جانتا تھا کہ عالمی سیاست میں ہر مدد کی ایک قیمت ہوتی ہے۔
اسی میز پر ایک اور حساس مسئلہ بھی موجود تھا—Taiwan۔ چین اسے اپنی سرزمین کا حصہ سمجھتا ہے جبکہ امریکہ طویل عرصے سے اس جزیرے کی دفاعی حمایت کرتا رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں واشنگٹن نے تائیوان کو بڑے پیمانے پر ہتھیار فراہم کیے ہیں، جس سے بیجنگ کی تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ Marco Rubio پہلے ہی اشارہ دے چکے تھے کہ اس دورے کے دوران تائیوان پر بات چیت ہوگی تاکہ یہ مسئلہ کسی بڑے تصادم میں تبدیل نہ ہو۔ لیکن چین کے لیے یہ صرف ایک سفارتی موضوع نہیں بلکہ قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا مسئلہ ہے۔
ان سیاسی تنازعات کے ساتھ ساتھ اس ملاقات کے پیچھے ایک اور بڑی جنگ بھی جاری تھی—تجارت اور ٹیکنالوجی کی جنگ۔ چند سال پہلے شروع ہونے والی امریکہ اور چین کی تجارتی کشیدگی نے عالمی معیشت کو بھی متاثر کیا تھا۔ امریکہ کو شکایت ہے کہ وہ چین سے بہت زیادہ اشیاء خریدتا ہے جبکہ چین امریکی مصنوعات کم خریدتا ہے۔ اسی لیے ٹرمپ چاہتے ہیں کہ چین زیادہ امریکی زرعی مصنوعات، خصوصاً سویا بین اور گوشت، خریدے اور ساتھ ہی امریکی طیارہ ساز کمپنیوں کو بھی بڑے آرڈر دے۔ دوسری طرف چین کے پاس بھی ایک اہم تزویراتی ہتھیار موجود ہے—ریئر ارتھ معدنیات۔ یہ وہ نایاب عناصر ہیں جو جدید الیکٹرانکس، دفاعی نظام اور مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے لیے ناگزیر سمجھے جاتے ہیں۔ چین ان معدنیات کی عالمی سپلائی کا بڑا حصہ اپنے کنٹرول میں رکھتا ہے، جس سے اسے ٹیکنالوجی کی جنگ میں ایک اہم برتری حاصل ہوتی ہے۔
اسی وجہ سے اس سفر میں ٹرمپ اکیلے نہیں آئے تھے۔ ان کے ساتھ امریکہ کی ٹیکنالوجی اور کاروباری دنیا کی نمایاں شخصیات بھی موجود تھیں، جن میں Elon Musk، Jensen Huang اور Tim Cook شامل تھے۔ یہ محض کاروباری رہنما نہیں بلکہ اس نئی عالمی ٹیکنالوجی دوڑ کے اہم کردار ہیں۔ ٹرمپ کی خواہش ہے کہ چین اپنی مارکیٹ امریکی کمپنیوں کے لیے مزید کھول دے تاکہ امریکی ٹیکنالوجی کمپنیاں وہاں سرمایہ کاری اور کاروبار کو بڑھا سکیں۔ مگر واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان ٹیکنالوجی کی جنگ پہلے ہی شروع ہو چکی ہے، خاص طور پر مائیکروچپس اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں، جہاں امریکہ نے چین پر جدید چپس کی برآمدات پر پابندیاں بھی عائد کی ہیں۔
اگلے دن بیجنگ کے تاریخی سرکاری مرکز Great Hall of the People میں دونوں رہنما آمنے سامنے بیٹھے۔ کیمرے چل رہے تھے، سفارتی مسکراہٹیں موجود تھیں اور دنیا بھر کے ٹی وی چینلز اس لمحے کو براہِ راست نشر کر رہے تھے۔ لیکن اس رسمی منظر کے پیچھے عالمی سیاست کا ایک پیچیدہ کھیل جاری تھا۔ یہاں بیٹھے ہوئے صرف دو رہنما نہیں بلکہ عالمی معیشت کے مفادات، ٹیکنالوجی کی مسابقت، مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور آنے والے عالمی نظام کی سمت بھی موجود تھی۔
بیجنگ کی اس ملاقات نے دنیا کے سامنے ایک بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے۔ کیا آنے والے برسوں میں عالمی طاقت کا مرکز اب بھی ایک ہی ملک کے گرد گھومتا رہے گا، یا دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں کئی بڑی طاقتیں ایک دوسرے کے ساتھ توازن میں رہ کر عالمی سیاست کو شکل دیں گی؟ شاید اس سوال کا جواب ابھی واضح نہیں، مگر تاریخ نے بیجنگ کے اس لمحے کو ضرور محفوظ کر لیا ہے—وہ لمحہ جب امریکہ کا صدر چین کے دارالحکومت پہنچا اور دنیا نے خاموشی سے دیکھا کہ عالمی طاقت کا توازن کس سمت جھکنے والا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button