بلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاعلاقائی خبریںکالم

موٹروے پولیس اور میرٹ کی مخدوش صورتحال

میں ہوں کہ لفظوں کی ابتدا کیسے کروں ۔ امید پر دنیا قائم ہے ۔ حالات کی گرانی میں جب مایوسیاں اپنی انتہا کو پہنچنے لگتی ہیں تو انسان فقط خدائے وحدہ لاشریک کی ایک ذات کو ہی پکارتا ہے۔ میں بھی ارض پاکستان کے لئے دعا گو ہوں کہ کوئی ایک تو ادارہ ہو جو مکمل نہ سہی کچھ اپنا بھرم ہی قائم رکھنے میں کامیاب ہو جائے ۔ میں یہ نہیں کہتا کہ وطن عزیز کے اداروں کی بد حالی پر بالکل ہی نا امید ہو جایا جائے ۔ لیکن جب بھی کسی ادارے پر کوئی اعتبار کی فضا قائم ہوتی ہے تو ایسی بد انتظامی دیکھنے میں آتی ہے کہ یہ خیال بھی ساتھ چھوڑ جاتا ہے کہ ادارے اپنی سمت ٹھیک کرنے میں اگلے سو سالوں میں بھی کامیاب ہوں گے ۔
عام پاکستانی کی طرح موٹروے پولیس پر میرا اعتماد دوسرے پولیس اداروں کی نسبت ہمیشہ بہتر رہا ہے ۔ لیکن گزشتہ کچھ سالوں سے ادارہ اپنی ساکھ کھو رہا ہے۔ میں موٹروے پولیس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس خاص کر فیس بک آفیشل پیج پر اکثر وزٹ کرتا ہوں۔ اس پر ادارے کی طرف سے کی گئی روڈ یوزرز کی مدد اور روڈ سیفٹی سیمینار وغیرہ اپلوڈ کیے جاتے ہیں ۔ میں حیران رہ گیا جب دیکھا کہ کچھ ماہ پہلے رحیم یار خان کی حدود میں بددیانتی اور بھتہ خوری جیسے الزامات پر سزا یافتہ موٹروے انسپکٹر روڈ سیفٹی پر لیکچر دینے میں مصروف عمل ہے ۔ کیا موٹروے پولیس کا کرپشن فری کا نظریہ کھلے عام کرپشن کی ترویج میں تبدیل ہو چکا؟
کرپشن کی یہ جاری داستان کافی پرانی ہے۔ فیصل آباد کے سینیئراور بزرگ صحافی اس واقعہ سے باخبر ہیں ۔ غالباً 2007 کاسال تھا جب فیصل آباد موٹروے پر کھڑی روڈ یوزر کی گاڑی چوری ہو گئی۔ تلاش اور تحقیقات کے بعد پتہ چلا کہ موٹروے پولیس کے ڈیوٹی پر موجود اہلکار ہی گاڑی چوری میں ملوث تھے مبینہ طورپر ان میں سے مرکزی کردار مشہور زمانہ انسپکٹر رانا عرفان تھا۔ اس وقت موٹروے پولیس کا معیار اور انصاف باقی تھا۔ چنانچہ موصوف کو محکمانہ سزا دے کر موٹروے سے ٹرانسفر کر دیا گیا۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس کرپشن کے بدبودار زخم کو ناسور بننے سے روکا جاتا مگر جیسے ہی اس وقت کے آئی جی موٹروے رفعت پاشا تبدیل ہوئے موصوف سفارشی بنیادوں پر دوبارہ اپنے ایریا میں واپس آ گئے اور آنے والے وقت میں انتظامی پوسٹوں پر قبضہ جما رہے۔ گاڑی چوری میں ملوث ہونے سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ موصوف شاطر آدمی ہیں اور گاڑیوں کے شیدائی ہیں۔ نام کسٹم گاڑیوں میں دلچسپی بھی ریکارڈ شدہ ہے۔ میں مزید اندرون محکمہ سکینڈلز کا ذکر نہیں کرتا۔ اس کا تذکرہ مناسب نہیں ، ادارہ کے اندر کیا کیا سکینڈل آئے ہیں ان کا تزکرہ ممکن نہیں۔ ہم صرف وہی بات کریں گے جو آن ریکارڈ موجود ہے۔

کہتے ہیں کہ چور چوری سے جاتا ہے ہیرا پھیری سے نہیں۔ رحیم یار خان میں تعیناتی کے دوران موصوف نے ایڈمن آفیسر کی پوسٹ پر قبضہ جمائے رکھا ۔ اپنے مضبوط نیٹ ورک کی بدولت خوب کھل کھیلے ۔ لیکن ظلم پھر ظلم ہے، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے ۔ بالآخر رحیم یار خان میں مبینہ طور پر بدیانتی اور جھوٹا پرچہ دینے کے الزامات پر معطل ہوئے اور پھر محکمانہ سزا کے حقدار ٹھہراے گیے۔ موصوف کیوں کہ سالہاسال سے انتظامی پوزیشنوں پر براجمان رہ کر ایک "مافیا کا کارٹل” تشکیل دے چکے ہیں۔ لہذا رحیم یار خان میں انکوائری میں بھی کئی موڑ آئے ۔ ڈی آئی جی موٹروے دار علی خٹک کو البتہ یہ کریڈٹ ضرور جاتا ہے۔ وہ موصوف کو کچھ نہ کچھ محکمانہ سزا دینے میں کامیاب رہے۔ اگرچہ مدعی اور عوام کا پرزور مطالبہ یہی ہے کہ موصوف کو دی گئی سزا ناکافی ہے۔

ان تمام حقائق کے باوجود موصوف جنرل ڈیوٹی سے گریزاں ہیں ۔ آج کل موصوف تعلیمی اداروں میں روڈ سیفٹی پر لیکچر دے رہےہیں ۔ اب یہاں پر کچھ سوالات نے جنم لیا ہے ۔ کیا موصوف کی ان مصروفیات کی اجازت یا خبر ڈی آئی جی صاحب کو ہے؟ کیا موٹروے پولیس کے پاس کوئی ایک بھی قابل انسپکٹر نہیں کہ محکمے کو ایک کرپٹ افسر پر ہی انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ کیا موصوف وہی گل پھر کھلائیں گے جو رحیم یار خان میں کر آئے ہیں۔ یا پھر محکمہ سے خدا خوفی اور روز جزا کا ڈر بالکل ختم ہو چکا؟ ایمانداروں کو بہانے سے تنگ کیا جا رہا جبکہ بد دیانتوں کو نوازا جا رہا۔ جیسا کہ رحیم یار خان میں ہوا ۔ موصوف کو سزا کم ہوئی جبکہ ایمانداروں پر تہمتیں لگائی گئیں،ان بیچاروں کے خلاف انکوائری کا آغاز کر کے ذہنی اذیت کانشانہ بنایا گیا ۔ انکا جرم صرف اور صرف محافظ کے روپ میں ایسے شخص کا ساتھ نہ دینا تھا۔ موصوف نے خود کو میڈیا میں "ڈی ایس پی” مشہور کیے رکھا۔ بالآخر تحقیقاتی صحافیوں نے اس پر حقائق جاری کئے لیکن کوئی محکمانہ سزا نہ ہوئی ۔

میں ارض پاکستان کے ارباب اختیار کو یہ باور کروانا چاہوں گا کہ بحیثیت مسلمان ہم اس بات سے باخبر ہیں کہ دنیا میں نہ سہی روز قیامت حساب دینا ہے ۔ ظلم کرنے والوں کو ہدایت نہیں جاتی۔ رحیم یار خان میں بہت اچھے افسران و اہلکار بھی موجود ہیں۔ ایمانداروں کے ساتھ برا سلوک نہ کریں۔

اسلام آباد اور لاہور کے بڑے دفاتر میں جو اس کے سہولت کار سینیئر افسران کو غلط بریف کر رہے ہیں وہ اس کو اپنے پاس دفتر میں کسی بڑی پوسٹ پر تعینات کریں۔ موٹروے کی ایمانداری کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے،موجودہ صورتحال سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ محکمہ میں ایمانداری اب "تہمت” ہے ، آپ کرپشن کریں ، اپنی گروپ بندی کریں ، دفتروں میں اپنے بیج میٹس سے لائن سیدھی کریں اور موج کریں۔ آپ کے قصیدے پڑھے جائیں گے۔ آپ ایمانداری کریں، ادارے کی عزت بچائیں ۔ ادارہ آپ کو ہی انکوائری میں ڈالے گا ۔۔ اللہ تعالیٰ کی ذاتِ وحدو لاشریک پر ہی ہمارا ایمان ہے ۔ انشاء اللہ تعالیٰ ایک دن یہ برائی کے گماشتے اور ان کے سہولت کار سزا پائیں گے ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button