امریکا اور چین کےدرمیان عالمی تجارتی جنگ میں شدت آگئی ہے ۔امریکا نے چین پر جوابی ٹیرف مزید بڑھا کر 125فیصد کردیا ادھر چین نے بھی امریکا کیخلاف جوابی اقدام کے طور پر امریکا سے درآمد تمام مصنوعات پر ٹیکس بڑھا کر 84فیصد کردیا ۔چین کی وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے چین کے خلاف محصولات میں اضافہ غلطیوں پر غلطیاں کرنا ہے۔دنیا کی دوبڑی معیشتوں کے درمیان تجارتی جنگ سیاسی کشیدگی کو بھی بڑھا رہی ہے۔ چین نے سیاحوں کو امریکا کا سفر کرنے سے پہلےخطرات کا مکمل جائزہ لیکر سفرکے بارے میں آگاہ کیا ہے ۔ چینی وزارت تجارت نے مزید 6 امریکی کمپنیوں کو ’غیر معتبر اداروں کی فہرست‘ میں شامل کرلیا ہے جس سے ان کمپنیوں کے لیے چین میں کاروبار کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔اس فہرست میں ایرو اسپیس اور ڈیفنس کمپنی ’سییرا نیواڈا کارپوریشن‘ سمیت مصنوعی ذہانت سے وابستہ دیگر امریکی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔غیر معتبر اداروں کی فہرست میں شامل کمپنیوں کو چین میں مالی جرمانوں اور ریگولیٹری پابندیوں سمیت دیگر پابندیوں کا سامنا کرنا پرسکتا ہے، جو ان کے کاروباری آپریشنز کو شدید متاثر کر سکتی ہیں۔امریکی خریداروں نے صدر ٹرمپ کی جانب سے محصولات عائد کرنے کے بعد دنیا کے دوسرے سب سے بڑے گارمنٹس مینوفیکچرر نے بنگلہ دیش سے آرڈرز روکنا شروع کر دیئے ہیں ۔بنگلہ دیش نے گزشتہ سال امریکا کو تقریباً 8 ارب 40 کروڑ ڈالر مالیت کا سامان برآمد کیا تھا، جس میں سے 7 ارب 34 کروڑ ڈالر ریڈی میڈ گارمنٹس کے شعبے سے آئے تھے۔بنگالی اخبار ’پرتھوم آلو‘ نے ریڈی میڈ گارمنٹس بنانے والی کمپنی وکی ٹیکس بی ڈی کے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) اے کے ایم سیف الرحمٰن کے حوالے سے بتایا کہ ان کے امریکی خریدار نے ڈیڑھ لاکھ ڈالر مالیت کی شپمنٹ روکنے کی درخواست کی ہے۔اے ایف پی‘ کے مطابق بنگلہ دیش کی برآمدات میں ٹیکسٹائل اور گارمنٹس کی پیداوار کا حصہ تقریباً 80 فیصد ہے، اور گزشتہ سال حکومت کا تختہ الٹنے والے طلبہ کی قیادت میں آنے والے انقلاب کے نتیجے میں اس صنعت کی تعمیر نو ہو رہی ہےامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو بنگلہ دیش کی کپاس کی مصنوعات پر 37 فیصد نئے محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔
چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عائد کردہ ٹیرف کے نتیجے میں عالمی سٹاک مارکیٹیں کریش کر گئیں تھیں ، سرمایہ داروں کے کھربوں ڈالر ڈوب گئے تھے جبکہ تیل کی قیمتیں 5سال کی کم ترین سطح پر آگئیں تھیں ،پاکستانی مارکیٹ میں بھی 3882پوائنٹس کی تاریخی مندی دیکھی گئی تھی ،دو روز میں امریکی سرمایہ کاروں کے 60کھرب سے زائد ڈوب گئے تھے ،جاپان،کوریا،سنگاپور کے علاوہ سعودی عرب،قطر،کویت سمیت مشرق وسطیٰ کی مارکیٹوں میں بھی گراوٹ دیکھنے میں آئی تھی سعودی اسٹاک میں 500؍ ارب ریال کا خسارہ ہوا جبکہ بھارت میں انویسٹرز کے 20لاکھ کروڑ روپے برباد ہوئے تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیرف کے بعد معاشی بےیقینی سے دوچار امریکیوں کے نام پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ نے بالکل گھبرانا نہیں ہے۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ تجارتی خسارے کے حل تک دوسرے ممالک سے کوئی معاہدہ نہیں کرینگے،بعض اقدامات کسی چیز کوٹھیک کرنے کیلئے دوا لینی پڑتی ہے۔تاہم گزشتہ روز ہی صدر ٹرمپ نے یو ٹرن لیتے ہوئے پاکستان سمیت جوابی ٹیکس عائد نہ کرنے والے بیشتر ممالک پر جوابی ٹیرف 90روز کیلئے معطل کرنے کا اعلان کردیا۔یورپی یونین نے بھی امریکی صدر کےاقدام کے بعد امریکی مصنوعات پر عائد 25فیصد ڈیوٹی واپس لینے کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک تقریب میں ٹیرف کے معاملے پر امریکا سے بات چیت کے خواہاں ممالک کے حوالے سے تضحیک آمیز انداز اختیار کیا۔نیشنل ری پبلکن کانگریشنل کمیٹی کے عشائیے سے خطاب میںٹرمپ نے تضحیک آمیز جملہ استعمال کیا اور کہا کہ دوسرے ملک ٹیرف پر ڈیل کرنے کے لیے مرے جارہے ہیںٹرمپ نے کہا کہ ممالک فون پر فون کررہے ہیں کہ مہربانی کریں، ہم سب کچھ کرنے کو تیار ہیں۔امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان سے پہلے کے صدور یا تو نا اہل تھے یا بے وقوف تھے۔ٹرمپ کے مطابق جان بوجھ کر سٹاک مارکیٹ میں اتارچڑھاؤ پیدا نہیں کیا۔ امریکا کی گزشتہ بے وقوف قیادت کو دنیا نے بری طرح استعمال کیا، ٹیرف سے اربوں ڈالر امریکا لارہے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ سٹاک مارکیٹ کے مستقبل سے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا، چین کے ساتھ تجارتی خسارہ حل کئے بغیر مذاکرات نہیں ہو سکتے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی دوسری صدارتی مدت کے پہلے ڈھائی ماہ میں معاشی پالیسیوں کے حوالے سے کئی بڑے فیصلے کیے، جن میں سخت ٹیرف، ٹیکس کٹوتیوں کی تجدید، اور ضابطوں میں نرمی شامل ہیں۔ اگرچہ ان اقدامات پر تنقید بھی ہوئی، لیکن ماہرین اور کچھ معتبر ذرائع کے مطابق ان پالیسیوں کے کئی مثبت اثرات بھی سامنے آئے ہیں اور منفی بھی۔ وال اسٹریٹ کے سروے کے مطابق بہت سے لوگ جو ٹرمپ کے معاشی وعدوں کی حمایت کرتے تھے اب اس سے کنارہ کش ہو گئے ہیں اور اکثریت صدر کی معاشی پالیسیوں سے ناپسندیدگی کا اظہار کرتی ہے۔ سروے کے مطابق وال اسٹریٹ کے 50 بڑے رہنماؤں میں سے 72 فیصد نے ٹرمپ کے معاشی منصوبے کو غیر مؤثر قرار دیا، اور 66 فیصد ان کی پالیسیوں کی حمایت نہیں کرتے۔ جنوری میں ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں کی حمایت کرنے والوں میں سے ایک تہائی سے زیادہ اب ان سے دستبردار ہو گئے ہیں، اور 54 فیصد کا کہنا ہے کہ وہ اپنے منصوبے کے نفاذ میں ناکام ہو رہے ہیں۔بلومبرگ کے مطابق، دنیا کے 500 امیر ترین افرادکو ٹرمپ کے ٹیرف کے اعلان کے بعد مجموعی طور پر 208 ارب ڈالرکا نقصان ہوا ،ایلون مسک 11 ارب ،جیف بیزوس 15.9 ارب اور مارک زکر برگ 17.9 ارب ڈالر سے محروم،ٹیسلا کے حصص 5.5 فیصد ،ایمیزون کے 9 فیصد اور میٹا شیئرز میں بھی تقریباً 28 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔ڈونلڈ ٹرمپ کے محصولات کے نفاذ کے دوسرے روز ایلون مسک کو 11 ارب ڈالر کا نقصان ہوا دنیا کے 500 امیر ترین افرادکو ٹرمپ کے ٹیرف کے اعلان کے بعد مجموعی طور پر 208 ارب ڈالرکا نقصان ہوا۔معاشی تجزیہ کار زکریا کارابیل اسے خود ساختہ بحران قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ پالیسیاں امریکی عوام کے لیے بلند قیمتیں، نوکریوں کا نقصان، اور ممکنہ طور پر کساد بازاری لائیں گی۔وہ ٹرمپ کے ٹیرف کوجادوئی سوچ کہتے ہیں۔جس کے لیے نہ کوئی منصوبہ، نہ تیاری، اور نہ ہی عوام کی حمایت ہے۔ اس کےنتیجے میں روزمرہ کی اشیا کی قیمتیں بڑھیں گی، اور امریکی صارفین کی جیبوں پر بوجھ پڑے گا۔ ٹرمپ کے 75 دنوں نے امریکی شہریوں کے لیے مہنگائی، بے روزگاری، اور معاشی غیر یقینی کی صورتحال لائی، جبکہ عالمی سطح پر تجارت اور تعلقات کو نقصان پہنچا۔ انہوں نے آزادی کا دن کا وعدہ کیا، لیکن ماہرین اسے معاشی تباہی کا آغاز کہتے ہیں۔ امریکی عوام اب مہنگی زندگی اور کم آمدنی سے لڑ رہے ہیں، اور دنیا ایک نئے بحران کی طرف بڑھ رہی ہے۔
دوسری جانب ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ کامیاب ہوئی تو نہ صرف معیشت مضبوط ہوگی بلکہ امریکہ اپنی صنعتی عظمت دوبارہ حاصل کر لے گا۔ کیا یہ واقعی ایک بہتر دورکا آغاز ہوگا ٹرمپ کے ٹیرف نے غیر ملکی کمپنیوں کو امریکہ میں سرمایہ کاری کے لیے مجبور کیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جو ممالک امریکی مصنوعات پر زیادہ ٹیکس لگائیں گے، انہیں بھی اسی طرح کے ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس سے ملٹی نیشنل کمپنیوں نے امریکی فیکٹریوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری شروع کی، خاص طور پر آٹو موٹیو اور اسٹیل کے شعبوں میں۔ عالمی کمپنیوں نے اپنی سپلائی چینز کو امریکہ منتقل کرنا شروع کیا، جس سے امریکی معیشت کو فائدہ ہوا۔ ٹرمپ کی امریکا پہلےپالیسی نے مینوفیکچرنگ سیکٹر میں نئی نوکریاں پیدا کیں۔ انہوں نے مقامی پیداوار کو فروغ دینے کے لیے کمپنیوں کو مراعات دیں۔ فروری 2025 تک، مینوفیکچرنگ میں 50 ہزار نئی نوکریاں پیدا ہوئیں، جو کہ گزشتہ تین سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔ امریکی ملازمتوں کی واپسی سے دیگر ممالک میں لیبر مارکیٹ پر دباؤ کم ہوا۔ ٹرمپ نے تیل اور گیس کی پیداوار بڑھانے کے لیے نئے اجازت نامے جاری کیے، جس سے توانائی کے اخراجات کم ہوئے۔ تیل کی عالمی قیمتیں مستحکم ہوئیں، جو ترقی پذیر ممالک کے لیے اچھا رہا۔کرنسی ہیر پھیر اور 200 ارب ڈالر کے ویلیو ایڈڈ ٹیکس بوجھ کو کم کر کے امریکی کمپنیوں کو سہارا دیا جا رہا ہے۔ ادویات، سیمی کنڈکٹرز، اور توانائی جیسے شعبوں کو مستثنیٰ رکھ کر ملکی ضروریات کو ترجیح دی گئی ہے۔
امریکی صدر کے گزشتہ روز کےیو ٹرن، جس میں انہوں نے پاکستان سمیت دیگر ممالک پر ٹیرف کو 90 دنوں کے لیے معطل کیا ،کے بعد امریکی اسٹاک مارکیٹس میں زبردست تیزی ہوئی جبکہ تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر پانچ فیصد اضافہ ہوا ۔ سونے کی عالمی قیمت میں 3.74فیصد اضافے کے بعد فی اونس سونے کی قیمت 3ہزار 101ڈالر فی اونس ہوگئی۔
ماہرین کے مطابق یہ مہلت عالمی معیشت کو کچھ استحکام دے سکتی ہے، لیکن چین کے ساتھ تناؤ بڑھنے سے طویل مدتی خطرات موجود ہیں۔جس کا اثر امریکہ سمیت دنیا کی معیشت پر بھی پڑے گا ۔ اس لیے پاکستان نے نئے ٹیرف سے متعلق مذاکرات کے لیے اعلیٰ سطح وفد امریکا بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفد امریکا کے ساتھ تجارتی تعلقات کے فروغ اور نئے ٹیرف پر بات کرے گا لیکن پاکستان کو اس کے علاوہ بھی مارکیٹ تلاش کرنا ہوں گی اور امریکہ کے بغیر تجارت اور امریکہ کے ساتھ تجارت کے پہلووں پر غور کرنا ہوگا ۔ چین کے ساتھ فری ٹریڈ ،روس کے ساتھ مزید شراکت داری سمیت ترکی اور یورپی مارکیٹس پر توجہ دینا ہو گی ۔اپنی برآمدات کو عروج پر لے جانے کا یہ ہی درست وقت ہے ۔
One Comment
جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔




ٹرمپ کے حالیہمعاشی اقدامات کے حوالے سے ایک اچھا کالم