انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزا

ٹرمپ کی دہشت گردی اورامریکی عوام کا احتجاج

تحریر: محمد قیصر چوہان

دہشت گردریاست امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدامات نے پوری دنیا کا امن خطرے سے دوچار کردیا ہے۔ ان کے دورِ اقتدار میں غزہ پر اسرائیل نے بدترین بمباری کرکے پورے غزہ کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کردیا، ہزاروں بے گناہ نہتے مردو خواتین، بزرگ بچے اور جوان بے دردی سے قتل کردیے گئے، لاکھوں افراد بے گھر ہوکر آج کیمپوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں امریکی صدر نے وینزویلا پر شب خون مارا، وینزویلا میں قائم حکومت ختم کردی اور صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے امریکا میں قید کر دیا گیا ہےجبکہ تیل کی رسد روکے جانے کی وجہ سے کیوبا میں انسانی صورتحال دگرگوں ہوگئی ہے۔

کیوبا کے عوام کو ایندھن کے بدترین بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کی جہ سے یہاں توانائی کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں اور ایندھن کی قلت کے نتیجے میں سنگین انسانی بحران پیدا ہورہاہے ایران سے پرامن مذاکرات کے دوران اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کیا گیا، ایران کے ایک سکول پر حملہ کر کے ڈیڑھ سو سے زائد معصوم بچوں کو موت کی نیند سلادیا گیا، حتیٰ کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای تک کو شہید کردیا۔ متعدد ممالک کی آزادی اور خود مختاری کو پامال کرنے کے ساتھ ساتھ امریکی صدر نے اسرائیل کو بھی کھلی چھوٹ دے دی ہے کہ وہ کسی بھی آزاد و خود مختار ملک کی سالمیت کو جب چاہے پامال کردے۔

20 جنوری2017 کے روزپہلی بار صدارتی عہدے کا حلف اٹھانے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسلمانوں کو دہشت گرد ثابت کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔ اپنے پہلے ہی صدارتی خطاب میں انہوں نے مسلمانوں کے خلاف تنگ نظری کا اظہار کرتے ہوئے مسلم دنیا کو ”ٹف ٹائم” دینے کا اشارہ دے دیا تھا۔ٹرمپ نے اقتدار سنبھالتے ہی مسلم دنیا کو آڑے ہاتھوں لیا اور آئے دن مسلم مخالف بیانات دینے شروع کردیئے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتہا پسندی اس وقت اپنی حدوں کو پہنچی جب انہوں نے تنگ نظری کامظاہرہ کرتے ہوئے 27 جنوری 2017 کو متعدد مسلم ممالک سے آنے والے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی کا اعلان یہ کہتے ہوئے کیا کہ وہ اب دہشت گردوں کو مزید امریکا میں برداشت نہیں کر سکتے۔

یہ مسلم دنیا کیلئے ایک اذیت ناک فیصلہ تھا کیوں کہ اس کا براہ راست اثر امریکی مسلمانوں پر بہت پڑا اور انہیں دہشت گرد کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا۔ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد امریکی مسلمانوں اور تارکین وطن کے خلاف دشمنی کی ایک لہر چل پڑی۔ امریکی صدر نے ہر موقعے پر مسلمانوں کو اپنی تنگ نظری کا نشانہ بنایا اور آئے دن مسلم مخالف پالیسیوں کا اعلان کیا۔ مسلمان اس وقت ہکا بکا رہ گئے جب ٹرمپ نے 7 دسمبر کو مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے نے مسلم دنیا کو ایک صفحے پر لا کر تو کھڑا کردیا تھا جس کے خلاف اقوام متحدہ میں قرارداد پیش کی گئی جس کے حق میں 128 ووٹ اور مخالفت میں صرف 8 ووٹ آئے۔ اس سے امریکی صدر ششدر ہوگئے اور مسلمانوں کے خلاف اپنی تنگ نظری کو مزید وسعت دی۔

ٹرمپ کے صدر بننے سے لیکر آج دن تک مسلمان پچیس ہزار سے زائد مرتبہ نفرت آمیز جرائم کا نشانہ بنے، جن میں حجاب پہنی خواتین اور داڑھی والے مسلمان متاثرین میں سرفہرست ہیں۔ اس کے علاوہ مساجد اور مسلم سکولز پر بھی بارہا انتہاءپسندوں کی طرف سے دھاوا بولا گیا۔دراصل 9/11 کے بعد جس طرح دہشت گردی کو مسلمانوں کے ساتھ جوڑ دیا گیا، اس سے کوئی بشر ناواقف نہیں۔ لیکن ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ کرنے والے کوئی اور نہیں بلکہ امریکا کی خود کی ہی پیداوار تھے جنہیں امریکا نے پاکستان کے ساتھ مل کر افغانستان پر حملہ آور سوویت فوج سے لڑنے کیلئے تربیت دی۔

وقت ضرورت پر تو امریکا نے ان کو جہادی کا نام دیا کیونکہ یہ اس وقت امریکا کے مفاد کیلئے کام کر رہے تھے لیکن جوں ہی مفاد پورا ہوا، امریکا نے ان جہادیوں سے آنکھیں پھیر لیں اور انہیں نظرانداز کرنا شروع کردیااور پھر انہیں دہشتگرد قرار دے دیا۔پھر اسی کے نتیجے میں جب ان خودساختہ جہادیوں کو امریکا سے بدلہ لینے کا کوئی اور راستہ نہ ملا تو 11 ستمبر 2001 کو دن کی روشنی میں رات والے تارے تب دکھائے جب دو طیارے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی بلند و بالا عمارتوں سے ٹکرادیئے گئے، اور جس میں امریکا کو بھاری جانی و مالی نقصان ا ٹھانا پڑا جس سے کوئی ناواقف نہیں۔ اس حملے کی ذمہ داری امریکی حکومت نے بلاواسطہ ان جہادیوں یعنی طالبان پر ڈال دی اور القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی کھوج شروع کردی۔

اس سلسلے میں امریکا نے بارہا پاکستان اور افغانستان سے مدد مانگی لیکن جب کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہ نکلا تو امریکی خفیہ ایجنسیوں نے 2 مئی 2011 کو ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی رہائش گاہ پر دھاوا بول دیا جس میں اسامہ بن لادن جاں بحق ہوگیا اور اس بات کی تصدیق ٹھیک 6 مئی کو طالبان نے بھی کردی، جس میں تحریک طالبان پاکستان بھی شامل تھی۔9/11 کے بعد اب تک امریکا میں جس نے بھی اقتدار سنبھالا، ان میں سے ایک نے بھی آج تک مسلمانوں کو اس واقعے کا بلاواسطہ ذمہ دار نہیں قرار دیا۔اس وقت اقوامِ عالم آشوب چشم میں مبتلا ہیں کیونکہ دنیا نے اسلام اور دہشت گردی کو بالعموم ایک ہی نام دے دیا ہے۔ غزہ ، شام اور لبنان میں مسلمانوں کا قتل عام نے ثابت کر دیا ہے کہ اصل دہشت گرد امریکا اور اسرائیل ہیں۔
طاقت کے زور پر کمزور ممالک پر حملے کی روش نے ثابت کردیا ہے کہ امریکی صدر کو دنیا میں امن کے قیام سے کوئی سروکار نہیں امریکی صدر کو صرف اسرائیل کے دفاع اور سلامتی سے دلچسپی ہے اور اس کے لیے وہ کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔ امریکی صدر کی انہی پالیسیوں کی وجہ سے امریکا بھر میں ستر لاکھ سے زائد عوام نے سڑکوں پر نکل کر سخت احتجاج کیا ہے۔ مظاہرین نے ٹرمپ کو آمرانہ رجحانات کا حامل اور قانون کا پامال کرنے کا ذمے دار قرار دیا۔ ایک سال میں یہ تیسرا موقع ہے کہ امریکی عوام نے لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر نکل کر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنے عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

مظاہرین نے جنگ کے خاتمے اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی جبکہ منتظمین کے مطابق ملک کی 50 ریاستوں میں 3 ہزار سے زائد مقامات پر مظاہرے کیے گئے۔ ٹرمپ نے انتخابات میں وعدہ کیا تھا کہ وہ جنگوں پر امریکی عوام کے ٹیکس کا پیسہ ضائع نہیں کریں گے مگر اس کے برعکس انہوں نے ایران کے خلاف جنگ چھیڑ دی۔امریکا کے مختلف شہروں میں جنگ، معیشت اور امیگریشن پالیسیوں کے خلاف لاکھوں افراد کے مظاہرے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر عدم اعتماد کا مظہر ہیں، اتنی بڑی تعداد میں امریکا کے مختلف شہروں میں ہونے والے مظاہرے اس امر کی کھلی دلیل ہیں کہ امریکی عوام ٹرمپ کی موجودہ داخلہ اور خارجہ پالیسی سے نالاں ہیں، اس سے قبل ایک امریکی نیوز چینل کی طرف سے ٹرمپ کی کارکردگی کے حوالے سے سروے بھی جاری کیا گیا تھا جس کے مطابق صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں بڑی کمی دیکھی گئی ہے۔

سروے کے مطابق ٹرمپ کی کارکردگی کو اکثریت نے مسترد کردیا جبکہ 59 فی صد ٹرمپ کی کارکردگی سے غیر مطمئن ہیں، علاوہ ازیں مہنگائی پر ٹرمپ کی کارکردگی کو 71 فی صد عوام نے مسترد کیا جبکہ معیشت پر بھی ٹرمپ کو دھچکا لگا، 66 فی صد عوام نے ناپسندیدگی ظاہر کی۔ خارجہ پالیسی پر ٹرمپ کو 62 فی صد عوام کی مخالفت کا سامنا رہا جبکہ ایران پالیسی پر بھی عوام ٹرمپ سے مطمئن نہیں ہیں اور 64 فی صد نے ایران جنگ کے حوالے سے ٹرمپ کی کارکردگی مسترد کر دی۔ امریکا میں ٹرمپ کے خلاف تواتر سے ہونے والے مظاہرے اس امر کا آئینہ دار ہیں کہ امریکی صدر اپنی غلط پالیسیوں بالخصوص اسرائیلی ایما پر جو جنگی اقدامات کر رہے ہیں اس کی وجہ سے ان کی مقبولیت میں تیزی سے کمی واقع ہورہی ہے اور اگر یہی صورتحال برقرار رکھی تو نہ صرف یہ کہ مڈ ٹرم بلکہ اگلے الیکشن میں بھی نقصان اٹھا سکتے ہیں۔ امریکی صدر کی موجودہ پالیسیوں کے نتیجے میں نہ صرف امریکا کے عوام سراپا احتجاج ہیں بلکہ اس کے نتیجے میں امریکا کی عالمی ساکھ بھی بری طرح مجروح ہوئی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button