پاکستانتازہ ترینجرم-وسزا

قومی خزانے پر بوجھ واسا 

تحریر فیصل درانی

 ملکی قانون قاعدے اور ضابطوں کا اطلاق صرف کمزور بے بس لاچار عوام کے لیے ہے جبکہ طاقتوروں کے لیے یہ سب ٹھوکروں کی زد پر ہے۔ بے بس لاچار معمولی سرکاری ملازم کے خلاف معمولی سی غلطی پر بھی بڑی سے بڑی سزا دیتے ہوئے طاقت  کے نشے میں چور بیوروکریسی کے سرخیل ذرا بھر نہیں سوچتے جبکہ اعلی عہدوں پر تعینات افسران اگر پورا ملک بھی لوٹ لیں تو سرخیلوں کی انکھیں کاروائی کرتے ہوئے چندھیا جاتی ہیں۔
 ایسے ہی ایک سٹوری میرے پاس بھی ہے جس میں وزیراعلی پنجاب مریم نواز کے شہر لاہور میں واسا کے مینجنگ ڈائریکٹر غفران احمد تمام تر مبینہ بے ضابطیوں کے باوجود اسی شہر میں دندناتے پھرتے نظر آتے ہیں ۔کہانی کچھ اس طرح ہے کہ 13 جنوری 2026 کو سات ماہ قبل محکمہ سروسز جنرل ایڈمنسٹریشن کی سیکشن افسر آمنہ  یعقوب نے احتساب بیورو کی جانب سے 31 دسمبر 2025 کو لکھے گئے خط کے حوالے سے چیئرمین وزیراعلی معائنہ ٹیم کو لکھتی ہیں کہ مجاز اتھارٹی واسا میں ہونے والی بےضابطگیوں اور بدعنوانیوں پر پروب انکوائری چاہتی ہیں۔
 سیکشن افسر کی جانب سے چیئرمین سی ایم ائی ٹی کو لکھا جاتا ہے کہ اس انکوائری کی ایک ماہ کے اندر رپورٹ بھجوائی جائے۔  چیئرمین سی ایم ائی ٹی کو مجاز اتھارٹی کی جانب سے لیٹر ملنے کے بعد وزیراعلی معائنہ ٹیم کے ممبر سعد محمد صادق سیکرٹری ہاوسنگ سے مینجنگ ڈائریکٹر واسا غفران احمد  پر لگائے گئے الزامات کے دو روز میں دستاویزی ثبوت طلب کرتے ہیں۔
 اس خط کے مطابق مینجنگ ڈائریکٹر واسا پر مختلف نوعیت کے چار الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ پہلا الزام ہے کہ واسا کے مختلف ڈویژنز میں تین ہزار ورک چارج ملازم رکھے گئے جس میں سے پندرہ سو ملازم بوگس اور گھوسٹ  تھے۔
 دوسرا الزام ہے کہ ان  بوگس ملازمین کو چالیس ہزار ماہانہ کے حساب سے تنخواہ دی گئی جو تقریبا چھ کروڑ روپیہ بنتی ہے۔ تیسرا الزام ہے کہ یہ ملازمتیں ذاتی فوائد, خواہش اور چہتوں کو نوازی گئیں۔
 چوتھا الزام ہے کہ جو ورک چارج ملازم رکھے گئے وہ واسا کے اعلی افسران اور کابینہ ممبران کے ذاتی فارم ہاؤسز اور مویشی فارمز پر  اپنی خدمات سر انجام دیتے رہے۔
 دیکھنا ہے کہ محکمہ ہاوسنگ اور واسا کے اعلی حکام کی وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کی حکومت میں یہ مجرمانہ اور معنی خیز خاموشی کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا۔ اب ذکر کرتے ہیں واسا کے موجودہ ایم ڈی کے زیر انتظام لاہور کے تمام ڈویژنز کی  جہاں ائے دن شہری شکایات، مالی بے ضابطگیوں اور نگرانی کے نظام پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
لاہور شہر میں پانی اور سیوریج کا نظام چلانے والے ادارے واسا لاہور کی کارکردگی عوام کے سوالات کی زد میں ہے۔ شہریوں کی جانب سے بلنگ، پانی کی فراہمی، سیوریج اور شکایات کے ازالے سے متعلق مسائل سامنے آتے رہے ہیں، جبکہ سرکاری ریکارڈ میں بھی مختلف ادوار میں مالی اور انتظامی معاملات پر آڈٹ اعتراضات موجود رہے ہیں۔
پنجاب محتسب کے مطابق واسا کے خلاف شہریوں کی شکایات میں زائد یا غلط بلنگ، غیر ضروری چارجز، ٹیرف ایڈجسٹمنٹ، پانی کے کنکشن اور میٹرز کی تنصیب یا بحالی میں تاخیر جیسے معاملات شامل رہے۔ ایک مرحلے میں 20 شکایات پر کارروائی کے نتیجے میں شہریوں کو مجموعی طور پر 85 لاکھ 12 ہزار روپے سے زائد کا مالی ریلیف فراہم کیا گیا۔
دوسری جانب واسا لاہور کی جانب سے جون 2026 میں ایک ماہ کا بل بقایا ہونے پر بھی بعض صارفین کو بل کے ساتھ ایف آئی آر کی وارننگ دینے کی خبر سامنے آئی، جس پر شہریوں نے اس طریقہ کار کو سخت اور غیر متناسب قرار دیا۔ آڈیٹر جنرل پاکستان کی ایک خصوصی آڈٹ رپورٹ میں واسا لاہور کے معاملات میں اندرونی کنٹرولز اور انکوائری نظام سے متعلق سنگین سوالات اٹھائے گئے تھے۔ رپورٹ میں متعدد انکوائری کیسز کے طویل عرصے تک زیر التوا رہنے کی نشاندہی کی گئی اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی سفارش بھی کی گئی۔
اگرچہ یہ اعتراضات پرانے آڈٹ دور سے متعلق ہیں، تاہم یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ ادارے کے اندر احتساب اور نگرانی کے نظام کو وقت کے ساتھ کس حد تک مؤثر بنایا گیا۔
پانی کے معیار اور سیوریج کا مسئلہ
لاہور میں پانی کی آلودگی اور سیوریج لائنوں سے متعلق شکایات بھی مسلسل سامنے آتی رہی ہیں۔ اپریل 2026 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں گرین ٹاؤن اور جوہر ٹاؤن کے رہائشیوں کی جانب سے آلودہ پانی کی شکایات سامنے آئیں۔ پنجاب واسا کے ڈائریکٹر جنرل نے بھی فیلڈ رپورٹس کی آزادانہ جانچ کے لیے تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن میکانزم کی ضرورت تسلیم کی۔ اب یہ معاملہ اس لیے اہم ہے کہ اگر فیلڈ میں صورتحال مختلف ہو اور کاغذی رپورٹ میں ’’سب ٹھیک‘‘ دکھایا جائے تو شہریوں کی شکایات اور سرکاری ریکارڈ کے درمیان فرق پیدا ہو جاتا ہے۔
ترقیاتی کام اور ٹھیکوں کی نگرانی
واسا لاہور کے سرکاری ٹینڈر ریکارڈ میں مختلف منصوبوں کے لیے کنسلٹنسی، تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن، ڈرینج اور سیوریج کے منصوبوں سے متعلق متعدد رپورٹس موجود ہیں۔ ادارے نے 2019-20 سے 2023-24 تک پانچ مالی سالوں کے بیرونی آڈٹ کے لیے بھی چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ فرم کی خدمات حاصل کرنے کا عمل کیا۔ یہ اقدامات نگرانی بہتر بنانے کی کوشش ضرور ظاہر کرتے ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ آڈٹ اور تھرڈ پارٹی رپورٹس میں سامنے آنے والی خامیوں پر عملی کارروائی کتنی تیزی سے ہوتی ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ جواب دہ کون؟
واسا لاہور کی ویب سائٹ پر شہریوں کے لیے شکایات درج کرانے کا نظام اور 1334 مرکزی شکایتی نمبر موجود ہے۔
مسئلہ صرف شکایت درج ہونے کا نہیں بلکہ اس کے نتیجے میں ہونے والی کارروائی کا ہے۔ شہریوں کو یہ جاننے کا حق ہے کہ شکایت کب درج ہوئی، ذمہ دار افسر کون تھا، مسئلہ کب حل کیا گیا اور اگر غفلت ثابت ہوئی تو ذمہ دار کے خلاف کیا کارروائی ہوئی۔
واسا لاہور میں شفافیت، بلنگ کے نظام، پانی کے معیار، سیوریج کی دیکھ بھال، ترقیاتی منصوبوں اور افسران کی جواب دہی سے متعلق سوالات کا جامع جواب ہی اس ادارے پر عوام کا اعتماد بحال کر سکتا۔  باوثوق ذرائع کے مطابق واسا ایک سفید ہاتھی بن چکا ہے جس میں تعینات مختلف افسران و اہلکاران کی وجہ سے عوام شدید پریشانی کا شکار ہیں جن کو دن دہاڑے واسا اہلکاروں کی جانب سے لوٹا جا رہا ہے اور ان کی شکایات پر افسران بجائے کاروائی کرنے کے شکایت کنندہ کے خلاف ہی ایف ائی ار درج کروا دیتے ہیں جو حکومت کی بدنامی کا باعث بن رہا ہے  اور اعلی حکام خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں۔
Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button