بھارت نے گزشتہ دو ہفتوں سے پاکستان کے خلاف جنگ کی جو فضا قائم کی تھی اس کا راستہ اس نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی سے ڈھونڈا تھا۔ لہذا دریائے جہلم اور دریائے چناب میں پانی کے دو ریلے چھوڑ کر اس نے آبی دہشت گردی کی ابتدا کی مگر یہ سب کو پتہ تھا کہ بات یہیں پر ختم نہیں ہوگی اور پھر ایسا ہی ہوا منگل اور بدھ کی درمیانی شب جب بھارت نے پاکستان پر میزائل داغے تو ایسا نہیں کہ اسے روکنے والا کوئی نہیں تھا لیکن ایک بات سمجھنا بہت ضروری ہے کہ میزائل اپنی سرحد کے اندر 40 ـ 50 ـ 60 کلومیٹر پیچھے سے داغے جاتے ہیں اور جب ایک جدید میزائل داغا جائے تو یہ سوچنا کہ اس کا راستہ روکا جا سکتا ہے یہ پاکستان اور بھارت جیسے دو پڑوسی ملکوں کے درمیان تقریبا ناممکن ہے۔
پاکستان سے آنے والے میزائلوں کو گرانے کیلئے بھارت نے چند سال پہلے میزائل شیلڈ حاصل کرنے کی بات کی اور اسرائیل کی طرح ایک ” میزائل ڈوم ” بنانے کی تیاریاں شروع کیں تو اس وقت ڈاکٹر ثمر مبارک مند سے بات کی تھی ان کا یہ کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے پاس انتہائی جدید میزائل ہیں جو کہ بہت تیز رفتار ہیں اور ان دونوں ملکوں کی سرحد اس قدر قریب ہے کہ جب انہیں داغا جائے گا تو ان کا نشانے پر پہنچنے سے پہلے تباہ کیا جانا تقریبا ناممکن ہے ۔
آج سے چار سال پہلے بھارت کی طرف سے پھینکے گئے ( ان کے مطابق نا دانستہ طور پر ) براہموس میزائل کے پاکستان میں گرنے سے سمجھ داروں کو سمجھ آگئی تھی کیونکہ سمجھ دار کو اشارہ کافی ہوتا ہے۔ ہمارے حکمرانوں کو بھی اس وقت سمجھ آگئی تھی سب کو پتہ تھا کہ یہ میزائل جان بوجھ کر پھینکا گیا تھا۔ رات کو جب بھارت نے ” میزائل وار ” شروع کی تو اس کا جواب وہی تھا جو اس کو ملنا تھا اور وہ دیا گیا بھارت نے پاکستان پر اپنی ” فضائی برتری ” کے بل بوتے پر اچانک حملہ کر کے چھا جانے کا جو پروگرام بنایا تھا وہ ناکام ہو گیا۔
بھارت کے 80 سے زائد طیاروں نے میزائل داغ تو دئیے مگر ہمارے شاہینوں نے اس کی ساری ہیکڑی اس کی اپنی فضاؤں میں نکال دی اور ایسا بھارت کی فضائی حدود میں داخل ہوئے بغیر کیا۔ بھارت نے اپنے تقریبا 170 جدید ترین جنگی طیارے پاکستانی سرحد کے قریب تقریبا درجن بھر ہوائی اڈوں پر جمع کر رکھے تھے جس کی وجہ سے پاکستان پہلے ہی محتاط ہو چکا تھا اور پھر جب ان طیاروں نے اڑان بھرنے کی غلطی کی تو پھر نہ بچا رافیل ، نہ سخوئی اور نہ مگ 29۔ پاکستانی شاہینوں نے 3 رافیل ایک سخوئی اور ایک مگ 29 بمشکل دو گھنٹوں میں گرا ڈالے۔
یاد رہے مگ 29 پچھلی دہائی کے آخری عشرے میں روس کا ایک جدید جنگی طیارہ تھا جو آج بھی بہت کار آمد ہے۔ سخوئی اس سے زیادہ جدید ترین طیاروں میں شامل ہے اور رافیل کے بارے میں تو کہا یہ جاتا ہے کہ یہ دنیا کا جدید ترین طیارہ ہے اور اس کا مقابلہ آسان نہیں ہے۔ لیکن مودی جی کو رافیل سے جو امیدیں وابستہ تھیں وہ سب برباد ہو گئیں۔
پاکستان کے شاہینوں نے ایک بار پھر 1965 اور 2019 فروری کی یاد تازہ کرا دی۔ آج مرحوم ایم ایم عالم یاد آرہے ہیں۔ شاید آج ہمارے بچوں کو یہ یاد بھی نہیں ہوگا کہ اس ” فضائی چیتے ” نے ایک منٹ میں پانچ بھارتی طیارے مار گرائے تھے۔ میں تو انہیں فضائی چیتا کہوں گا لیکن بڑی بدقسمتی ہے کہ چونکہ اس جانباز کا تعلق بچھڑے مشرقی پاکستان سے تھا۔ اس لیے اس کارنامے کو آنے والے دور میں بھلا دیا گیا۔
آج بھی افسوس ہو رہا ہے کہ جب ہر اینکر ٹی وی سکرین پر فضائیہ کی برتری کی بات کر رہا ہے تو شاید ہی کسی کو یاد ہو کہ ایم ایم عالم کون تھا۔ آج بھی ہمارے شاہینوں نے بھارت کے ساتھ وہی کیا جو وہ ہر مقابلے میں کرتے آرہے ہیں۔ پاک فضائیہ کے شاہینوں نے اس بار بھی اپنی برتری ثابت کر کے زمینی فوج کو ایک مکمل سپورٹ فراہم کر دی ہے لیکن افسوس یہ ہے ابھی تک کہ ہم نے نیلم جہلم ہائیڈرو پراجیکٹ کو پہنچنے والے نقصان کے بدلے میں ہم نے بگلیہار ، کشن گنگا اور رتلے ڈیم کو کیوں بخشا ہوا ہے ۔
بھارت ہمارے مدرسوں اور وہاں زیر تعلیم بچوں کو دہشت گرد قرار دے کر نشانہ بنایا ہے۔ تو کیا ہم بھارتی انتہا پسند تنظیموں جن سنگھ اور راشٹریہ سیوک سنگھ کے درندوں کو بھول گئے۔ وہ بھی تو اپنے مندروں کے اندر بیٹھ کے مسلمانوں کے قتل عام کی پلاننگ کرتے ہیں۔ جب ہمارے مدرسے ، ہماری مسجدیں نشانہ بن سکتی ہیں تو ان کے مندر کیوں نشانہ نہیں بن سکتے ہیں۔ بہرحال یہ فیصلے حکومتوں کے کرنے کے ہیں۔ بھارت کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستانی فوج ، پاکستانی اسلحہ بے شک تعداد میں ان سے کم ہے لیکن میزائل ان سے کم نہیں ہیں۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان ، ڈاکٹر ثمر مبارک مند اور دیگر پاکستانی سائنسدانوں نے اس قوم کو جو میزائلوں کے تحفے دیے ہیں وہ اتنے طاقتور ہیں کہ انڈیا کیلئے ان کا مقابلہ کرنا مشکل ہے۔
ہمارے غوری ، غزنوی ، شاہین ، ابدالی ، رعد ، بابر ، نصر ، حتف ، ابابیل وہ میزائل ہیں جو جب اڑان بھرتے ہیں تو پھر نشانے پہ پہنچ کے رہتے ہیں۔ بھارت کا کوئی شہر ان میزائلوں کی پہنچ سے باہر نہیں ہے۔ بھارت کا آخری بحری اڈا جو کہ اس نے جزائر انڈمان میں بنایا ہے وہ بھی ان کی ہدف میں ہے۔ کوئی شک نہیں بھارت کے پاس بھی پرتھوی ، اگنی ، براہموس ، نربھے ، دھنوش میزائل ہیں اور اب تو ہائپر سونک میزائل بھی انہوں نے بنا لیا ہے۔
لیکن بات جذبوں کی بھی ہے اور جذبے بھارت کو ” جنگ کی پہلی ہی رات ” نظر آگئے ہیں۔بھارت سے ایٹمی جنگ کا ارادہ نہ ہونا چاہیے نہ ہے۔ لیکن بھارت کو یاد رکھنا چاہیے کہ اگر وہ وقت آیا تو اس کے پاس بھی اتنے ہی ایٹمی ہتھیار ( بھارت 172 اور پاکستان 170 ایٹمی ہتھیار ) ہیں جتنے پاکستان کے پاس۔ ان ایٹمی ہتھیاروں کو بھارت کے کونے کونے تک پہنچانے کیلئے پاکستان کے پاس پہلے صرف ایف 16 تھا اور اس کے استعمال پر اس حوالے سے امریکہ نے خاصی پابندیاں لگائی ہوئی تھیں۔ لیکن اب پاکستانی میزائل جب پرواز کریں گے۔ تو پھر پورا بھارت نشانہ ہے۔ مانا ہم بھی نہیں بچیں گے لیکن بھارت بھی یاد رکھے کہ ہمارا ملک ہیروشیما اور ناگا ساکی بنا تو ان کا ملک ہم سے بھی ابتر حالت میں ہوگا۔ ان کے مرنے والوں اور متاثرہ کی تعداد ہم سے کئی گنا زیادہ ہوگی۔
بھارت ہمیں جس جنگ کی دھمکی دے رہا ہے وہ کوئی طویل جنگ ممکن نظر نہیں آتی کیونکہ ایسا ہوا تو انجام بہت خوفناک ہوگا۔ گلوبل فائر پاور ویب سائٹ کی طرف سے جاری پاکستان اور بھارت کی فوجوں کا تقابل دیکھیں تو ہماری فوج ” ہماری جسامت ” کے مطابق کم بھی نہیں ہے۔ بھارت دنیا کی پانچویں اور پاکستان بارہویں بڑی فوجی قوت ہے۔
بھارت کی زمینی افواج کی تعداد 14 لاکھ 55 ہزار اور پاکستان کی فوج کی تعداد 6 لاکھ 54 ہزار ہے۔ بھارت کی ریزرو فوج 11 لاکھ 55 ہزار اور پاکستان کی پانچ لاکھ 55 ہزار ہے ، بھارت کی پیرا ملٹری فورسز 25 لاکھ 27 ہزار اور پاکستان کی پانچ لاکھ ہیں۔ بھارت کا جنگی بجٹ 85 ارب ڈالر اور پاکستان کا تقریبا آٹھ ارب ڈالر ہے۔ بھارتی بحریہ ایک لاکھ 42 ہزار اور پاکستان کی بحریہ ایک لاکھ ہے۔
بھارتی فضائیہ کی تعداد 3 لاکھ 10 ہزار اور پاکستانی فضائیہ کی تعداد 78 ہزار ہے۔ بھارت کے پاس سخوئی ، ایس یو 30 ، رافیل ، مگ 29 ، مگ 21 اور بھارت ساختہ ” تیجاس ” ( جو آج تک فضاؤں میں نظر نہیں آئے ) اور دیگر طیارے ہیں۔ پاکستان کے پاس ایف 16 ، جے ایف 17 تھنڈر ، جے ایف 17 ( بلاک تھری ) ، جے ایس 10 ، میراج 7 اور دیگر طیارے بھی موجود ہیں۔
بھارت کے پاس 2229 جنگی جہاز ہیں جبکہ ہمارے پاس 1399 جنگی جہاز ہیں۔ جس میں بھارت کے پاس 513 فائٹر طیارے اور پاکستان کے پاس 328 فائٹر طیارے ہیں۔ بھارت کے پاس ہیلی کاپٹرز کی تعداد 899 ہے پاکستان کے پاس یہ تعداد 373 ہے۔
بھارتی فضائیہ کے پاس 311 اور پاک فضائیہ کے پاس 116 ہوائی اڈے ہیں۔ پاکستان کے حجم کے مطابق یہ تعداد کوئی بری نہیں ہے۔ بات جنگی ساز و سامان سے زیادہ اس کے بہتر استعمال کی ہے۔ بری فوجی کے ساز و سامان میں پاکستان کے پاس 2627 ٹینک , بھارت کے پاس 4201 ٹینک ہیں۔ بھارت کے پاس 148594 بکتر بند گاڑیاں ہیں جبکہ پاکستان کے پاس 17516 بکتر بند گاڑیاں ہیں۔ بھارت کے پاس خود کار تو پیں 100 ہیں اور پاکستان کے پاس ان کی تعداد 662 ہے۔
کھینچ کر میدان جنگ میں لکھائی جانیوالی توپوں کی بھارت کے پاس تعداد 3975 اور پاکستان کے پاس 2629 ہے۔ بھارت کے پاس ملٹی بیرل راکٹ لانچرز 264 اور پاکستان کے پاس 600 ہیں۔ اب میدان جب سجے گا تو ہی پتہ چلے گا کہ کس کی فائر پاور زیادہ بہتر ہے۔
بھارتی بحریہ کے پاس کل 293 جہاز ہیں جبکہ اس کے برعکس پاکستان کے پاس یہ تعداد 121 ہے۔ بھارت کے پاس 18 آبدوزیں ہیں جن میں تین ایٹمی ایندھن سے چلنے والی ہیں۔ پاکستان کے پاس آبدوزوں کی تعداد آٹھ ہے جن میں آگسٹا 90 بی کی تعداد 3 اور اگسٹا 70 کی تعداد 2 ہے کاسموس کلاس کی تین چھوٹی آبدوزیں بھی ہیں جبکہ چین اس وقت پاکستان کیلئے آٹھ ہنگور کلاس آبدوزیں تیار کر رہا ہے۔
بھارت کے پاس 135 گشت کرنے والی کشتیاں ہیں جبکہ پاکستان کے پاس ان کی تعداد 69 ہے۔ بھارت کے پاس پاکستان کے پاس 14 افریقین سے بھارت کے پاس نو فری بھارت کے پاس 14 فریگیٹ ہیں پاکستان کے پاس انکی تعداد 9 ہے۔ بھارت کے پاس 18 کورویٹس اور پاکستان کے پاس 9 ہیں۔ بھارت کے پاس 13 ڈسٹرائر بھی ہیں پاکستان کے پاس کوئی ڈسٹرائر نہیں ہے۔ پاکستان کے پاس سرنگیں بچھانے والے تین جہاز بھی ہیں۔



