کچھ احباب کا خیال ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ مل بیٹھ کر حل ہو سکتا ہے اے پی سی کروا کے مسائل حل ہو سکتے ہیں بلوچ طلبا کو لیپ ٹاپ دے کر رام کیا جا سکتا ہے ناراض بلوچوں کو قومی دھارے میں لایا جا سکتا ہے میں اس خام خیالی سے متفق نہیں ہوں اب پانی سر سے گزر چکا ہے ۔
حالات بہت بدل چکے ہیں بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ بلوچوں کے دکھوں کا مدوا کرنا بھی چاہیں وہ انکار کر دیں گے لگتا ہے جسے انہوں نے اپنے دکھوں کو اپنی طاقت بنا لیا ہے وہ کسی کے دھوکے میں آنے کو تیار نہیں اسلام آباد کی کسی بات پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں بلوچستان میں مزاحمت کی تاریخ بہت پرانی ہے 1839 خان محراب نے انگریز نوآبادکار کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تھا، قیام پاکستان کے بعد 1950 میں مولوی خیر محمد ندوی نے بلوچی ادبی تحریک شروع کی تھی ۔
بلوچ دانشور زوالفقار زلفی کے مطابق سال 2004 میں سر اٹھانے والی بلوچ مسلح جدوجہد اپنے آغاز کے وقت معمولی نوعیت کی تھی ـ اس کا دائرہ بھی ڈیرہ بگٹی، کوہستان مری اور جہلاوان کے چند علاقوں تک محدود تھا ـ
تحریک کے اہم ترین محرک نواب خیر بخش مری تھے مگر نواب اکبر خان بگٹی کی متاثر کن شخصیت، میڈیا ڈیلنگ اور گیس پائپ لائنوں پر حملوں کی وجہ سے نواب بگٹی کو ہی مرکز سمجھا جاتا رہا ـ نواب بگٹی غالباً مستقبل کو بھانپ گئے تھے اس لئے انہوں نے مکران پر سرمایہ کاری کی اور بار بار مکران کے بلوچوں سے تحریک کا حصہ بننے کی اپیل کی ـ
مکران میں غلام محمد بلوچ نے سیاسی اور واحد کمبر بلوچ نے مسلح محاذ سنبھال لیا ـ جہلاوان اور ساراوان میں نواب خیر بخش مری کے فکری ساتھیوں نے مسلح مزاحمت کو آگے بڑھانے کی کوششیں کیں ـ
اوائل میں نوآبادکار کی ساری توجہ نواب بگٹی پر مرکوز رہی بعد ازاں نواب بگٹی کے قتل نے معمولی نوعیت کی مسلح مزاحمت کو دو آتشہ کردیا ، قلات میں قومی جرگہ کو نواب خیر بخش مری نے مسترد کیا، نواب رئیسانی، نواب زہری، نواب مگسی، جام یوسف سمیت ڈیرہ غازی خان کے سرداربھی متحرک نظر آئے۔
2009کی پالیسی نے غلام محمد بلوچ اور کئی دوسروں کو نگل لیا،قتل و غارت گری کے ساتھ ساتھ مافیا اور سدھائے ہوئے سرداروں کو بے انتہا طاقت فراہم کی گئی ۔
سال 2016 کو بتدریج قومی تحریک کی قیادت طلبا تنظیموں کے سابق سربراہوں کے ہاتھ آگئی خواتین بھی پہلی بار نمائندہ قوت بن کر ابھریں ـ
عوامی سیاسی مزاحمت کو گزشتہ زمانے کی نسبت کئی گنا آگے بڑھا دیا گیا ہے ، اس ساری صورتحال میں کیا لگتا ہے کہ بلوچستان کی حکومت ایوان میں مسائل حل کرنے کی طاقت رکھتی ہے تو یوں لگتا ہے کہ بالکل نہیں بلوچستان کو بچانے کا ایک آخری موقع ہے کہ زیادہ سے زیادہ خود مختاری دی جائے ، شفاف الیکشن کے بعد عوامی امنگوں کے مطابق حکومت بنے اور اسلام آباد کے ساتھ ایک نیا عمرانی معاہدہ کیا جائے۔
نوٹ:سی این این اردوڈاٹ کام کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔



