پاکستانتازہ ترینکاروبار

تاجر برادری مانیٹری پالیسی سے غیر مطمئن :عاطف اکرام

شرح سود کو فوری طور پر سنگل ہندسوں پر لایا جائے:ثاقب فیاض مگوں

لاہور(بیوروچیف/سید ظہیر نقوی) صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے آگاہ کیا ہے کہ پاکستان کی کاروباری، صنعتی اور تاجر برادری ملک میں جا ری مانیٹری پالیسی سے غیر مطمئن ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بنیادی افراط زر کے مقابلے میں بھاری پریمیم پر مبنی ہے اور سٹیٹ بینک نے اپنی مانیٹری پالیسی کمیٹی کی آخری میٹنگ جو 27 جنوری کو ہو ئی تھی میں پالیسی ریٹ میں محض 100 بیسس پو ائنٹ کی ناکافی کمی کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے اس حقیقت پر زور دیا کہ ملک میں مہنگائی 9 سال کی کم ترین سطح تک گرچکی ہے۔حکومت کے اپنے اعدادوشمار کے مطابق مہنگائی کی شرح فروری 2025 میں 1.5 فیصد اور جنوری میں 2.4 فیصد رہی۔ لیکن اس کے باوجود پالیسی ریٹ کی شرح 12 فیصد پر موجود ہے جوکہ بنیادی افراط زر کے مقابلے میں 1050 بیسس پوائنٹس کے پریمیم کی عکاسی کرتی ہے۔

تمام صنعتوں اور شعبہ جات کے سٹیک ہو لڈرز کے ساتھ مشاورت اورفیڈریشن میں غور و خوض کے بعد ایف پی سی سی آئی مانیٹری پالیسی کو معقول بنانے کے لیے 10 مارچ کو ہونے والے MPC کے اجلاس میں فوری اور سنگل سٹروک 500 بیسس پوائنٹس کی کمی کا مطالبہ کرتی ہے اور مانیٹری پالیسی کو خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے وژن اور اقتصادی تر قی و برآمدات کے وزیر اعظم کے وژن کے مطابق بنایا جائے۔

سنیئر نائب صدر ایف پی سی سی آئی ثاقب فیاض مگوں نے تجویز پیش کی کہ شرح سود کو فوری طور پر سنگل ہندسوں پر لایا جائےتاکہ پاکستانی برآمد کنندگان کو کسی حد تک کاروبار کرنے کی لاگت کو بامعنی انداز میں کم کرکے علاقائی اور بین الاقوامی برآمدی منڈیوں میں مقابلہ کرنے کے قابل بنایا جاسکے اور یہ ا قدام صنعتوں کے لیے بجلی کے نرخوں کو معقول بنانے کے حکومتی وعدے کی تکمیل کے ساتھ ہونا چاہیے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button