انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

غاصبانہ عزائم بے نقاب: متعدد عرب ممالک پر مشتمل گریٹر اسرائیل کا نقشہ جاری: غزہ پر حملوں میں مزید 70فلسطینی شہید

اقدام دوسرے ممالک کی خود مختاری کی سنگین خلاف ورزی، فلسطین، سعودی عرب، قطر، اردن، متحدہ عرب امارات کی مذمت

تل ابیب، غزہ، پیرس ( ویب ڈیسک) اسرائیل کی صیہونی حکومت نے گریٹر اسرائیل کا نقشہ جاری کر دیا۔ صیہونی حکومت کی جانب سے جاری کئے نقشے میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے علاوہ اردن، شام، لبنان اور دیگر عرب ممالک کو صیہونی ریاست کا حصہ دکھایا گیا ہے۔ فلسطین، سعودی عرب، قطر، اردن، متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے نام نہاد تاریخی صیہونی ریاست کے متنازعہ نقشے کی مذمت کی ہے۔ سعودی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ایسے بے بنیاد اور انتہا پسند اقدامات اسرائیلی حکام کے غاصبانہ ارادوں کو ظاہر کرتے ہیں، ایسے اقدامات قبضے کو مستحکم کرنے، ریاستوں کی خودمختاری پر حملے اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کے ارادوں کا ظاہر کرتے ہیں، عالمی برادری خطے کے ممالک اور عوام پر جاری اسرائیلی خلاف ورزیوں کو روکنے کیلئے کردار ادا کرے۔ قطری وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام دوسرے ممالک کی خود مختاری کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق عرب ممالک نے گریٹر اسرائیل کے نقشے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل کو کسی بھی مہم جوئی اور جارحیت سے باز رہنے کیلئے خبردار کیا ہے۔ سعودی عرب کے وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں گریٹر اسرائیل نقشے کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے انتہا پسندانہ رویے کے باعث خطے کا امن اور سلامتی خطرے میں ہے۔
سعودی عرب نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل کو بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی خلاف ورزی سے روکا جائے۔ بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ خطے میں بحرانوں کے خاتمے کیلئے ریاستوں اور ان کی سرحدوں کی خودمختاری کا احترام کرنے کی ضرورت ہے۔ متحدہ عرب امارات نے بھی گریٹر اسرائیل نقشے کو مسترد کرتے ہوئے کہ کسی بھی خطے کی سالمیت اور سرحدی خلاف ورزی کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔ اسرائیل جارحیت سے باز رہے۔
فلسطین اور اردن نے بھی گریٹر اسرائیل نقشے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے غاصبانہ عزائم کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ دوسری طرف غزہ پر اسرائیلی بربریت جاری ہے، اسرائیلی فوج کے تازہ حملوں میں مزید 70سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے۔ دوسری جانب شمالی غزہ میں حماس کے حملے میں 3اسرائیلی فوجی بھی مارے گئے ۔ ادھر غزہ سے یرغمالیوں کی رہائی کرانے کیلئے اسرائیلیوں نے احتجاج کیا اور تل ابیب کی سڑکیں بند کرکے نیتن یاہو حکومت سے غزہ جنگ فوری بند کرنے اور یرغمالیوں کو واپس لانے کا مطالبہ کیا۔
دریں اثنا امریکی وزیر خارجہ بلنکن کا کہنا ہے کہ جنگ بندی معاہدے کے بہت قریب ہیں، یہ ہم نہ کر پائے تو آنے والی انتظامیہ صدر بائیڈن کے دیئے گئے معاہدے کو آگے بڑھائے گی۔ امریکی وزیر خارجہ نے پیرس میں فرانسیسی ہم منصب جین نول بیروٹ کے ساتھ پریس کانفرنس میں تصدیق کی ہے کہ غزہ میں جنگ بندی بہت قریب ہے جبکہ یرغمالیوں کے حوالے سے بھی معاہدہ بہت جلد ہونے کا امکان ہے۔ جنگ بندی کیلئے قطر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان بالواسطہ مذاکرات ہو رہے ہیں۔ ادھر حماس نے اسرائیل کی جانب سے پیش کی گئی 34قیدیوں کی فہرست سے اتفاق کیا ہے۔ قیدیوں کا تبادلہ ممکنہ جنگ بندی معاہدے کے تحت کیا جائے گا۔ حماس کا کہنا ہے کہ کوئی بھی معاہدہ اسرائیل کے غزہ سے انخلا اور مستقل جنگ بندی سے مشروط ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button