غزہ پر قبضے کیلئے حملے جاری، مزید 73فلسطینی شہید : مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے کا منصوبہ پیش
اسرائیلی ریزرو فوجیوں کی بغاوت، غزہ جنگ کو غیر قانونی قرار دیدیا، یروشلم میں نیتن یاہو کیخلاف پرتشدد مظاہرے ،ٹینک جلا دیا گیا
غزہ، پیرس ( ویب ڈیسک) غزہ پر قبضے کے اسرائیلی منصوبے کے اعلان کے بعد سے اسرائیلی فوج کے حملوں میں تیزی آتی جارہی ہے اور صیہونی فوج کی بمباری میں مزید 73فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔ دوسری طرف اسرائیل کے دائیں بازو کے سخت گیر وزیر خزانہ بیزالیل سموتریش نے نے مقبوضہ مغربی کنارے کے تقریباً تمام حصے کو اسرائیل میں ضم کرنے کا منصوبہ پیش کر دیا۔ انہوں نے وزیراعظم نیتن یاہو پر زور دیا ہے کہ وہ اس کی توثیق کریں۔
سموتریش کے دکھائے گئے نقشے میں صرف چھ بڑے فلسطینی شہروں کو چھوڑ کر، جن میں راملہ اور نابلس شامل ہیں، اسرائیل کو تقریباً پورے مغربی کنارے پر قابض دکھایا گیا ہے۔ ادھر اسرائیل کے ریزرو فوجیوں نے غزہ میں نیتن یاہو کی جنگ کو غیر قانونی قرار دیتے بغاوت کر ڈالی اور ڈیوٹی پر آنے سے انکار کر دیا۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق سیکڑوں اسرائیلی ریزرو فوجیوں نے اعلان کیا ہے کہ اگر انہیں غزہ سٹی پر قبضے کی کارروائی کیلئے طلب کیا گیا تو وہ ڈیوٹی پر حاضر نہیں ہوں گے۔
ریزرو فوجیوں نے تل ابیب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئی کہا کہ ہم نیتن یاہو کی غیرقانونی جنگ میں شامل ہونے سے انکار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم 365سے زائد فوجی ہیں اور یہ تعداد بڑھ رہی ہے، جنہوں نے جنگ کے دوران خدمات انجام دیں لیکن اب اعلان کرتے ہیں کہ دوبارہ بلائے جانے پر ہم ڈیوٹی پر رپورٹ نہیں کریں گے۔ مزید برآں اسرائیل کے خود ساختہ دارالحکومت یروشلم میں وزیرِاعظم نیتن یاہو کی جارحانہ پالیسیوں اور یرغمالیوں کی رہائی پر ناکامی کے خلاف پرتشدد مظاہرے جاری ہیں۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ مظاہرے وسعت اور شدت پکڑتے جا رہے ہیں، یہاں تک کہ نیتن یاہو کی رہائش گاہ بھی محفوظ نہیں رہی۔ عوام کی بڑی تعداد نے گزشتہ روز اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی رہائش گاہ کے قریب شدید احتجاج کیا، جس کے دوران وہاں ایک ٹینک کو بھی آگ لگادی گئی۔ آگ اتنی خوفناک تھی کہ اس نے ساتھ کھڑی اسرائیلی فوجی اہلکار کی کار کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ٹینک اور گاڑی دونوں جل کر خاکستر ہوگئے۔
عوامی مظاہرے کے باعث اسرائیلی وزیراعظم کی رہائش گاہ کے قرب و جوار میں رہنے والے رہائشیوں کوگھروں سے نکل کر محفوظ مقام پر منتقل ہونا پڑا۔ مظاہرین نے کچرے کے ڈبوں اور ٹائروں کو بھی آگ لگا دی جس سے آگ قریبی گھروں اور گاڑیوں تک پھیل گئی تھی۔ دوسری جانب فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے کہا ہے کہ فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کی کوششوں کو اسرائیل یا کسی اور کی رکاوٹ سے روکا نہیں جا سکتا۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے گفتگو کے بعد صدر میکرون نے کہا کہ کوئی بھی جارحیت، الحاق کی کوشش یا فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی اس سفارتی عمل کو نہیں روک سکتی، جسے ہم نے ولی عہد کے ساتھ شروع کیا ہے اور جس میں کئی شراکت دار پہلے ہی شامل ہو چکے ہیں۔
فرانس اور سعودی عرب 22ستمبر کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ہونے والی اعلیٰ سطح کی کانفرنس میں فلسطین کو تسلیم کرنے کا باضابطہ اعلان کریں گے۔ دوسری طرف اطلاعات کے مطابق امریکی انتظامیہ نے غزہ کی دو ملین آبادی کو ہمسایہ ممالک میں منتقل کر کے ایک نام نہاد ’’ مشرق وسطیٰ ریویرا‘‘ بنانے کا منصوبہ بھی پیش کیا ہے، جسے عرب دنیا اور یورپی اتحادیوں نے مسترد کر دیا۔ صدر میکرون نے کہا کہ دو ریاستی حل ہی اسرائیلیوں اور فلسطینیوں دونوں کی جائز امنگوں کو پورا کر سکتا ہے۔ اس کے لیے مستقل جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی، غزہ کے عوام تک بڑے پیمانے پر امداد کی فراہمی اور استحکام کے لیے مشن تعینات کرنا ضروری ہے۔



