غیرت کے نام پر ماں بیٹی ،دیگر واقعات میں سکول پرنسپل،استادسمیت 8افراد قتل
پشاور، کچن تنازع پر2خواتین سمیت 3 افراد، صوابی میں2چچا زاد جان سے گئے،شیخوپورہ، پیسوں کے لین دین پر بہن کو مارڈ الا،سیٹھ دلاور،علی حسن بھی چل بسے
مانسہرہ،شیخوپورہ (نمائندگان سی این این اردوڈاٹ کام) غیرت کے نام پر ماں بیٹی جبکہ دیگر واقعات میں 8افراد قتل کر دئیے گئے۔اطلاعات کے مطابق مانسہرہ کے علاقے پھلڑہ کی رہائشی خاتون نے خاندان کی رضامندی کے بغیر 2021 میں پسند کی شادی کی تھی، افسوسناک واقعے میں خاتون اور اس کی کمسن بیٹی کو ان کے گھر میں قتل کر دیا گیا۔
مانسہرہ کے ضلعی پولیس افسر (ڈی پی او) شفیع اﷲ گنڈا پور نےمیڈیاسے بات کرتے ہوئے واقعے کی تصدیق کی ۔ڈی پی او نے بتایا کہ مقتولہ نے بگال قبیلے کے روشن نامی شخص سے شادی کی تھی، جس سے دونوں خاندانوں کے درمیان تنازع پیدا ہو گیا تھا۔ ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ناصر محمود ستی نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او گنڈا پور کو ملزمان کی فوری گرفتاری کے احکامات جاری کیے ۔
ریسکیو 1122 صوابی کے مطابق نواحی گاؤں شگئی پنج پیر میں فائرنگ سے سکول پرنسپل اور استاد جاں بحق ہوگئے، دونوں مقتولین چچازاد تھے جن کی شناخت اعزاز اور حمزہ کے ناموں سے ہوئی۔دونوں کو نامعلوم وجوہات کی بنا پر نشانہ بنایا گیا، ادھر پشاور میں گھر میں کچن کے تنازع پر دو خواتین سمیت تین افراد قتل ہوگئے، پولیس کے مطابق واقعہ تھانہ داؤد زئی شاہ عالم کے علاقے میں پیش آیا۔
شیخوپورہ میں گاؤں کرتو میں پیسوں کے لین دین پر بھائی نے بہن کو قتل کر دیا،ملزم علی رصا نے 22سالہ نمرہ کو ڈنڈے مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا،ملزم علی رضا آئس سمیت دیگر نشہ کا عادی ہے، تھانہ اے ڈویژن کے علاقہ طارق روڈ اہلحدیث سڑیٹ کے قریب گلی میں معمولی رنجش کی بنا پر ملزم فائرنگ کرکے ایک نوجوان کو ہلاک کر دیا مقتول کی شناخت سیٹھ دلاورکے نام سے ہوئی ہے۔
تھانہ صفدر آباد کے علاقہ جبران میں علی حسن ولد مرتضیٰ قوم جٹ عمر 23 سال ہے کو دوران لڑائی ملزم قاسم نے چاقو کے وار سے علی حسن کوقتل کر دیا ہے،ملزم قاسم گرفتار ہے۔



