ہم خوش قسمت ہیں اپنی زندگی میں فیلڈ مارشل بھی دیکھ لیا،ایسے موقع باربار نہیں آتے،پاکستان کو اپنی تاریخ میں ابھی تک صرف دو ہی فیلڈ مارشل نصیب ہوسکے،حالانکہ بڑے بڑے ’’کرنی‘‘ والے جنرل آئے۔۔۔۔عالمی سچائی ہے،گرمی کا موسم گزر جائے تو لوگ سایہ دار درخت کو بھول جاتے ہیں۔۔۔۔
پیارے دوست مرحوم شیخ سلیم صاحب بہت یاد آئے،چھوٹی گاڑی سے بڑی پر آئے،پہلے روزہی کسی نے گاڑی کو ٹھوک دیا،نیچے اترے،شدید غصے میں تھے،کسی واقف کار نے کندھے پر ہاتھ رکھا،کہا،شیخ صاحب !! گاڑی بڑی رکھنی ہوتو دل بھی بڑا رکھنا چاہیے، شیخ صاحب کاغصہ ایک سیکنڈ میں اتر گیا،خاموشی سے گاڑی میں جابیٹھے اور گھر چلے گئے۔۔۔۔
یہ تو نہیں معلوم ہم پاکستان کے کونسے نمبر کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں،دوسری،تیسری یا چوتھی نسل۔۔۔؟ بہرحال اتنا تو علم ہے،ہم نے سن 1900 بھی دیکھا ہے اور اب سن2000 بھی دیکھ رہے،وی سی آر کا دور بھی دیکھا،’’ ٹنڈوں ‘‘کے ذریعے کنویں سے پانی نکلتا ہوا بھی دیکھا ہے،آٹا پیسنے والی کھراس چکی بھی تھوڑی تھوڑی یاد ہے،سیٹیاں مارنے والا ’’ کالا انجن ‘‘ بھی دیکھا ہوا ، بہت ہی چھوٹے تھے،لیکن یاد ہے،جب مرد مومن نے ریفرنڈم کرایا تھا،وہ نعرے سنے تھے،مرد مومن،مرد حق،ضیاءاللہ،ضیاءاللہ۔۔۔۔ پھر،ضیاءالحق کوہمسائیوں کے انٹینے والے بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن پرسپردخاک ہوتے بھی دیکھا،ہمارے سکول ماسٹر صاحب اس دن بڑے دکھی تھے۔۔۔۔
پہلے فیلڈ مارشل کو تو صرف ٹرکوں کے پیچھے ہی دیکھا،جہاں تصویر کے نیچے لکھا ہوتا تھا، تیری یاد آئی،تیرے جانے کے بعد۔۔۔۔اب تو ماشاءاللہ فیلڈ مارشل اپنی زندگی میں ہی دیکھ لیا،اگرغیرجانبدار ہوکرتجزیہ کیا جائے تو جناب سید عاصم منیر صاحب ہی ’’ اصلی ‘‘ فیلڈ مارشل ہیں،وہ ایسے،سنا ہے،جناب ایوب خان نے تو خود ہی پانچواں ستارہ اپنے کندھوں پر لگالیا تھا،آسان لفظوں میں ایسا بھی کہا جاسکتا ہے،وہ’’خودساختہ فیلڈ مارشل‘‘ تھے۔۔۔۔
( پیپلزپارٹی اورعمرایوب سے معذرت) لیکن سید صاحب کوتو فاتح فارم 47 ،ملک کی99فیصد سیاسی جماعتوں کی اتحادی’’ عوامی حکومت‘‘کی کابینہ نے باقاعدہ منظوری کے بعد فیلڈ مارشل کے عہدے سے نوازا۔۔۔۔ پھراس کے بعد صدر مملکت اور وزیراعظم نے مل کرایک پروقارتقریب میں انہیں ’’ بیٹن ‘‘ پیش کیا۔۔۔۔ چلو اب آگے چلتے ہیں،جنرل سید عاصم منیر فیلڈ مارشل بن گئے،بیٹن پیش کرنے کی تقریب بھی ہوگئی،سید صاحب نے سیاسی رہنماؤں کو عشائیہ بھی دے دیا،مبارک بادیں بھی وصول ہوگئیں،بطورفیلڈ مارشل کورکمانڈرز اجلاس بھی ہوگیا۔۔۔۔اب کرنا کیا ہے۔۔۔۔؟ کیا وہی کرنا ہے جو پہلے کررہے تھے۔۔۔۔؟ میرے سپہ سالار !! کچھ کرو،کچھ کرکے دکھاؤ،یہ لوگ جو آپکی دن رات تعریفوں کے پل باندھ رہے،آپکے نام کی تسبیح پڑھ رہے،آپکے راستوں پر پلکیں بچھا رہے،آپکے آگے،پیچھے،دائیں،بائیں،غلاموں کی طرح سرجھکائے خوشامد کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں ہونے دے رہے،یہ وہی لوگ ہیں،جو ایوب کو ڈیڈی کہتے ہیں، جو ضیا کو باپ مانتے تھے،جو مشرف کے پاؤں دباتے تھے، اورآج انہیں گالیاں نکالتے ہیں۔۔۔۔
سپہ سالار صاحب !! عالمی سچائی ہے،گرمی کا موسم گزر جائے تو لوگ سایہ دار درخت کو بھول جاتے ہیں،اسے کاٹ دیتے ہیں،سردیوں میں اس سے ایندھن کا کام لیتے ہیں ۔۔۔۔ بندہ عہدے سے نہیں،کردار سے بڑا آدمی بنتا ہے،انسان مرجاتے ہیں،کردار زندہ رہتے ہیں،بڑے بڑے جنرل ہوگزرے،قبروں کی نشان نہیں ملتے،لیکن جوکچھ کر گزرے،وہ آج بھی زندہ ہیں۔۔
کہاں سکندر،کہاں ہے دارا،جام کہاں ہے جم کا ۔۔۔؟
فیلڈ مارشل صاحب!! عہدہ بڑا ملا ہے تو دل بھی بڑا کریں،جیلوں کے دروازے کھولیں،کپتان کی بات نہیں کرتا،باقی بڑی تعداد میں کارکن ہیں،انہیں تو رہا کریں، جو’’غائب ‘‘ ہیں،انہیں بھی آزاد کریں،وہی کچھ کریں،جو پاکستان کے عوام چاہتے ہیں،کیا جنگ میں یہ نہیں سیکھا،لوگ کیوں آپ کی عزت کرنے لگے،اس لئے نہیں آپ نے جنگ جیتی،اس لئے آپ اس سے لڑے جس سے عوام لڑتا ہوا دیکھنا چاہتے تھے۔۔۔۔
عوام اسی کو محبت دیتے ہیں،جو عوام کی مانتے ہیں،عوام جو چاہتے ہیں،وہ کیا جائے،عوام چاہتے کیا ہیں،سب کو معلوم۔۔۔۔ کسی واقف کار نے کندھے پر ہاتھ رکھا،کہا،شیخ صاحب !! گاڑی بڑی رکھنی ہوتو دل بھی بڑا رکھنا چاہیے،فیلڈ مارشل تو عیدی امین بھی ہوگزرا ہے،جو ساتھ لکھتے تھے۔۔۔’’فاتح سلطنت برطانیہ عظمیٰ،کرہ ارض کی خشکی اورتری پرموجود تمام حیات کے سربراہ ‘‘۔۔۔۔ اتنے بڑے سربراہ کو اپنے وطن میں قبر بھی نصیب نہیں ہوئی تھی،جلاوطنی کے دوران جدہ میں انتقال کرگئے،وہیں دفن ہوئے،یوگنڈا میں کتنے لوگ ہیں جو ان کے گیت گاتے ہیں۔۔۔۔؟۔۔۔۔ بندہ عہدے سے نہیں،کردار سے بڑا آدمی بنتا ہے۔
نوٹ:سی این این اردوڈاٹ کام کا لکھاری اور نیچے دیئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔



