فیلڈ مارشل عاصم منیرسے ملاقات اعزاز ، جنگ روکنے پر شکریہ ادا کرنے کیلئے مدعوکیا:ٹرمپ
آرمی چیف کی وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ، کابینہ سے اہم و تاریخی ملاقات، ظہرانہ دیاگیا، امن وامان،ایران کے معاملے پر گفتگو،پاکستان سے تجارتی معاہدے پربات ہورہی ہے:ٹرمپ
واشنگٹن: (ویب ڈیسک )امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے کہاہےفیلڈ مارشل عاصم منیرسے ملاقات میرے لئے اعزاز ہے،ان کوپاک بھارت جنگ روکنے پر شکریہ ادا کرنے کیلئے بلایا،پاکستان اور بھارت دونوں جوہری طاقتیں ہیں،پاکستانی عہدیداروں سے ایران کے حوالے سے بھی بات کی۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیرنے وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور کابینہ سے اہم اور تاریخی ملاقات کی۔ذرائع کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے اعزاز میں کیبنٹ روم میں ظہرانہ دیا ،دوران ملاقات امریکی صدر کو پاک بھارت جنگ سے آگاہ کیا گیا اور خطے میں امن وامان کی صورتحال پر گفتگو ہوئی،فیلڈ مارشل عاصم منیرنے اس موقع پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیواور وزیر دفاع پیٹ ہیکسگتھ سے بھی ملاقات کی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہافیلڈ مارشل عاصم منیر کا شکریہ کہ وہ جنگ کی طرف نہیں گئے، ان سے ایران کے معاملے پر بھی بات ہوئی،دونوں ممالک کی قیادت بہت عظیم ہے،پاکستان ایران کو ہم سے بہتر جانتاہے،ایران کے ساتھ گارنٹی والا معاہدہ ہونا چاہئے،ایران کو جوہری اثاثوں کی اجازت دی تو ساری دنیا کو دینی پڑے گی۔ذرائع نے بتایا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا تاریخی دورہ پاک امریکہ تعلقات اور عالمی سطح پر پاکستان کی عسکری قیادت کی پہچان کی عکاسی کا مظہر ہے جبکہ ملاقات علاقائی اور عالمی استحکام میں کلیدی شراکت دار کے طور پر پاکستان کی عسکری قیادت پر بڑھتے ہوئے اعتماد اور اہمیت کی نشاندہی کرتی ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو کسی بھی بھارتی وفد سے پہلے وائٹ ہاؤس میں مدعو کرنا امریکی خارجہ پالیسی میں پاکستان کی سٹریٹجک ترجیح کا واضح اشارہ ہے، امریکی صدر سے فیلڈ مارشل کی ملاقات اس بات کی غمازی ہے کہ امریکہ علاقائی استحکام کو برقرار رکھنے میں پاکستان کے کردار سے بخوبی واقف ہے۔باوثوق ذرائع نے مزید بتایا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ امریکا اور صدر ٹرمپ سے ملاقات پاکستان کا جنوبی ایشیا میں کردار واضح کرتا ہے۔
قبل ازیں وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی تعریف کرتے ہوئےکہامجھے پاکستان بہت پسند ہے اور وہاں کے لوگ بھی بہت اچھے ہیں،پاکستان اور بھارت جوہری طاقت ہیں، ان کے درمیان جنگ میں نے رکوائی اور تجارت پر آمادہ کیا۔ امریکی صدر نے کہا ایران کا دفاع ناکام ہوگیا، آج بھی پیغام ہے غیر مشروط سرینڈر کر دے، آج ایران بات کرنا چاہ رہا ہے، اس نےدو ہفتے پہلے کیوں بات نہیں کی، ایران سے متعلق اب بہت دیر ہو چکی، اسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا،ایران وائٹ ہاؤس آنا چاہتا ہے مگر ایک ہفتے پہلے اور اب میں بہت فرق ہے، ایران کو کئی بار جوہری معاہدے کا کہا، ایران کے پاس فضائی دفاع نہیں، وہ ابھی مشکل میں ہے اور آگے اسے مزید مشکل ہوگی۔
جب امریکی صدر سے سوال کیا گیا کہ کیا ایران کے خلاف اسرائیلی حملوں میں شریک ہونے جار رہے ہیں تو انہوں نے جواب دیا میں شاید ایسا کروں یا پھر شاید ایسا نہ کروں، کوئی نہیں جانتا میں کیا کرنا چاہتا ہوں، میں صرف یہ کہہ سکتا ہوں ایران شدید مشکلات میں اور مذاکرات کرنا چاہتا ہے، ایران 40 سال سے امریکا مردہ باد، اسرائیل مردہ باد کہہ رہا ہے، آئندہ ہفتہ اہم ہے، ہو سکتا ہے اس سے پہلے بڑی کارروائی ہو، ایرانی حکام کے جوہری پروگرام کے حوالے سےارادے بُرے ہیں،یوکرین اور روس کی جنگ کے وقت میں صدر ہوتا تو یہ جنگ نہ ہوتی۔



