بلاگپاکستانتازہ ترینکالم

ٹوٹتے خاندانی نظام کی قباحتیں

میاں حبیب

کراچی کے فلیٹس میں سے لاہور سے تعلق رکھنے والی خوبرو اداکارہ حمیرا اصغر کی نعش جو کہ کئی مہینوں تک لاوارث پڑی رہی اور آخر کار عدالتی بیلف کی کارروائی کے نتیجے میں اسے قبر نصیب ہوئی پر بہت کچھ لکھا گیا ہے۔

سوشل میڈیا میں طرح طرح کے تبصرے کمنٹس اور اس سے جڑی کہانیوں کا سیلاب آیا ہوا ہے لیکن کسی نے یہ نہیں سوچا کہ ہماری سوسائٹی میں تو یہ ممکن نہ تھا۔ آخر کیا وجوہات ہیں کہ ہمارا خاندانی نظام بکھر رہا ہے۔ انسان کیوں تنہا ہوتا جا رہا ہے، بےحسی کیوں بڑھتی جا رہی ہے، بطور شہری ہم اپنے فرائض سے کیوں روگردانی کرتے ہیں۔ ریاست،انتظامیہ ادارے اور افراد کیوں فعال کردار ادا نہیں کر پا رہے۔ شہری لاوارث کیوں ہو رہے ہیں، خاص کر خواتین کے حوالے سے معاشرہ نت نئی روایات سے کیوں روشناس ہو رہا ہے۔

کراچی میں ہونے والے دو واقعات نے معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ دونوں واقعات میں معاملہ شوبز سے وابستہ خواتین کا تھا پہلے واقعہ میں تو ایک بزرگ خاتون عائشہ آپا جن کی عمر 76 سال تھی۔ ان کی اولاد بھی تھی، عزیز رشتہ دار بھی تھے لیکن وہ تنہا رہتی تھی اور آخر کار احساس تنہائی اور ڈپریشن انھیں موت کی طرف لے گیا۔ ان کی نعش بھی موت کے ایک ہفتہ بعد ملی۔ جب بدبو پھیلی تو کسی محلہ دار نے ان کے رشتہ داروں کو اطلاع دی۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ ان کے کیا معاملات تھے وہ کیوں تنہا رہتی تھیں۔

کیا اولاد انھیں اپنے پاس نہیں رکھنا چاہتی تھی یا وہ خود کسی کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تھیں؟۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ایک ہفتہ تک نہ کسی ہمسائے کو احساس ہوا نہ اولاد نے رابطہ کیا نہ کسی عزیز رشتہ دار دوست کو تشویش ہوئی۔ یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ پرلے درجے کی بے حسی ہے۔

دوسرا واقعہ اور زیادہ خوفناک ہے کہ ایک جواں سالہ خاتون جس کے سوشل میڈیا پر سات لاکھ سے زائد فالورز ہیں جس کا اکثر تقریبات میں لاکھوں دلوں کی دھڑکن کہہ کر تعارف کروایا جاتا تھا، اس کو مرے کئی مہینے گزر گئے لیکن کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ والدین تو اسے پہلے ہی چھوڑ چکے تھے لیکن کسی دوست ہمسائے، چاہنے والے، فالو کرنے والے نے بھی اس کی کمی محسوس نہ کی۔ جو فالورز اس کی تصویروں، اس کی سرگرمیوں پر کمنٹس کرتے تھے، جن کی فون پر گفتگو ہوتی تھی ان میں سے کسی کو بھی خیال نہ آیا کہ اچانک حمیرا کی سوشل میڈیا پر سرگرمیاں ختم کیوں ہو گئی ہیں، اس کا فون کیوں بند ہو گیا ہے، اس کے ساتھ کیا معاملہ ہوا ہے۔ اسے بے حسی نہیں کہیں گے تو اور کیا کہیں گے۔

یہ دونوں واقعات ان لوگوں کے لیے سبق ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ انھیں کسی کی ضرورت نہیں، وہ خود اپنی زندگی جینا چاہتے ہیں، وہ اپنے معاملات میں کسی کی مداخلت نہیں چاہتے۔ پنجابی کا ایک محاورہ ہے کہ، شالا کوئی رْکھ وی کلاّ نہ ہووے، یعنی کہ کوئی درخت بھی اکیلا نہ ہو۔ ایک دوسرا محاورہ ہے جس کے معنی ہیں کہ اگر آپ کو کوئی نہ ملے تو دیوار سے مشورہ کر لیں۔

ہمارا خاندانی نظام اللہ کی بڑی عنایت ہے جہاں ہر کوئی ایک دوسرے سے جڑا ہوتا ہے۔ جہاں ایک دوسرے کا احساس اور خیال ہوتا ہے، رشتوں کی قدر اور پہچان رہتی ہے، جہاں ہر کسی کا کوئی نہ کوئی والی وارث ہوتا ہے۔ ماں باپ بچوں کے والی وارث ہوتے ہیں، بچے ماں باپ کے والی وارث ہوتے۔ بہن بھائی میاں بیوی کزن مامے چاچے پھوپھیاں پورا ایک ربط ہوتا ہے۔

پھر اسلام میں تو ہمسایوں کے بہت حقوق ہیں ہمسائے آپ کے ہر وقت کے دکھ درد کے ساتھی ہوتے ہیں لیکن جب سے ہم نے یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ یہ میرا ذاتی مسئلہ ہے، تمہیں دلچسپی لینے کی ضرورت نہیں تب سے ایسے اذیت ناک واقعات رونما ہونے لگے ہیں۔ جب تک محلے میں آنے والے اجنبی پر پورے محلے کو تشویش ہوتی تھی اور جب تک اس کے بارے میں تحقیق نہیں ہو جاتی تھی کہ وہ کون ہے، محلے میں کس کو ملنے آیا ہے، اس وقت تک چین نہیں آتا تھا۔

اس احساس ذمہ داری نے کئی برائیوں کو روک رکھا تھا۔ اب ہمسایوں کو ہم اپنی زندگیوں سے لاتعلق کر بیٹھے ہیں بلکہ المیہ یہ ہے کہ آج ایک گھر میں رہنے والے ایک دوسرے سے لاتعلق ہوتے جا رہے ہیں۔ ہم مغرب کی اندھی تقلید میں اپنا سوشل سسٹم تباہ کر رہے ہیں۔ آج والدین سے یہ حق چھینا جا رہا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ تمہیں میری ذاتی زندگی میں مداخلت کی ضرورت نہیں، میں اپنے فیصلے خود کر سکتا ہوں یا کرسکتی ہوں۔

آج بچے یہ کہنا شروع ہو گئے ہیں کہ ہم 18 سال کے ہوگئے ہیں ہمیں آزادی چاہیے۔ میں سمجھتا ہوں وہ لوگ خوش قسمت ہیں جن کو کوئی ڈانٹنے والا ہے، جن کو اچھے برے کاموں پر کوئی پوچھنے والا ہے۔ ایک دوسرے کا احساس کسی پر احسان نہیں بلکہ عبادت ہے اور اللہ کے نزدیک سب سے بڑی عبادت کسی انسان کے کام آنا ہے۔ خدارا معاشرے کو ٹوٹ پھوٹ سے بچا لو ورنہ بیحسی کی موت مارے جاؤ گے۔ خیال رکھنے والوں کو بوجھ نہ سمجو وہ تمھارے خیر خواہ ہیں اکیلا انسان کوئی کچھ نہیں۔

تمہاری عزت تمہارا گھر خاندان محلہ عزیز واقارب دوست احباب کولیگ ہیں۔ ان کی قدر کرو، انہیں اپنی زندگیوں سے دور نہ کرو خاص کر آزادی مانگنے والی عورتوں کے لیے سبق ہے کہ کوئی کسی کا نہیں بنتا صرف اپنے ہی اپنے ہوتے ہیں۔ تھوڑی سی تحقیق کر کے دیکھ لیں، آپ کی آنکھیں کھل جائیں گی۔ جن خواتین نے شتر بے مہار آزادی چاہی ان کے ساتھ کیا ہوا ان کا انجام کیا ہوا۔ ایسی ایسی کہانیاں ہیں کہ آپ کے رونگھٹے کھڑے ہو جائیں۔ جب تک آپ کسی کی بیٹی بہن بیوی خالہ مامی چاچی پھوپھی ہیں آپ کی عزت ہے ورنہ چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button