انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

پاک، چین، روس تعاون بڑھانے پر اتفاق: شہباز شریف کی شی جن پنگ، پوتن سے ملاقاتیں

بیجنگ جنوبی ایشیا میں جامع مذاکرات کی نگرانی کرے تاکہ ثمرات پاکستان کو مل سکیں، وزیر اعظم کی دعوت، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں حمایت پر اظہار تشکر

بیجنگ، اسلام آباد ( ویب ڈیسک) پاکستان اور چین نے تزویراتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لئے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے دوطرفہ تعاون کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان ترقی کے عظیم سفر میں چین کے ساتھ مل کر کام کرنے کیلئے تیار ہے۔ شہباز شریف نے جنوبی ایشیا میں جامع مذاکرات کی نگرانی کیلئے چین کو دعوت دیدی، جبکہ صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ سی پیک اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، چین اقتصادی ترقی کے تمام شعبوں میں پاکستان کی مدد جاری رکھے گا۔
دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بھی چین پاکستان کی حمایت کرتا ہے۔ چینی سرکاری میڈیا کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان بیجنگ میں ملاقات ہوئی جس میں خطے کی صورتحال اور دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفود کی سطح کی ملاقات میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، احسن اقبال اور دیگر وزرا بھی موجود تھے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چینی صدر نے کہا کہ امید ہے پاکستان چینی عملے، منصوبوں اور اداروں کی حفاظت یقینی بنانے کیلئے موثر اقدامات کرے گا۔ وزیر اعظم نے چینی صدر کی قائدانہ صلاحیتوں کی تعریف کی اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین عظیم دوست ہیں جو ہر آزمائش میں پورا اترے ہیں، بیلٹ اینڈ روڈ، سی پیک منصوبہ صدر شی جن پنگ کی مثالی قیادت کا ثبوت ہے۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان کے عوام چین کے ساتھ دوستی کو دل سے پسند کرتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ چین جنوبی ایشیا میں جامع مذاکرات کی نگرانی کرے، تاکہ مذاکرات کے ثمرات پاکستان کو مل سکیں، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشتگردی میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے۔ جبکہ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نے کثیرالجہتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے صدر شی جن پنگ کے پختہ عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان صدر شی جن پنگ کے تاریخی اقدامات ، جس میں گلوبل گورننس انیشی ایٹو، گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو، گلوبل سکیورٹی انیشی ایٹو اور گلوبل سولائزیشن انیشی ایٹو شامل ہیں، کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ اقدامات اجتماعی عالمی بھلائی کے لیے ضروری اور علاقائی اور عالمی امن، استحکام اور ترقی میں معاون ثابت ہوں گے۔
دونوں رہنمائوں نے پاکستان اور چین کے مابین منفرد اور بے مثال تعلقات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اتفاق کیا کہ اس کی عکاسی دوطرفہ تعاون کو مزید بڑھانے کے ذریعے ہونی چاہیے۔ دونوں رہنمائوں نے اہم علاقائی اور عالمی پیش رفت پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے پاکستان اور چین کے مابین قریبی تعاون جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔ وزیراعظم نے صدر شی جن پنگ کو آئندہ سال پاک، چین دوستی کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کے لیے اپنی انتہائی پرخلوص دعوت کی بھی تجدید کی۔ اس سے قبل وزیراعظم نے کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ تیانجن کے سٹینڈنگ ممبر اور تیانجن ۔بنہائی نیو ایریا کے پارٹی سیکرٹری لیون ما جن سے ملاقات کی۔ مزید برآں وزیر اعظم نے بیجنگ میں روسی صدر سے ملاقات کی، ملاقات کے دوران روسی صدر نے ایس سی او سمٹ میں شرکت کی دعوت دی۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنمائوں نے گرمجوشی سے مصافحہ کیا، اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ روس کے ساتھ تعلقات کا فروغ چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روس سے تجارت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے خواہش مند ہیں، روس کے ساتھ دو طرفہ تعلقات وقت کے ساتھ مضبوط ہو رہے ہیں، ہم اپنے تعلقات کو بلندیوں تک لے جانا چا ہتے ہیں۔ وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں امن اور خوشحالی کا فروغ چاہتا ہے، دورانِ گفتگو انہوں نے پوتن کو مخاطب کرتے کہا کہ آپ خطے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب صدر پوتن نے اپنی گفتگو میں کہا کہ پاکستان کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں، پاکستان میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات پر شدید افسوس ہوا۔ روسی صدر نے دوران ملاقات شہباز شریف کو ایس سی او سمٹ میں شرکت کی دعوت بھی دی، جس پر وزیراعظم نے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مجھے روس کا دورہ کرکے بہت خوشی ہوگی۔
پوتن کا اپنی گفتگو میں مزید کہنا تھا کہ ہمیں مختلف شعبوں میں مل کر آگے بڑھنا ہے، امید ہے پاکستانی حکومت سیلابی صورتحال پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائے گی، دونوں ملک مختلف امور پر یو این سمیت عالمی فورمز میں یکساں موقف رکھتے ہیں۔ دوطرفہ تعلقات کے بارے میں پاکستان کے وزیر اعظم کے جائزے سے اتفاق کرتے ہوئے صدر پوتن نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے استحکام کا ذکر کیا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ شنگھائی تعاون تنظیم جیسی تنظیموں میں تعاون کا فروغ علاقائی اور عالمی سلامتی اور استحکام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے روس کے پاکستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ ادھر وزیر اعظم کی بیجنگ میں جمہوریہ تاجکستان کے صدر امام علی رحمان سے ملاقات ہوئی، جس میں دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تعلقات مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
دونوں رہنمائوں نے پاکستان اور تاجکستان کے درمیان باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں جاری تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔ دونوں رہنمائوں نے تجارت اور سرمایہ کاری، رابطے، توانائی، علاقائی سلامتی، ثقافت اور عوام سے عوام کے تبادلے سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ وزیر اعظم اور تاجک صدر نے مشترکہ ثقافتی، تاریخی اور مذہبی رشتوں میں جڑے پاکستان تاجکستان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنمائوں نے مشترکہ تشویش کے علاقائی اور عالمی مسائل پر بھی نقطہ نظر کا تبادلہ خیال کیا۔ بیجنگ میں قیام کے دوران وزیراعظم آج 3ستمبر کو فاشزم کے خلاف عالمی جنگ کی 80ویں سالگرہ کی تقریب میں شرکت کریں گے۔ مزید برآں وزیرِ اعظم نے سابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی والد اور ممتاز قبائلی شخصیت آصف سنجرانی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button