پنجاب:بارشوں سے تباہی، چھتیں گرنے ،کرنٹ سے 38 افراد جاں بحق،درجنوں زخمی ،آج پھر بارش کی پیش گوئی
ٹھوکر نیاز بیگ میں گھرکی چھت گرنے سے ایک ہی خاندان کے 5 ،رائیونڈ میں 3افراد جاں بحق ،دریائے جہلم میں سیلاب کی وارننگ، ، خیبر پختونخو میں برفانی جھیلوں کے پھٹنے اور فلیش فلڈز کا خطرہ
لاہور،اسلام آباد :(بیوروچیف،نمائندگان ) صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں مون سون بارشوں نے تباہی مچا دی ، گھروں کی چھتیں گرنے اور کرنٹ لگنے سے بچوں اور خواتین سمیت38افراد جاں بحق، درجنوں زخمی ہو گئے ۔ بارشوں سے نشیبی علاقوں میں دو سے چار فٹ تک پانی جمع ہونے سے نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا لوگ گھروں میں مقید ہوگئے ۔
لاہور اور گردونواح میں رات بھر وقفے وقفے سے موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری رہا جس سے نشیبی علاقے زیر آب آ گئے جبکہ شاہراہیں تالاب کا منظر پیش کرتی رہیں۔بارش کے باعث لاہور کے علاقے ٹھوکر نیاز بیگ کے گائوں مرید وال میں گھر کی چھت گرنے سے ایک ہی خاندان کے 5افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ 2افراد زخمی ہوئے، جاں بحق افراد میں 60سالہ مانگا، 55سالہ عشرت، 3سالہ خدیجہ، 4سالہ لطیفہ اور 35سالہ رانی جبکہ زخمیوں میں 30سالہ فیصل اور 5سالہ ببلی شامل ہیں۔بد قسمت خاندان نے ایک ماہ قبل جگہ خرید کر کچا گھر بنایا تھا۔
اس کے علاوہ رائیونڈ کے علاقے مشن کالونی میں مکان کی چھت گرنے سےایک ہی خاندان کے 3افراد جان کی بازی ہار گئے، ایک شخص کو زندہ نکال لیا گیا۔کوٹ جمال رائیونڈ روڈ میں چھت گرنے سے ایک شخص جاں بحق اور 3افراد زخمی ہوئے، باغبانپورہ کے علاقے مومن پورہ روڈ پر ایک گھر کی چھت گر گئی جس سے 3افراد جان کی بازی ہار گئے۔ادھر مشن کالونی میں چھت گرنے سے تین افراد ملبے تلے دب کر جاں بحق ہوئے، جن کی شناخت 70 سالہ نسرین، 8 سالہ میرب، اور 80 سالہ بشیر کے ناموں سے ہوئی۔
ہربنس پورہ کے علاقے برف خانہ سٹاپ کے قریب کرنٹ لگنے سے دو بچے جاں بحق ہو گئے ۔متوفی بچوں کی شناخت 15 سالہ اویس اور اس کی 13 سالہ بہن نشا کے نام سے ہوئی ۔ دونوں بہن بھائیوں کو کرنٹ گھر میں موجود آہنی کپڑوں کی پیٹی سے لگا۔حویلی لکھا اور اوکاڑہ میں چھتیں گرنے سے 2افراد جان سے چلے گئے،رینالہ خورد میں کرنٹ لگنے سے 2افراد جان کی بازی ہار گئے۔ چشتیاں میں مکان کی چھت گر گئی جس سے ملبے تلے دب کر ماں اوربیٹا زخمی ہوگئے، پاکپتن میں بھی مکان کی چھت گرنے سے 3افراد زخمی ہوگئے ۔
فیصل آباد کے علاقے رچنا ٹائون میں بارش کے باعث گھر کی خستہ حال چھت گرنے سے ملبے تلے دب کر میاں بیوی جاں بحق ہوگئے، حادثے میں تینوں بچے محفوظ رہے۔شیخوپورہ ٹاؤن مریدکے پرانا نارنگ روڈ کے قریب خالی پلاٹ میں مٹی نکالنے سے بننے والے گہرے گھڈوں میں کھڑے بارشی پانی میں دو بچے حماد سکنہ پنڈ مریدکے اورعثمان سکنہ پنڈ مریدکے نہاتے ہوئے ڈوب کر جاں بحق ہو گئے۔
پنجاب کے مختلف شہروں ڈسکہ، حافظ آباد، وزیرآباد، سانگلہ ہل، گوجرانوالہ، فیصل آباد، ننکانہ صاحب، منچن آباد، بہاولنگر، پاکپتن، عارف والا، قصور اور فاروق آباد میں بھی موسلا دھار بارش ہوئی جس سے نشیبی علاقے زیرآب آگئے۔بارش سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کا نظام بھی متاثر ہوا اور فیڈرز ٹرپ ہونے سے گھنٹوں بجلی بند رہی ۔
راجو وال میں نواحی گاؤں 25 ٹو آر میں گھر کی چھت گرنے سے 40 سالہ اﷲ دتہ ولد سیلمان موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔ گیمبر روڈ 52/5L پر بارش کے باعث گھر کی چھت گرنے سے 12 سالہ حبیب اﷲ جان کی بازی ہار گیا جبکہ اس کے بہن بھائی 19 سالہ سجاد اور 14 سالہ طاہرہ شدید زخمی ہوئے۔ قصبہ مرولہ شریف میں بھی چھت گرنے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا جس میں تین سالہ انایہ بی بی اور سات سالہ مہروبہ بی بی جاں بحق ہو گئیں۔ جاں بحق بچیوں کا والد عارف، والدہ ثناء بی بی، بیٹی حرم فاطمہ اور ڈیڑھ سالہ مہتاب عارف زخمی ہو گئے ۔
شیرگڑھ روڈ پر واقع میرج ہال میں واٹر پمپ چلاتے ہوئے کرنٹ لگنے سے 35 سالہ ثاقب جاں بحق ہو گیا۔ گاؤں 56-ڈی نزد 34 فور ایل میں بازار سے کھانے کی چیز لینے جاتے ہوئے دو کمسن لڑکیاں ماہ نور دختر مرتضیٰ عمر تقریباً 10 سال اور اقرا دختر اکرم عمر تقریباً 8 سال کنویں میں گر کر جاں بحق ہو گئیں۔
لواحقین کے مطابق بارش کے باعث پانی زیادہ ہونے کی وجہ سے کنواں نظر نہ آیا ۔عارف والا کے نواحی گائوں65/EB میں بارش کے باعث مال مویشیوں کے کمرے کی چھت گرنے سے 50 سالہ شخص سردار علی جاں بحق ہوگیا ۔مانوالا میں لاگر روڈ فیروز وٹواں میں مکان کی چھت گرنے سے بشیر جاں بحق ہوگیا عثمان نگر حافظ آباد روڈ پر چھت گرنے سے میاں بیوی نازش بی بی اور اجمل شدید زخمی ہوگئے اجمل زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا جبکہ جھامکے سٹاپ سرگودھا روڈ پر چھت گرنے سے نگینہ موقع پر جاں بحق ہوگئی ۔
ساہیوال میں نور شا ہ کی آبادی آباد گراں میں گھر کی چھت گرنے سے چھ سالہ بچی جاں بحق اور پانچ افرادشدید زخمی ہو گئے۔ آبادی ساہومیں گھر کی چھت گرنے سے ما ں اور چھ سالہ بیٹی جا ں بحق جبکہ چار سالہ بچی زخمی ہو گئی مختلف علاقوں میں 14ٹرانسفر جل گئے۔ کاہنہ میں صوئے آصل میں خستہ حال مکان کی چھت گرنے سے ملبے تلے دب کر 60سالہ مینا بی بی خاتون جاں بحق ہو گئی۔ جڑانوالہ میں ستیانہ روڈ پر چھت گرنے سے 50 سالہ شاہمند اور 40 سالہ ریاض بی بی سکنہ چک 386 جی۔بی ہریانہ جھامرہ جاں بحق ہو گئے۔ سانگلہ ہل محلہ پرانا چہور میں ایک خاتون چھت پر گئی پائپ کو ہاتھ لگا تو کرنٹ لگنے سے اپنی زندگی کی بازی ہار گئی ۔
دیپالپور اور گردونواح میں موسلا دھار بارش نےتباہی مچا دی بارش کا پانی گھروں دفاتر اور تحصیل کچہری کی عدالتوں میں بھی پہنچ گیا ۔ دیپالپور کے نواحی علاقے حویلی لکھا کی سبزی منڈی میں دکان کی چھت گرنے سے سلمان جاں بحق ہو گیا 46 ڈی میں چھت گرنے سے چار افراد جبکہ 2 ایس پی گاؤں میں بھی دیوار گرنے سے دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔
صوبائی دارلحکومت لاہورمیں مختلف مقاما ت بارش ہوئی بارش کے باعث کئی نشیبی علاقے زیر آب آگئے ۔واسا لاہور کے مطابق صوبائی دارالحکومت کے علاقے پانی والا تالاب میں سب سے زیادہ 171ملی میٹر، اقبال ٹائون میں 169ملی میٹر، تاجپورہ میں 167ملی میٹر، مغلپورہ میں 135، لکشمی چوک میں 133ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ جمعرات کے روز کشمیر، اسلام آباد، خطہ پوٹھوہار، شمال مشرقی پنجاب، بالائی خیبر پختونخواہ اور گلگت بلتستان میں بیشترمقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ وقفے وقفے سے بارش جبکہ کہیں کہیں شدید موسلادھار بارش کا امکان ہے ۔ وسطی /جنوبی پنجاب اور شمال مشر قی/جنوبی بلو چستان میں چند مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی بھی توقع ہے۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے دریائے جہلم میں اونچے درجے کے سیلابی کی پیش گوئی کی ہے، پی ڈی ایم اے کے مطابق منگلا اپ اسٹریم کے مقام پر پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 50 ہزار سے 4 لاکھ 50 ہزار کیوسک کے درمیان ہو سکتا ہے۔ دریائے جہلم میں پانی کے تیز بہاؤ کے باعث ذیلی نالوں میں بھی آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران سیلاب کی صورتحال پیدا ہونے کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹوں میں پنجاب کے بیشتر اضلاع میں مزید موسلادھار بارشوں کی پیشگوئی کی ہے، مون سون کا یہ سپیل 17 جولائی تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
تیز بارشوں کے باعث نشیبی علاقوں میں ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ ہے اور آندھی و بارش سے مخدوش یا کچے مکانات کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ بارشوں سے لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) کے 105 سے زائد فیڈرز سے بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی، جس کے باعث مختلف علاقوں میں بجلی کی آنکھ مچولی اور طویل بندش کا سلسلہ جاری رہا۔ خیبر پختونخوا میں جاری موسمی حالات کے پیش نظر پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے صوبے کے برف پوش پہاڑی علاقوں خصوصاً چترال اپر و لوئر، دیر اپر، سوات اور کوہستان اپر میں برفانی جھیلوں کے پھٹنے (GLOFs) اور فلیش فلڈز کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔



