ایک اچھی خبر یہ ہے کہ "پاکستان، چین کا بنگلہ دیش میں مشترکہ ایئر بیس بنانے کا فیصلہ” کیا گیا ہے جوکہ جنوبی ایشیا میں ایک اہم پیش رفت کی علامت سمجھی جا رہی ہے۔ یہ پیشرفت نہ صرف بھارت کے لیے باعث تشویش ہے بلکہ خطے میں طاقت کے توازن پر بھی دور رس اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
پاکستان اور بنگلہ دیش دونوں ممالک کی باہمی تعلقات کی تاریخ پیچیدہ مگر دلچسپ ہے۔ 1971 میں بنگلہ دیش کے قیام کے بعد پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں سردمہری رہی، جو بعد ازاں آہستہ آہستہ بحال ہونے لگے۔ دوسری جانب چین نے 1971 کی جنگ میں پاکستان کا ساتھ دیا اور بنگلہ دیش کو تاخیر سے تسلیم کیا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ بنگلہ دیش اور چین کے معاشی و عسکری تعلقات میں اضافہ ہوتا گیا۔
دوسری طرف چین اور پاکستان کے تعلقات روزِ اول سے ہی "آئرن برادرز” کہلاتے رہے ہیں، اور دونوں ممالک نے بھارت کے مقابلے میں ایک اسٹریٹجک گٹھ جوڑ قائم رکھا ہے۔ اب اگر ان تینوں ممالک کا دفاعی اشتراک وجود میں آتا ہے تو یہ نہ صرف علاقائی تاریخ میں ایک نیا باب ہوگا بلکہ نئی صف بندیوں کا آغاز بھی ہو سکتا ہے۔
لالمونیرہاٹ میں بننے والا ایئر بیس بھارتی سرحد سے محض 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہوگا، جو سلی گری کاریڈور کے نزدیک ہے۔ سلی گری کاریڈور یا "چکن نیک” وہ تنگ زمینی پٹی ہے جو بھارت کے شمال مشرقی ریاستوں کو بقیہ بھارت سے ملاتی ہے۔ اس پٹی کو بند کرنے یا خطرے میں ڈالنے سے بھارت کی جغرافیائی وحدت کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
اگر اس بیس پر چین کی موجودگی یقینی ہو جاتی ہے تو یہ بھارت کے لیے ایک دھچکا ثابت ہوگا۔ اور اگر پاکستان بھی اس منصوبے میں شامل ہوتا ہے تو یہ سہ فریقی اتحاد بھارت کے لیے ایک نئے اسٹریٹجک محاذ کی مانند ہوگا۔
بنگلہ دیش کی "Forces Goal 2030” پالیسی دراصل ایک عسکری اپ گریڈیشن پروگرام ہے، جس کا مقصد بنگلہ دیش کی بری، بحری اور فضائی افواج کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔ اس پالیسی کے تحت مختلف ممالک سے عسکری تعاون حاصل کیا جا رہا ہے، جن میں چین سرفہرست ہے۔ اس پالیسی کی آڑ میں بنگلہ دیش کی جانب سے ایک ایسے بیس کی تعمیر جو بھارت کے لیے دفاعی دردِ سر بنے، کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
بھارت کو پہلے ہی چین کی String of Pearls حکمت عملی سے خدشات لاحق ہیں، جس کے تحت چین نے سری لنکا، پاکستان (گوادر)، میانمار اور دیگر ممالک میں بندرگاہوں اور عسکری تنصیبات پر اثرورسوخ بڑھایا ہے۔ اب اگر بھارت کے قریب ترین علاقے میں ایک ایسا ایئر بیس قائم ہوتا ہے جس میں چین اور پاکستان کی شمولیت ہو، تو یہ حکمت عملی واضح طور پر بھارتی دفاعی حدود کو گھیرنے کی کوشش محسوس ہو سکتی ہے۔
اس سہ فریقی منصوبے سے عالمی سطح پر سفارتی اثرات بھی مرتب ہوں گے۔ امریکہ، جاپان اور آسٹریلیا جیسے ممالک جو "انڈو پیسفک” خطے میں چین کے اثرورسوخ کو محدود کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، وہ بنگلہ دیش پر دباؤ ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان کو بھی امریکہ اور مغربی دنیا کی تنقید کا سامنا ہو سکتا ہے۔
یہ ممکنہ سہ فریقی اتحاد ایک نئے جنوبی ایشیائی طاقت بلاک کی بنیاد رکھ سکتا ہے، جس کا مقصد نہ صرف دفاعی تحفظات ہے بلکہ علاقائی اثرورسوخ کا توازن بھی ہوسکتا ہے۔ اس ایئر بیس کی تعمیر محض عسکری منصوبہ ہی نہیں بلکہ ایک بڑی اسٹریٹجک سوچ کا مظہر بھی ہے، جس میں ہر قدم سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت اٹھایا جا رہا ہے۔
اس پیشرفت کے مضمرات کو صرف دفاعی زاویے سے نہیں بلکہ سفارتی، تاریخی اور جغرافیائی تناظر میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ بھارت کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے اور عالمی طاقتوں کے لیے ایک نیا چیلنج ثابت ہوسکتا ہے۔ اگرچہ ابھی اس منصوبے کی تصدیق مکمل طور پر نہیں ہوئی ہے مگر اس کی گونج خطے کی سیاست میں واضح طور پر سنی جا سکتی ہے۔
*ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی کا تعلق خیبرپختونخوا چترال سے ہے آپ حالات حاضرہ، علم ادب، لسانیات اور تحقیق و تنقیدی موضوعات پر لکھتے ہیں ان سے اس ای میل rachitrali@gmail.com اور واٹس ایپ نمبر 03365114595 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔



