یہ ایک تاریخ ساز اور ناقابل تردید حقیقت ہے کہ امام الانبیائ، سید المرسلین، محسن انسانیت ،رحمت ا للعالمین ،خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی ﷺکے ظہورقدسی سے اک عالم نو طلوع ہوا، انسانیت کی صبح سعادت کا آغاز ہوا اور ایک ایسا انقلاب رونما ہوا، جس نے انسانی عزت و وقار بحال کرکے دنیا میں امن و سلامتی کو عام کیا، تو انسانیت کو توحید کے نور سے منور کرکے کفر و شرک، ظلمت و جہالت کے اندھیروں، تاریکیوں کو دور کردیا، ظلم و جبر کی چکی میں پسنے والے انسانوں کو مساوات اور عدل کی نعمت بخشی، طبقاتی تقسیم کے شکار معاشرے کو اخوت، بھائی چارے اور ہمدردی کے رشتوں میں جوڑا، اور سب سے بڑھ کر انسان کو انسانیت کا احترام سکھایا۔
آپ ﷺسے پہلے آنے والے تمام نبیوں نے اپنی امتوں کو قافلہ انسانی کے ایسے قائد کی حیثیت سے آپ ﷺکی آمد کی بشارت دی جس کی قیادت و سیادت زمان و مکان کی قید سے بالاتر ہوگی۔ پچھلی تمام آسمانی کتابوں میں آخری نبی کی حیثیت سے آپ ﷺکی آمد کی خبر دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ آپ کے ہاتھوں دنیا میں وہ انقلاب برپا ہوگا جس کے نتیجے میں انسان پر سے انسان اور اس کے تراشے ہوئے جھوٹے خداﺅں کی خدائی کا مکمل خاتمہ ہوجائے گا۔ اور دنیانے دیکھا کہ منصب رسالت پر فائز ہونے کے بعد آپ ﷺنے تن تنہا لا اِلٰہ الا اللہ کی صدا بلند کرکے مکہ مکرمہ کی بے آب و گیاہ سرزمین کے باسی لوگوں سے کہا ”یہ ایک کلمہ اگر تم مجھ سے قبول کرلو تو اس کے ذریعے سے تم سارے عرب کو زیر نگیں کرلوگے اور سارا عجم تمہارے پیچھے چلے گا “۔ اور اس ہستی کی محض سوا دو عشروں کی جدوجہد کے نتیجے میں پورا عرب سینکڑوں جھوٹے خداﺅں کے سامنے سر جھکانے کی ذلت سے آزاد ہو کرکائنات کے حقیقی فرماں روا کے دامن رحمت سے وابستہ ہوگیا جبکہ روم و ایران جیسی اپنے وقت کی سپرپاورزبھی،جہاںانسان اپنے جیسے انسانوںکے خدا بنے بیٹھے تھے۔
نبی عربی ﷺکے فرمان کے عین مطابق کلمہ لا اِلٰہ الااللہ کے مقابلے میں سرنگوں ہوگئیں۔ عہد نبوی ﷺاور خلافت راشدہ پر مشتمل انسانی تاریخ کے اس مبارک ترین دور میں زندگی کا ہر شعبہ جہل کی گرفت سے نکل کر علم کی روشنی سے منور ہوا۔ امیر و غریب، طاقتور اور کمزور سب یکساں طور پر قانون الٰہی کے تابع قرار پائے۔
تمام مسلمان اللہ تعالیٰ کے آخری نبی حضرت محمد ﷺکے یوم ولادت پر اپنے اپنے انداز میں اظہار مسرت کرتے اور سجدہ شکر بجا لاتے ہیں کہ خالق کائنات نے سرور کونین، جیسی شفیق اور رحیم ہستی کو محسن انسانیت اور مجسم رحمت و شفقت بنا کر دنیا میں مبعوث فرمایا اور ہمیں ان کا امتی ہونے کا شرف عظیم بخشا۔ اس عنایت بے پایاں پر جتنا بھی شکر بجا لایا جائے اور جتنی بھی خوشی منائی جائے، کم ہے اور ”حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا“ کی کیفیت دل و دماغ پر طاری رہتی ہے۔ بہرحال اظہار مسرت اور ادائیگی شکر کا بہترین طریقہ وہی ہے جس کی تعلیم ختم المرسلین سیدنا محمدﷺ نے خود اپنے پیروکاروں کو دی اور جس پر آپ ﷺکے صحابہ کرام ؓنے عمل کر کے امت کی رہنمائی کی۔
کیونکہ خود مالک الملک کا یہ حکم قیامت تک آنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہدایت قرآن مجید، فرقان حمید میں درج کر دیا گیا ہے کہ: ”تمہارے لیے رسول اللہ ﷺکی ذات و برکات میں بہترین نمونہ ہے“۔ جہاں تک آپ ﷺکی عظمت اور شان کا تعلق ہے تو اس فرمان ربانی کے بعد کیا گنجائش باقی رہ جاتی ہے کہ ”اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے نبی مکرم پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو“۔ ہر مسلمان کا یہ پختہ عقیدہ ہے اور اس میں یقینا دو آراءکی گنجائش نہیں۔سرور کائنات، ختم المرسلین، محمدرسول اللہ کی ولادت با سعادت اور بعثت بلاشبہ خالق کائنات، مالک ارض و سما کا بنی نوع انسان پر عظیم ترین احسان اور تاریخ انسانی کا منفرد واقعہ ہے اور اسلام کے نام سے جو کامل و اکمل نظام حیات آپ ﷺنے انسانیت کو عطا فرمایا اور خود اس پر عمل کر کے بنی آدم کو دنیا و آخرت کی فلاح کا راستہ دکھایا۔ وہ بھی یقینا بہترین ہے اور انسان کو عروج و سربلندی کی منازل سے روشناس کرانے کا ضامن ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ اس قدر عالی مرتبت پیغمبرﷺسے وابستگی اور کامیابی و کامرانی کا نسخہ کیمیا رکھنے کے باوجود آج مسلمان دنیا بھر میں زوال آشنا اور ذلیل و رسوا کیوں ہیں؟ جواب بہت سادہ اور واضح ہے کہ مسلمان اپنے پیغمبر آخر الزمان سے وابستگی کا دم تو بھرتے ہیں بلکہ وہ اس عظیم ہستی سے عشق کے دعوے کرتے نہیں تھکتے مگر عملاً وہ ان کی تعلیمات سے قطعی بے گانہ ہو چکے ہیں بقول شخصے مسلمان اللہ تعالیٰ کو تو مانتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی نہیں مانتے گویا قول و فعل کا تضاد مسلمانوں میں عام ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کا واضح حکم قرآن میں موجود ہے کہ ”وہ بات کیوں کہتے ہو، جو کرتے نہیں۔ اللہ تعالیٰ کو یہ بات سخت ناپسند ہے کہ تم وہ بات کہو جو کرتے نہیں“۔
اسلامی تعلیمات اور قرآن و سنت سے روگردانی ہی وہ بنیادی سبب ہے جو آج مسلمانان عالم کی ذلت و رسوائی کا باعث ہے۔ عالمی سطح سے لے کر گلی محلے کی مسجد کے محراب و منبر تک مسلمان گروہ بندیوں کے شکار اور تقسیم در تقسیم سے دو چار ہیں۔ بین الاقوامی طور پر اگر آج کے جدید دور میں بھی ہم عرب و عجم کے تعصب کو حرز جاں بنائے ہوئے ہیں تو مقامی سطح پر مساجد جنہیں امت کے اتحاد و اتفاق کا مرکز ہونا چاہیے اور یہاں سے مسلمانوں کو ”بنیان مرصوص“ بن کر رہنے کا درس ملنا چاہیے اور قرآن کے حکم ”ولا تفرقو“ آپس میں فرقے فرقے نہ ہو جانا، کی عملی تصویر یہاں سے ابھرنی چاہیے مگر یہی مساجد آج مسلمانوں میں انتشار و افتراق کے مراکز بن چکی ہیں۔ جن مساجد کو اللہ تعالیٰ کا گھر قرار دیا گیا ہے وہ مساجد آج فرقہ واریت کی گڑھ بن چکی ہیں، اللہ تعالیٰ نے تو ہمارا نام ”مسلمان“ رکھا تھا مگر آج ہم اس نام کو مکمل طور پر فراموش کر کے فرقہ در فرقہ اپنی شناخت پر فخر کو اپنا وتیرہ بنا چکے ہیں۔جن مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنے کا حکم دیا گیا تھا، وہ آج نہ جانے کن کن تعصبات کے شکار ہو چکے ہیں، قبائلی عصبیت، ذات برادری، علاقائیت، لسانیت فرقہ واریت اور طبقاتی گروہ بندیوں سمیت وہ کو ن سی تقسیم ہے جو مسلمان معاشروں میں موجود نہیں۔عام طور پر مغرب کے افکار سے متاثر ہمارے بالادست طبقے اور حکمرانوں کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں کے زوال اور ذلت و پستی کی بڑی وجہ ان کا مادی میدان میں پیچھے رہ جانا ہے اول تو اس مادی پسماندگی کا بڑا سبب بھی ہمارے با اختیار لوگوں کی مادہ پرستی، بدعنوانی، عیش کوشی اور ان کی دیکھا دیکھی باقی معاشرے میں بھی دولت کی اندھی ہوس، رشوت، سفارش، اقرباپروری اور کرپشن کا رواج پا جانا ہے اور حکمرانوں کا ان کو روکنے کے لیے موثر اقدامات کرنے کے بجائے ان کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی کرتا ہے۔
ملت اسلامیہ کے مرض کہن کا چارہ اور موجودہ زبوں حالی، زوال، پسماندگی، درماندگی اور ذلت و رسوائی سے نجات کا واحد راستہ آج بھی یہی ہے کہ مسلمان اپنے خالق و مالک کے حضور سربسجود ہو کر اپنے موجودہ طرز عمل پر شرمساری کا اظہار کرتے ہوئے صدق دل سے توبہ کریں اور اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب قرآن مجید، فرقان حمید کی تعلیمات اور رسول اکرمﷺکے اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہوں۔
آج کی سب سے بڑی ضرورت اتحاد امت ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہمارا باہمی انتشار ہی دشمن کی سب سے بڑی طاقت ہے، اگر ہم متحد ہوجائیں، اپنی صفوں سے منافقت، کرپشن اور ناانصافی کو ختم کردیں، تعلیمی اور سائنسی میدان میں ترقی کریں، تو کوئی طاقت ہمیں دنیا میں بدنام نہیں کرسکتی۔ یاد رکھیے کہ رسول اکرمﷺ نے مسلمانوں کو اخوت اور بھائی چارے کی تلقین کی تھی۔آپ ﷺنے فرمایا کہ ”مسلمان آپس میں ایک جسم کی مانند ہیں“یہ وہ بنیاد ہے جو امت کو دوبارہ زندہ کرسکتی ہے۔محسن انسانیت کی سیرت کی روشنی میں اگر عالمی امن کے قیام کی کاوشیں کی جائیں تو مظلوم اور دکھی انسانیت کے دکھوں میں کمی آسکتی ہے۔ دنیا کو یہ پیغام دیا جائے کہ اسلام تلوار کا نہیں، امن کا دین ہے۔ امت مسلمہ کو چاہیے کہ اپنے تعلیمی اداروں، میڈیا اور سفارتی ذرایع کے ذریعے اس پیغام کو عام کرے۔ہمیں چاہیے کہ اپنے عملی اقدامات کے ذریعے ثابت کریں کہ مسلمان جہاں بھی ہیں، وہاں امن، محبت اور خیر کا چراغ روشن ہوتا ہے۔
دنیا کو امن کی ضرورت ہے اور انسانیت کو رہنمائی کی تلاش ہے یہ رہنمائی کسی فلسفی، کسی مفکر یا کسی عالمی طاقت سے نہیں بلکہ اس ہستی سے مل سکتی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ”رحمت اللعالمین“بنا کر بھیجا، اگر دنیا اس رحمت کو اپنا لے تو بھوک اور غربت کے بادل چھٹ سکتے ہیں، جنگوں کی آگ بجھ سکتی ہے، دربدری اور ہجرت کے دکھ ختم ہوسکتے ہیں اور انسانیت سکھ اور چین کا سانس لے سکتی ہے۔آئیے ربیع الاول کے اس عظیم مہینے میں ہم سچے دل سے توبہ اور آئندہ کے لیے عہد کریں کہ:۔
کی محمدﷺسے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں۔



