اسلام آباد(ویب ڈیسک )جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اگر مسلم حکمران متحد نہ ہوئے تو وہ عالمی طاقتوں کے ہاتھوں استعمال ہوتے رہیں گے اور اپنے وسائل سے بھی محروم ہو جائیں گے۔
یہ بات انہوں نے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کی قیادت میں آنے والے اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کے دوران کہی، جس میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اور اس کے اثرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران ایرانی سفیر نے کہا کہ وہ ایران-امریکہ تنازع پر مولانا فضل الرحمان کے واضح مؤقف پر ایرانی قوم کی جانب سے شکریہ ادا کرنے آئے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی میزبانی ایک اعزاز ہے، اور جنگ بندی کے ساتھ مستقل امن کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی بلاک کا قیام جمعیت علمائے اسلام کے منشور کا حصہ ہے، اور موجودہ حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ مسلم دنیا کے حکمران اتحاد کا مظاہرہ کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسلامی ممالک کی خودمختاری کا احترام اور فلسطین کی آزادی کو ترجیح دی جانی چاہیے، جبکہ بیت المقدس کا تحفظ ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے زور دیا کہ مسلم امہ کو باہمی اتحاد کے ذریعے اپنے مسائل حل کرنے ہوں گے تاکہ وہ عالمی سطح پر ایک مضبوط قوت کے طور پر ابھر سکے۔
اس موقع پر ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مولانا فضل الرحمان کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام پاکستان اور اس کی مذہبی و عوامی قیادت کے حمایت بھرے مؤقف کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
انہوں نے پاکستانی عوام، علما اور مختلف مکاتب فکر کے متوازن اور اصولی مؤقف کو سراہتے ہوئے اسے قابل تحسین قرار دیا۔



