بلاگپاکستانتازہ ترینتعلیم/ادبکالم

سمندروں کے محافظ، علم کے بھی نگہبان

عقیل انجم اعوان

پاکستان کی مسلح افواج کا ذکر آتے ہی ذہن میں سرحدوں کا دفاع، دشمن کے عزائم ناکام بنانا اور قومی سلامتی کا تصور ابھرتا ہے۔ لیکن جب یہی ادارے ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ قلم کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھنے لگیں تو یہ صرف ایک ادارے کی کامیابی نہیں بلکہ پوری قوم کے مستقبل کی ضمانت بن جاتا ہے۔ پاکستان نیوی اس کی ایک روشن مثال ہے جس نے سمندروں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ تعلیم کے میدان میں بھی ایسا کردار ادا کیا ہے جس پر ہر پاکستانی فخر کر سکتا ہے۔
گزشتہ دنوں مجھے بحریہ یونیورسٹی لاہور کیمپس کا دورہ کرنے کا موقع ملا۔ اس دوران یونیورسٹی کے ڈائریکٹر ، شعبۂ نفسیات کے ڈین اور کمپیوٹر سائنس کے سربراہ سے تفصیلی ملاقات ہوئی۔ یہ صرف ایک رسمی ملاقات نہیں تھی بلکہ اس کے ذریعے یہ جاننے کا موقع ملا کہ پاک بحریہ نے آخر کیوں ایک تعلیمی ادارہ قائم کیا، اس کا وژن کیا تھا اور آج یہ ادارہ کس طرح ہزاروں نوجوانوں کے مستقبل کو سنوار رہا ہے۔
بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ بحریہ یونیورسٹی کا تصور صرف ایک یونیورسٹی قائم کرنا نہیں تھا بلکہ ایک ایسی قومی درسگاہ بنانا تھا جو پاکستان کو علم، تحقیق، ٹیکنالوجی اور قیادت کے میدان میں مضبوط بنا سکے۔ اسی سوچ کے تحت پاکستان نیوی نے 2000ء میں بحریہ یونیورسٹی قائم کی جو آج ایک وفاقی چارٹر یافتہ پبلک سیکٹر یونیورسٹی کی حیثیت رکھتی ہے۔
اس سے پہلے پاکستان نیوی نے اپنے اہلکاروں کے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے لیے تعلیمی ادارے قائم کیے تھے مگر وقت کے ساتھ یہ احساس پیدا ہوا کہ ملک کو عالمی معیار کی اعلیٰ تعلیم فراہم کرنے والے اداروں کی بھی ضرورت ہے۔ چنانچہ بحریہ یونیورسٹی وجود میں آئی جس کا مقصد صرف نیوی کے خاندانوں تک محدود نہیں بلکہ پورے پاکستان کے نوجوانوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنا تھا۔
یہ حقیقت قابلِ تعریف ہے کہ پاکستان نیوی نے تعلیم کو قومی سلامتی کا حصہ سمجھا۔ جدید دنیا میں جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ علم، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، تحقیق اور ٹیکنالوجی سے بھی جیتی جاتی ہیں۔ اسی لیے بحریہ یونیورسٹی کے قیام کا مقصد ایسے نوجوان تیار کرنا تھا جو مستقبل کی دنیا میں پاکستان کی نمائندگی کر سکیں۔
لاہور کیمپس میں داخل ہوتے ہی ایک منظم، پُرسکون اور تعلیمی ماحول محسوس ہوتا ہے۔ کلاس رومز، کمپیوٹر لیبارٹریاں، نفسیاتی تحقیق کے مراکز، لائبریری اور طلبہ کے لیے فراہم کی جانے والی سہولتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہاں صرف ڈگری نہیں بلکہ شخصیت سازی پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔
دورے کے دوران شعبۂ نفسیات کے حوالے سے معلوم ہوا کہ آج کے دور میں ذہنی صحت ایک بڑا عالمی مسئلہ بن چکی ہے۔ ایسے میں بحریہ یونیورسٹی ایسے ماہرین تیار کر رہی ہے جو صرف مریضوں کا علاج ہی نہیں بلکہ معاشرے میں ذہنی صحت کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے میں بھی کردار ادا کریں گے۔
اسی طرح کمپیوٹر سائنس کے شعبے میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence)، کمپیوٹر سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے جدید مضامین پڑھائے جا رہے ہیں تاکہ پاکستانی نوجوان چوتھے صنعتی انقلاب کے تقاضوں کے مطابق خود کو تیار کر سکیں۔ جدید لیبارٹریوں، تحقیق اور صنعت سے روابط کے ذریعے طلبہ کو عملی دنیا کے لیے بھی تیار کیا جا رہا ہے۔
بحریہ یونیورسٹی لاہور کیمپس اس وقت متعدد جدید ڈگری پروگرامز آفر کر رہی ہے۔ ان میں کمپیوٹر سائنس کے شعبے میں ایسوسی ایٹ ڈگری ان کمپیوٹر سائنس، بی ایس کمپیوٹر سائنس، بی ایس انفارمیشن ٹیکنالوجی اور بی ایس آرٹیفیشل انٹیلی جنس شامل ہیں۔ مینجمنٹ سائنسز میں بی ایس بزنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی، بی ایس بزنس اینالیٹکس جیسے پروگرامز موجود ہیں جبکہ شعبۂ نفسیات میں بی ایس سائیکالوجی کے ساتھ ساتھ بعض گریجویٹ پروگرام بھی پیش کیے جا رہے ہیں۔
تعلیم صرف نصابی کتابوں تک محدود نہیں ہوتی بلکہ کردار سازی، نظم و ضبط، تحقیق، برداشت، قیادت اور قومی خدمت کا جذبہ بھی اس کا حصہ ہے۔ یہی وہ اقدار ہیں جنہیں بحریہ یونیورسٹی اپنے طلبہ میں پروان چڑھانے کی کوشش کرتی ہے۔
پاکستان نیوی کی بنیادی ذمہ داری ملکی سمندری سرحدوں کا دفاع، سمندری تجارت کے راستوں کا تحفظ، قدرتی وسائل کی حفاظت اور بحری سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ لیکن بحریہ یونیورسٹی اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ پاکستان نیوی نے اپنے کردار کو صرف سمندر تک محدود نہیں رکھا بلکہ قوم کے علمی مستقبل کی تعمیر کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھا۔
یہ ادارہ اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ مضبوط قومیں صرف مضبوط افواج سے نہیں بلکہ مضبوط جامعات سے بھی بنتی ہیں۔ اگر یونیورسٹیاں تحقیق کریں، نوجوان جدید علوم حاصل کریں اور صنعت کے ساتھ مل کر جدت پیدا کریں تو یہی طلبہ مستقبل میں ملکی معیشت، دفاع اور ٹیکنالوجی کو نئی بلندیوں تک لے جاتے ہیں۔
بحریہ یونیورسٹی کی قیادت کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد ایسے گریجویٹس تیار کرنا ہے جو عالمی معیار کی مہارت، اعلیٰ اخلاقی اقدار اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ساتھ پاکستان کی خدمت کریں۔ یہی وژن اس ادارے کی تعلیمی پالیسی میں نمایاں نظر آتا ہے۔
آج جب پاکستان نوجوان آبادی کے حوالے سے دنیا کے اہم ممالک میں شمار ہوتا ہے تو معیاری جامعات کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ اگر نوجوانوں کو جدید تعلیم، تحقیق، اختراع اور ٹیکنالوجی کے مواقع فراہم کیے جائیں تو یہی نوجوان ملک کی سب سے بڑی طاقت بن سکتے ہیں۔
بحریہ یونیورسٹی اسی قومی ضرورت کو پورا کرنے کی ایک کامیاب کوشش ہے۔ یہاں تعلیم کو صرف روزگار کے حصول کا ذریعہ نہیں بلکہ قومی ترقی، سماجی خدمت اور عالمی مسابقت کے لیے ایک سرمایہ سمجھا جاتا ہے۔
لاہور کیمپس کے دورے کے بعد یہ احساس مزید مضبوط ہوا کہ پاکستان نیوی واقعی صرف سمندروں کی محافظ نہیں رہی بلکہ علم کی بھی محافظ بن چکی ہے۔ ساحلوں کی حفاظت کرنے والے یہی سپاہی آج نوجوانوں کے ذہنوں کو بھی روشن کر رہے ہیں۔ ان کے قائم کردہ تعلیمی ادارے اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ایک مضبوط پاکستان کی بنیاد صرف مضبوط دفاع پر نہیں بلکہ مضبوط تعلیم پر بھی استوار ہوتی ہے۔
اگر پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہونا ہے تو ہمیں ایسے اداروں کی سرپرستی کرنا ہوگی جو تحقیق، جدت، ٹیکنالوجی اور کردار سازی کو یکجا کرتے ہوں۔ بحریہ یونیورسٹی اس سمت میں ایک روشن مثال ہے۔ یہاں سے فارغ التحصیل ہونے والے نوجوان صرف ڈگری ہولڈر نہیں بلکہ مستقبل کے سائنس دان، ماہرینِ نفسیات، آئی ٹی پروفیشنلز، کاروباری رہنما اور قومی خدمت کے جذبے سے سرشار شہری بن کر نکلتے ہیں۔
پاک بحریہ نے اپنے فرائض کی حدود کو وسیع کرتے ہوئے ایک ایسا تعلیمی مشن شروع کیا ہے جس کے اثرات آنے والی کئی نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ سمندروں کی حفاظت سے لے کر ذہنوں کی آبیاری تک کا یہ سفر اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ قوموں کی اصل طاقت صرف ان کے جنگی جہاز نہیں بلکہ ان کے تعلیمی ادارے بھی ہوتے ہیں۔ اور جب ایک بحری قوت تعلیم کی سرپرست بن جائے تو یقیناً قوم کا مستقبل زیادہ محفوظ، روشن اور باوقار ہو جاتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button