پانی پرچلنا یا ہوا میں اڑنا کوئی کرامت نہیں،زبردستی عزت کروانا کوئی کمال نہیں،پیسہ خرچ کرکے معروف بننا کونسی بڑی بات ۔۔۔۔ کرامت کیا ہے۔۔۔۔؟ صرف اور صرف انسان بننا۔
جب سے پڑھا ہے نصرت بھٹو،بے نظیر بھٹو،کلثوم نواز،مریم نواز،ملالہ یوسف زئی ،فہمیدہ مرزا ہمارے بچوں کی ’’زبردستی‘‘ رول ماڈل ہونگی،سکتے میں آگیا ہوں،چکرا گیا ہوں،چلو اگر اکیلا ماڈلز لکھا ہوتا،صبر،شکر کرلیتا،جیسے چاہت فتح علی خان،متھیرا کوقبول کرلیا ،انہیں بھی قبول کرلیتے،لیکن ماڈل کے ساتھ رول بھی لکھ دیا۔
حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں
چند روز پہلے لکھا تھا ’’شوہدا‘‘ کا لفظ شاید دوخاندانون کی وجہ سے تخلیق کیا گیا تھا،اب میرے کالم پرتصدیق کی مہرلگ گئی ہے۔۔۔اب بچےان ’’عظیم خواتین ‘‘ کوتسلیم کئے بغیر میٹرک نہیں کرسکیں گے،ملالہ،فہمیدا کو تو صرف کچھ نہ کچھ بیلنس کرنے کیلئے ڈالا گیا،اصل ٹارگٹ تواہم سیاسی شخصیت کومطالعہ پاکستان کوحصہ بنانا تھا۔محکمہ تعلیم کو چاہیے تھاالگ سے ایک مضمون شامل کرلیتے ’’ سب کی ماں‘‘ ۔۔۔
ماں کیا ہوتی ہے ۔۔۔۔ ؟ سنو۔۔۔!! ’’ماں‘‘ توڈاکٹرروتھ فاؤ تھیں،یادہےآپکو۔۔۔ چھ دہائیوں قبل پاکستان میں جذام یا کوڑھ کے مریضوں کی حالت دگرگوں تھی، اس بیماری کو ’’لاعلاج‘‘ اور’’خدا کا عذاب‘‘ سمجھا جاتا تھا، لوگ سگے رشتے بھلا دیتے تھے،والدین اس مرض میں مبتلا اپنی سگی اولاد اور بچے ماں باپ کو پیٹھ پر بٹھا کر شہر سے باہر ویرانے میں چھوڑ آتے تھے،جذام کے مریضوں کی الگ بستیاں آباد تھیں جہاں کوڑھ میں مبتلا ہزاروں مریض غیر انسانی زندگی گزارنے پر مجبور تھے،غلاظت اور گندگی کے بیچوں بیچ جھونپڑیوں میں آباد یہ لوگ بجلی، پانی اور علاج کی بنیادی سہولتوں سے محروم تھے،ان کے جسم سے بہتا خون اور زخموں سے رِستی پیپ چوہوں کی غذا بنتی تھی۔۔۔۔ پھر،جرمنی سے تعلق رکھنے والی تیس سالہ ڈاکٹرروتھ نے جذام کے مریضوں کی حالت زار دیکھ کر اپنی بقیہ تمام تر زندگی دھتکارے اور ٹھکرائے ہوئے مریضوں میں گزاردی۔
رول ماڈل تو ڈاکٹرروتھ فاؤ جیسی خواتین ہوتی ہیں،ہمارے بچوں کی رول ماڈلزتو ام المومنین حضرت خدیجہ ،حضرت عائشہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہا اورحضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہیں،انہیں نصاب میں شامل کیوں نہیں کیا جاتا ۔۔۔ ؟ یہ تورول ماڈلز خواتین کا نیا مضمون شامل ہواہے،اسکے ساتھ مردوں کو شامل بھی کردیتے،جس میں بلاول بھٹو زرداری،ذوالفقار جونیئر،حسین نواز،حمزہ شہباز،اخترلاوا،گلوبٹ وغیرہ وغیرہ شامل ہوتے۔
ایک دانا شخص کو بتایا گیا۔۔۔!
فلاں شخص پانی پر چل سکتا ہے۔۔۔۔
انہوں نے جواب دیا۔۔
یہ کوئی بڑی بات نہیں، لکڑی بھی پانی پرتیرسکتی ہے۔۔۔
پھرکہا گیا۔۔۔!
فلاں شخص اڑسکتا ہے۔۔۔
انہوں نے جواب دیا۔۔۔
یہ بھی کوئی بڑی بات نہیں، مکھی بھی اڑ سکتی ہے۔۔۔
پھران سے پوچھا گیا۔۔۔
تو پھرمعجزہ کیا ہے؟
انہوں نے فرمایا۔۔۔!!
معجزہ یہ ہے کہ تم لوگوں کے درمیان چلواوران کے ظلم و تکلیف کو برداشت کرو،لیکن اپنی اخلاقی اقدار کو نہ کھوؤ۔۔۔جھوٹ نہ بولو،چوری نہ کرو،خیانت نہ کرو،دھوکہ نہ دو،غیبت نہ کرو،کسی کا دل نہ توڑو،لوگوں کی زندگیوں میں مداخلت نہ کرواور ان کے گھروں کے معاملات میں دخل اندازی نہ کرو۔۔
’’حقیقی معجزہ یہ ہے کہ تم انسان بن جاؤ‘‘
بلقیس ایدھی کے بارے میں تو میرے پاس الفاظ ہی نہیں،کچھ ان کے بارے لکھ سکوں،یہ ’’رول ماڈلز‘‘ تو انکے پاؤں کی دھول جیسی بھی نہیں ہیں۔۔۔۔ان سے تو بابرہ شریف بہتر ہے،میں بہت سارے واقعات کو جانتا ہوں جس طرح اس نے کئی افراد کی مدد کی تھی۔۔۔ اوریہ لوگ ،قوم کے پیسوں پر پلنےوالے ۔۔۔۔ ایک پاکستانی گلوکارہ کی کہانی پڑھ لیں۔۔۔2022 کی بات ہے،بلوچستان میں سیلاب آگیا،کئی گاؤں صفحہ ہستی سے مٹ گئے،بہت ساری ہلاکتیں ہوئیں،مال مویشی سب پانی میں بہہ گئے،ظاہر ہےایسی آفتیں غریبوں پرہی ٹوٹتی ہیں،لوگ بے یارومددگارسڑکوں پر بیٹھے تھے،وہ گلوکارہ وہاں جاتی ہیں، ادویات، طبی سامان، پانی، خوراک، كپڑے اور راشن كے ساتھ ساتھ بچوں كے لیے كچھ تحائف متاثرین كو عطیہ کرتی ہیں۔۔۔خیال آتاہے،یہ لوگ تو بے گھرہوچکے،غریب ہیں،جو کچھ ان کے پاس تھا وہ تو پانی کی نذر ہوچکا،اب گھر کیسے بنائیں گے۔۔۔وہاں اعلان کیا کہ وہ سو گھر بنا کر دے گی،اپنی جیب سے،سرکاری خزانے سے نہیں ۔۔۔ بس،اللہ کا نام لیکر کام شروع کیا،سو گھر مقررہ مدت میں مکمل کرلئے،اورسوخاندانوں کوچھت فراہم کردی۔۔۔ اللہ تعالیٰ نیتوں کوپھل دیتا ہے،انہوں نے کام جاری رکھا،مزید 100گھرتعمیر کرکے سوخاندان بسا دیئے،وہ یہاں بھی نہیں رکیں،انسانی خدمت کا جذبہ انہیں مزید کام کرنے پر مجبور کرتا رہا،مزید سو گھر بنا دیئے،اس طرح تین سو خاندان کو چھت فراہم کردی۔۔۔۔لیکن دل ابھی اور چاہتا تھا،ستر گھراورتعمیر کردیئے۔۔۔370 ہوگئے،یہ گھرگاؤں تمبواورکنڈی میں تعمیر کئے گئے، ان دوگاؤں میں دو مساجد،ایک سکول، دو زچکی سینٹر اور ایک گروسری سٹوربنوادیا۔۔۔یہ رول ماڈل بتائیں۔۔۔! کبھی اپنی جیب سے کسی کو کھانا بھی کھلایا ہو۔۔۔؟۔۔۔۔حقیقت ہے،ان رول ماڈلز سے حدیقہ کیانی لاکھ درجہ بہتر ہے،جس نے 370خاندانوں کوچھت فراہم کردی تھی۔۔



